نادانیاں

صدام طفیل ہاشمی  منگل 20 مارچ 2018

پاکستان کو جس طرح دہشت گردی کا سامنا ہے، اگر ایسی صورتحال کا سامنا کسی ترقی یافتہ ملک کو ہوتا تواس کی بنیادیں لرزگئی ہوتیں ۔اس کی وجہ سادہ سی ہے کہ سلطنتیں وہ تباہ ہوتی ہیں جہاں لوگوں کو پیٹ بھرکھانا میسر نہ ہوکیونکہ بھوک وہ انتہا ہے جس کے بعد انسان کچھ بھی کرنے سے گریز نہیں کرتا ، چاہے نتائج کچھ بھی ہوں ۔

خوش قسمتی سے پاکستان ایک زرعی ملک ہے، دوسری جانب لوگوں میں ایثارکا جذبہ ہے ، جس کے باعث مختلف اداروں کی صورت میں غریب کے پیٹ کی آگ بھجانے کے لیے کاوشیں جاری رہتی ہیں جن میں شہروں کے اہم مقامات پر دسترخوان لگانے کا عمل بھی لائق تحسین ہے ۔ان سب کے ساتھ ملک بھر میں موجود آئمہ کرام و اولیا اللہ کے مزار اور درگاہیں وہ مقام ہیں جہاں ہر بھوکے کو پیٹ بھر رزق میسر آجاتا ہے ۔

بھوک سے بیتاب کوئی بھی شخص جانتا ہے کہ اگر اسے کہیں جائے پناہ نہ ملی تو مزاروں پر اسے چادر بچھا کر سونے سے اور جی بھرکے کھانے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ مفت روٹی کے حصول کا ایسا انوکھا نظام کسی ترقی یافتہ ملک میں نظر نہیں آتا۔ ملک دشمنوں اور دہشت گردوں نے شاید اسی باعث مزاروں کو نشانہ بنایا۔

2010 میں بلوچستان کے علاقے جھل مگسی میں پیر رکھیل شاہ ، 2007 اسلام آباد میں بری امام اور پشاورکے مضافات میں باباملنگ ، 2008شیخان میں ابو سعید بابا ، 2009 میں پشتو صوفی رحمان بابا اور بونیر میں پیر بابا ، 2010 لاھور میں داتا علی ہجویری اورکراچی میں عبداللہ شاہ غازی ، سیہون شریف میں لال شھباز قلندر اور ضلع خضدار بلوچستان میں حضرت سخی بلاول شاہ نورانی کے مزار کو نشانہ بنایا گیا۔ پاک افواج و سیکیورٹی اداروں نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی جس کے بعد دہشت گردی میں خاصی کمی آ چکی ہے ۔

دہشت گردوں سے تو درگاہیں کسی حد تک محفوظ ہوگئیں لیکن ضمیر فروشوں سے اب تک غیر محفوظ ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے ضمیر فروشوں نے مزاروں کی آڑ میں اپنا کاروبار جاری رکھا ہوا ہے اور سادہ لوح لوگ غیر محسوس انداز میں ان کے معاون بنتے جارہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ کراچی جیسے شہر میں بھی مزاروں کی مشروم گروتھ کا سلسلہ جاری ہے ۔لوگوں نے گھروں میں مزار بنا لیے ہیں اور محکمہ اوقاف چین کی بنسی بجاتا خواب خرگوش کے مزے لوٹتا نظر آتا ہے ۔

میں اس اہم موضوع پر لوگوں میں آگہی کے لیے پروگرام کی نیت سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کراچی میں ایسے ہی ایک مزارکی زیارت کے لیے پہنچا ۔ مزار پہاڑی پر واقع ہے ۔ مزار تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں بنائی گئی ہیں اور اس پہاڑی میں سے ایک چشمہ رواں ہے ۔ میرے ساتھ اس علاقے میں کئی دہائیوں سے بسنے والے سندھی خاندان سے تعلق رکھنے والا کمال شاہ بھی موجود تھا ۔انیس سو ستر اور اسی کی دہائی میں اس علاقے میں بڑی تعداد میں برمی و بنگالی مہاجرین آباد ہوئے کیونکہ ان سب کا پیشہ ماہی گیری ہے ۔اس سے پہلے یہاں سندھی ماہی گیر ہی آباد تھے ۔کمال شاہ سماجی کارکن ہیں اور ماہی گیروں کے مسائل کے حل کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی ہے ۔

ان کا خاندان کیونکہ یہاں پرانا آباد ہے اس لیے مہاجرین کی نسبت حقائق سے یہ بخوبی آگاہ ہیں ۔کمال نے بتایا کہ ان کے بزرگوں کے مطابق اس پہاڑی پر ایک قوی الجثہ مگرمچھ نمودار ہوا تھا اس کے خاتمے کے بعد یہاں اس کی قبر بنائی گئی تھی، اب سے کچھ سال بیشتر یہاں تختی آویزاں تھی جس پر درج تھا واہگو بابا، واہگو سندھی اور بلوچی زبان میں مگر مچھ کوکہا جاتا ہے ۔ اب یہاں سید آصف شاہ بخاری کی تختی آویزاں ہے ۔ میں نے مجاور سے جاننا چاہا کہ یہ کس کا مزار ہے تو موصوف نے بنگالی لہجے میں کہا سیدآصف شاہ بخاری کا ہے ۔ میں نے سوال کیا کہ آپ ان کے شجرے سے واقف ہیں جس کا جواب ان کے پاس نہیں تھا ۔

ظاہر ہے 1970 میں آئے ایک بنگالی مہاجرکوکیا معلوم کے حقیقت کیا ہے ۔ وہاں آئے چند تعلیم یافتہ نوجوان جو فاتحہ خوانی میں مصروف تھے ، ان سے میں نے سوال کیا کہ کیا وہ واقف ہیں کہ یہ کن کا مزار ہے پر ان کے پاس بھی کوئی جواب نہیں تھا ۔ وہاں آئی خواتین اور بوڑھوں سمیت میں نے جس سے بھی سوال کیا وہ نا واقف تھا کہ یہ مزارکس کا ہے ۔ عقیدت کا عالم یہ تھا کہ نیاز بھی بانٹی جارہی تھی اور فاتحہ خوانی بھی جاری تھی لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ مزارآخر ہے کس کا ؟ یہاں سے نکل کر ہم قریب ہی ایک گھر میں واقع مزار پر پہنچے جہاں کے مجاور نے انوکھی داستان سنائی ۔ موصوف کے مطابق ایک رات ان کے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی اور ان کی بیوی نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ سفید لباس میں موجود ایک بزرگ ہیں۔

جنہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق محمد بن قاسم کے لشکر سے ہے اور ان کا مزار اس گھرکے صحن میں بنا دیا جائے، موصوفہ بالکل نہ گھبرائیں اور صبح اٹھتے ہی اپنے شوہر یعنی ان مجاور صاحب کو آگاہ کیا جنہوں نے یہ مزار بنا ڈالا ۔ موصوف نے یہ بھی بتایا کہ یہاں سے جلد ایک سونے سے بھری دیگ بھی نمودار ہوگی جو ایک مولوی کی غلطی سے ماضی میں نمودار ہوتے رہ گئی تھی ۔

وہاں سے روانہ ہوئے اور ایک اور گھر میں واقع مزار پر پہنچے ۔ یہاں کے بزرگ مجاور نے بھی کچھ ملتی جلتی داستان سنائی ۔ انھوں نے بتایا کہ ایک اندھیری رات ان کے گھر کے صحن میں ایک باریش بزرگ کا نزول ہوا ۔ یہ بزرگ بھی اتفاق سے محمد بن قاسم کے لشکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس واقعے کی مجاور کی زوجہ بھی چشم دید گواہ ہیں۔

بزرگ کی ایک ٹانگ میں تیر پیوست تھا جس سے خون رس رہا تھا۔ بعد ازاں وہ صحن میں ایک جگہ لیٹ گئے اور اسی جگہ ان کا مزار قائم کر دیا گیا ہے ۔ میں نے پوچھا کہ بابا کیا آپ سے محکمہ اوقاف والوں نے رابطہ کیا ہے جس کے جواب میں مجاور صاحب نے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہاں ایک مرتبہ وہاں کا عملہ آیا تھا سب جانچنے کے بعد دوبارہ آنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ میں نے افسوس کا اظہارکیا اور وہاں سے راہ فرار اختیارکی۔

اس کے بعد جب یہ ہی سوال محکمہ اوقاف کے ترجمان و ایڈمنسٹریٹر محمد نصرت خان سے کیے گئے تو انھوں نے بتایا کہ ان کے علم میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ مزید جاننے کے لیے ملیر میں واقع ایک مزارکا رخ کیا ۔ وہاں جا کر بتایا کہ نذر و نیازکرنا چاہتا ہوں ، مجاور نے شکریے کے ساتھ اجازت دیدی ، ہم نے چکن بریانی کی دیگ سامنے رکھ دی ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ ہی دیر میں مرد وخواتین ، بزرگوں اور بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔

بمشکل تمام ان میں لنگر تقسیم کیا اور وہاں سے نکلنے کے بعد میں سوچتا رہا کہ آج میں نے لنگر تقسیم کیا تو مریدوں کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوگیا اور اگر یہ سلسلہ دراز ہوا تو دور دور سے لوگ زیارت کے لیے آئیں گے بغیر یہ جانے کہ یہ مزار کس کا ہے ؟آخر میں عرض ہے کہ نادان قوم کی نادانیوں پر نوحہ کناں ہونے سے بہتر ہے کہ بیداری و شعورکی کوششیں جاری رکھی جائیں، شاید اس قوم کو عقل آ ہی جائے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔