سپریم کورٹ نے حکومت کو وفاقی اسپتالوں میں تقرریوں سے روک دیا

ویب ڈیسک  پير 19 مارچ 2018

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو سرکاری اسپتالوں میں تقرریوں سے روک دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے وفاقی دارالحکومت کے سرکاری اسپتالوں میں سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 5 ہزار کا آکسیجن سلنڈر 22 ہزار روپے میں خریدا جاتا رہا، یہ بڑی بات ہے کہ اس مقدمے میں 3 کروڑ واپس روپے واپس آئے ہیں۔

چیف جسٹس نے وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ عدالت کی مداخلت کے بغیر کام نہیں ہوتا، پارلیمنٹ میں کورم پورا نہیں ہوتا، دفتری معاملات مکمل نہیں ہوتے، جتنے گھنٹے آپ سیاسی جلسوں میں خرچ کرتے ہیں اتنے اپنے کام میں بھی خرچ کر لیا کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس حکومت میں لوگ تقرریاں کروا کر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں، جن لوگوں کو نوکریاں ملیں گی وہ خاندان آپ کے ووٹر بنیں گے۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو سرکاری اسپتالوں میں تقرریوں سے روک دیا جس پر وزیر مملکت نے اعتراض کیا اور حکم پر نظر ثانی کی درخواست کی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کے دو ماہ رہ گئے ہیں، نئی حکومت آئے گی تقرریوں کے معاملات دیکھ لے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔