داعش کی حمایت کا الزام؛ سعیدہ وارثی یہودی اخبار کیخلاف مقدمہ جیت گئیں

ویب ڈیسک  پير 19 مارچ 2018
جیوش نیوز نے برطانوی رکن پارلیمنٹ سے معافی مانگتے ہوئے 20 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کردیا فوٹو:فائل

جیوش نیوز نے برطانوی رکن پارلیمنٹ سے معافی مانگتے ہوئے 20 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کردیا فوٹو:فائل

 لندن: پاکستانی نژاد برطانوی رکن پارلیمنٹ سعیدہ وارثی داعش کی حمایت کا الزام لگانے پر یہودی اخبار کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت گئیں۔

برطانیہ میں یہودی اخبار جیوش نیوز میں شائع ہونے والے مضمون میں سعیدہ وارثی پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ شدت پسند تنظیم داعش کیلئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتی ہیں۔ سابق برطانوی فوجی افسر کرنل رچرڈ کیمپ نے اپنے کالم میں سعیدہ وارثی پر یہ الزام بھی لگایا کہ انہوں نے داعش میں شامل برطانوی مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرنے کی مخالفت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سعیدہ وارثی برطانوی مسلمانوں کی حمایت میں بول پڑیں

ادھر سعیدہ وارثی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جیوش نیوز پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا جس پر عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ عدالت میں سعیدہ وارثی کے وکیل نے کہا کہ ان کی موکلہ پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، درحقیقت سعیدہ وارثی داعش کی سخت مخالف ہیں جس کا وہ کھل کر اظہار کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ داعش سعیدہ وارثی کی جان کے درپے ہے اور ان کا نام ہٹ لسٹ میں شامل کر رکھا ہے۔ وکلا نے یہ بھی کہا کہ سعیدہ وارثی داعش میں شامل برطانوی مسلمانوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی پرزور حمایت کرتی ہیں۔

عدالت نے سعیدہ وارثی کے حق میں فیصلہ دے دیا اور یہودی اخبار کو 20 ہزار پاؤنڈ (تقریبا ساڑھے 20 لاکھ روپے) ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ مقدمہ ہارنے کے بعد جیوش نیوز نے اپنے صفحہ اول پر سعیدہ وارثی سے معافی مانگی اور ہرجانے کی رقم بھی ادا کردی۔ سعیدہ وارثی نے رقم کو فلاحی کاموں پر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔