فٹ پاتھ اسکول کے بچوں کو جگہ و دیگر سہولتیں فراہم کرنے کا حکم

اسٹاف رپورٹر  اتوار 18 مارچ 2018
سیکڑوں بچوں کو پڑھارہی ہوں، کچھ لوگ آئے اور مجھ سے بدتمیزی کی، انفاس شاہ ، این جی او کی سربراہ عدالت میں روپڑیں۔ فوٹو: فائل

سیکڑوں بچوں کو پڑھارہی ہوں، کچھ لوگ آئے اور مجھ سے بدتمیزی کی، انفاس شاہ ، این جی او کی سربراہ عدالت میں روپڑیں۔ فوٹو: فائل

کراچی: سپریم کورٹ نے کلفٹن میں فٹ پاتھ اسکول کے بچوں کو پڑھانے کیلیے مناسب جگہ ،پانی سمیت دیگر سہولتیں فراہم کرنے اور سیکریٹری تعلیم کو31مارچ تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بینچ کے روبرو کلفٹن فٹ پاتھ اسکول کے بچوںکوفٹ پاتھ پرپڑھانے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے سیکریٹری تعلیم اسکول ایجوکیشن اقبال درانی سے استفسار کیا کہ آپ کوذاتی حیثیت میں اسکول کا دورہ کرنے کا کہا تھا؟ سیکریٹری تعلیم اقبال درانی نے کہا کہ پیر کو خود فٹ پاتھ اسکول کا دورہ کیا، فٹ پاتھ کے قریب ہی اسکول ہے جہاں بچوں کو منتقل کرنے کا پلان ہے۔

این جی او کی سربراہ سیدہ انفاس علی شاہ نے روتے ہوئے کہا کہ عدالت کی جانب سے ہراساں نہ کرنے کے احکام کے باوجود کچھ لوگ آئے اور انھوں نے میرے ساتھ بدتمیزی کی،مجھ سے ایسا برتاؤکیا گیاجیسے میں کوئی غلط کام کر رہی ہوں، فٹ پاتھ اسکول میں کچراچننے والے 600سے زائد بچے زیرتعلیم ہیں جن میں سے ڈھائی سو بچوں کو مارشل آرٹ کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس نے بیرسٹر صلاح الدین کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر صلاح الدین صورتحال کا جائزہ لیں اور عدالت کو آگاہ کریں، عدالت نے سیکریٹری اقبال درانی کو حکم دیا کہ سیدہ انفاس علی شاہ کو ہراساں نہ کیا جائے،چیف جسٹس نے حکم دیا کہ محکمہ تعلیم اسکول کو مناسب جگہ فراہم کریں،بچوں کو سڑکوں پر پڑھانے کی اجازت نہیں دے سکتے،بچوں کو تعلیم کے لیے مناسب سہولت فراہم کی جائے۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ بچوں کو پانی اور دیگر سہولتیں بھی فراہم کی جائیں، سیکریٹری تعلیم اسکول ایجوکیشن 31 مارچ تک رپورٹ پیش کریں۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔