میرپورخاص میں ہاسٹل کی گلی سے ملی طالبہ کی لاش معمہ بن گئی

نامہ نگار  اتوار 18 مارچ 2018
چوکیدار اور 2 سہیلیاں زیر حراست، تفتیش شروع۔ فوٹو: فائل

چوکیدار اور 2 سہیلیاں زیر حراست، تفتیش شروع۔ فوٹو: فائل

میرپورخاص: میرپورخاص میں نجی میڈیکل کالج کی طالبہ کی ہاسٹل کی گلی سے ملنے والی لاش پولیس کے لیے معمہ بن گئی۔

میرپورخاص کے علاقے ڈھولن آباد میں واقع گرلز ہاسٹل کی گلی سے پولیس نے مقامی افراد کی نشاندہی پر نوجوان لڑکی کی لاش تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کی جہاں اس کی شناخت 28 سالہ زہرش بنت ذوالفقار انصاری کے نام سے کی گئی جو میرپورخاص کے ہی نجی ڈینٹل میڈیکل کالج میں فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی۔

پولیس کے مطابق زہرش کے موبائل فون سے علی الصباح چوکیدار کے موبائل فون  پر کال بھی کی گئی تھی جس کے بعد ہاسٹل کے چوکیدار عبدالرحمان، ہاسٹل میں رہائش پذیر زہرش کی 2 سہیلیوں فوزیہ اور آسیہ کوحراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔

پولیس کے مطابق زہرش کے جسم پر چھلانگ لگانے کے بعد زمین پر گرنے کے نشانات موجود نہیں۔ لاش گلی کی نالی میں پڑی ہوئی تھی تاہم پوسٹمارٹم رپورٹ کے بعد صورتحال مزید واضح ہوجائے گی۔

دوسری  جانب کالج کے ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ ایچ آر الطاف حسین نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زہرش خانپور پنجاب کی رہائشی  تھی جس کے قریبی رشتے دار یوسف میرپورخاص کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہائش پذیر ہیں۔

زہرش چند روز سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی جس کا کالج کی انتظامیہ نے ماہر نفسیات سے مختلف اوقات میں چیک اپ بھی کروایا اور طبیعت نہ سنبھلنے پر کچھ روز کے لیے  یوسف کے گھر بھیج دیا تھا لیکن دو روز قبل ہی زہرش نے اپنے رشتے دار سے ہاسٹل بھیجنے کی ضد کی تو یوسف  اسے ہاسٹل چھوڑ کر چلے گئے تھے اور پھر صبح اطلاع ملی کہ زہرش کی لاش ہاسٹل کے عقبی حصے کی گلی میں پڑی ہے۔ اس حوالے سے کالج انتظامیہ بھی تفتیش کررہی ہے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔