کراچی میں فیکٹری سے کروڑوں کا گٹگا برآمد

اسٹاف رپورٹر  اتوار 18 مارچ 2018
سائٹ پولیس نے فیکٹری مالک اور4ملازمین گرفتارکرلیے،مضرصحت اشیااور کیمیکل ضبط،گٹکافیکٹری سیل کردی گئی۔ فوٹو: ایکسپریس

سائٹ پولیس نے فیکٹری مالک اور4ملازمین گرفتارکرلیے،مضرصحت اشیااور کیمیکل ضبط،گٹکافیکٹری سیل کردی گئی۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی: کراچی میں گٹکا، مین پوری اور ماوا کے خلاف کی جانے والی پولیس کی بڑی کارروائی کے دوران سائٹ صنعتی ایریا میں گٹکا بنانے والی فیکٹری سے کروڑوں روپے کا مضر صحت خام مال، کیمیکل اور سامان برآمد کرلیا گیا ہے۔

سائٹ بی پولیس نے غنی چورنگی کے قریب گٹکے کی فیکٹری پرچھاپہ مارکر کروڑوں روپے مالیت کا گٹکا اور مضر صحت خام مال اور کیمیکل برآمد کر کے مشینری ضبط کرلی ہے فیکٹری میں تیار کیا جانے والا جعلی برانڈ کا گٹکا کراچی اندرون سندھ کے علاقوں اور پورے ملک میں سپلائی کیا جاتا تھا انڈین گٹکا برانڈ ’’رجنی‘‘ کے نام پر جعلی گٹکا بڑے پیمانے پر سائٹ کی اس فیکٹری میں تیار کیا جارہا تھا۔

ایس پی سائٹ ڈویژن آصف بھگیو نے بتایا ہے کہ پولیس کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ سائٹ کے ایک گٹکا کارخانے میں بڑے پیمانے پر گٹکا تیار کیا جارہا ہے جس پر مشتبہ مقامات کی خفیہ نگرانی شروع کی گئی، اس دوران پولیس کو غنی چورنگی سے سیمنز چورنگی کے درمیان گٹکا فیکٹری کا سراغ ملا جس پر پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ چھاپہ مارا گیا تو گٹکا فیکٹری میں بڑے پیمانے پر گٹکے کی تیاری اور پیکنگ کا عمل جاری تھا درجنوں ملازمین گٹکے کی تیاری اور پیکنگ میں مصروف رہتے تھے۔

آصف بگھیو کا کہنا تھا کہ مذکورہ گٹکا فیکٹری ایک کمپنی سے ملحق شیڈ کو کرایے پر لے کر قائم کی گئی تھی جہاں کئی پیکنگ مشینیں بھی لگائی گئی تھیں برآمد کیا جانے والا تیارگٹکا ، خام مال اور مشینری کی قیمت کروڑوں روپے ہے گٹکا کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں یہ سب سے بڑی پولیس کارروائی ہے۔

سائٹ بی تھانے کے ایڈیشنل ایس ایچ او سب انسپکٹر ضمیر احمد نے بتایا ہے کہ گٹکا فیکٹری میں انڈین ’’رجنی‘‘ گٹکے کی جعلی نقل تیار کی جاتی تھی مضر صحت گٹکا کراچی سمیت اندرون سندھ اور پورے ملک کو سپلائی کیا جاتا تھا۔ پولیس نے فیکٹری کے مالک انور حسین اور 4 ملزمان محمد آصف ، الیاس ، شبیر اور علی کو گرفتار کرکے تمام اشیا کو ضبط کرکے گٹکا فیکٹری سیل کر دی ہے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔