منٹو والی غلطی

طارق محمود میاں  اتوار 7 اپريل 2013
tariq@tariqmian.com

[email protected]

اس روز انھوں نے مجھے گھیر لیا تھا اور یہ سب کے سب بہت بڑے معیشت دان تھے۔ اس لیے نہیں کہ انھوں نے اس میدان میں تعلیم اور تجربے کی توپیں چلائی ہوئی تھیں بلکہ صرف اس لیے کہ وہ ٹی وی اور اخبار میں دنیا کے ہر موضوع پر پھلجھڑی چھوڑ سکتے ہیں، سیاست کی ڈاکٹریٹ تو خیر سے ہمارے ہاں ہر شخص نے کرلی ہے، یہ اس سے آگے کی ڈگریاں رکھتے ہیں۔

ان لوگوں کو یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ کس سیاست دان کی پتلون کی بیلٹ کا بکل ڈیڑھ لاکھ کا ہے اور کس کی عینک کے کونوں پر آٹھ آٹھ لاکھ کے ہیرے جڑے ہیں اور لشکر جھنگوی جو خودکش جیکٹ بنارہا ہے اس کی دائیں جیب میں کون سا کیمیکل اور کس سائز کے بنٹے استعمال ہوئے ہیں، ان میں سے جس نے میری سب سے زیادہ مت ماری اس نے معاشیات میں ایم اے کیا ہوا تھا اور سب سے زیادہ بے وقوف وہی تھا۔

بہرحال انھوں نے سرعام مجھے فرشتوں کا روپ دھار کے دکھایا اور بتایا کہ وہ ملک کے 90 فیصد سیاستدانوں سے زیادہ محب وطن ہیں کیونکہ وہ ان سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں، ایسے ٹیکس دہندگان کا قصہ بھی مزے کا ہے، وہ خود کبھی ٹیکس ادا نہیں کرتے، ان کی تنخواہوں اور فیسوں سے زبردستی کاٹ لیا جاتا ہے، اسی کو وہ کلغی میں سجائے پھرتے ہیں، میں اسی لیے کہا کرتا ہوں کہ ’’ود ہولڈنگ ٹیکس‘‘ در اصل انکم ٹیکس ہوتا ہی نہیں اور اصل تنخواہ وہی ہوتی ہے جو کٹ کٹا کے ہاتھ میں آتی ہے، اس ٹیکس کا تقابل کسی کی کاروباری آمدنی پر دیے جانے والے انکم ٹیکس سے کرنا درست نہیں۔

میں نے ان میں سے ایک سے پوچھا ’’تم نے 90 ہزار روپے میں جو ایک رکشہ خرید کے ٹھیکے پر دیا ہوا ہے اس سے کچھ کمائی تو کرتے ہو گے، اس کا حساب کہاں ہے؟ اگر اس آمدنی پر پانچ روپے بھی انکم ٹیکس ادا کیا ہو تو دکھائو؟‘‘ دوسرے نے فاسٹ فوڈز کا ایک ریسٹورنٹ کھولا ہوا ہے، ایک نے جوتوں اور پرس کی دکان کھولی ہے اور ایک نے پلاسٹک کے تھیلے بنانے کا کارخانہ لگا رکھا ہے، قسم لے لو جو انھوں نے اس آمدنی پر کبھی ایک دھیلا بھی ٹیکس دیا ہوا، بس بڑی بڑی تنخواہوں پر خودبخود کٹ جانے والے ٹیکس کے درے اٹھائے پھرتے ہیں اور ان دنوں انھیں سیاست دانوں کی ننگی کمر پر برسا رہے ہیں۔

آج کل الیکشن کمیشن درخواستوں کی چھان بین کررہا ہے تو یہ اور بھی بڑے بڑے ’’خبرنامے‘‘ نکال لائے ہیں، ان کے نزدیک یہ سب ٹیکس چور اور اچکے ہیں اور جس نے بھی بینک سے قرض لیا ہے وہ بدکردار ہے، ان کی ڈس کوالیفیکشن کے یہ اتنے طلبگار ہیں کہ احتساب کی ٹہنیوں پر اپنی دمیں لپیٹ کے الٹے لٹک گئے ہیں اور چیخیں مار رہے ہیں۔

دراصل سیاستدانوں اور کاروباری لوگوں کے ٹیکس دینے کا معاملہ کبھی صفائی سے واضح نہیں کیا جاسکا، ان پر یہی الزام لگتا رہا ہے کہ وہ یا تو ٹیکس ادا ہی نہیں کرتے اور کرتے بھی ہیں تو صرف ہزاروں میں یا پھر بس چند لاکھ روپے۔ یہ ان کے لائف اسٹائل سے مطابقت نہیں رکھتا، ان کے بارے میں جب بھی بات کی گئی ہے ان کی انفرادی حیثیت کو سامنے رکھ کے کی گئی ہے، جب کہ سبھی لوگوں کا معاملہ انفرادی نہیں ہوتا مثلاً کارپوریٹ سیکٹر کے بارے میں یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ اس کے ڈائریکٹرز کے بیشتر اخراجات کی ذمے دار کمپنی ہوتی ہے، گاڑیاں اور ہوائی جہاز تک کمپنیوں کے نام پر ہوتے ہیں، آمدنی کا بڑا حصہ کمپنی ہی کے کھاتے میں موجود رہتا ہے اور وہی ٹیکس بھی ادا کرتی ہے یہ ٹیکس کروڑوں میں ہوتا ہے۔

ڈائریکٹرز کی ذاتی آمدنی صرف وہی ہوگی جو وہ کمپنی سے اضافی ذاتی مصارف کے لیے لیںگے، یہ اصل آمدنی کا ایک معمولی سا حصہ ہوتا ہے اور ذاتی ٹیکس صرف اسی پر ادا کیا جاتا ہے۔ میں بہت سے ایسے کروڑ پتیوں کو جانتا ہوں جن کی خاندانی لمیٹڈ کمپنیاں ہیں، وہ کروڑوں کا ٹیکس ادا کرتی ہیں لیکن مالکان کے نام براہ راست کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا کیونکہ تمام اخراجات، حتیٰ کہ گھر کی بجلی، فون اور پانی کا بل تک کمپنی ادا کرتی ہے اور یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ ایک بار اسد عمر سے جب یہ بات ٹی وی پر پوچھی گئی تو اس نے بھی ڈنڈی ماری اور اس صورتحال کی وضاحت نہیں کی حالانکہ وہ کارپوریٹ کلچر سے پوری طرح واقف ہے اور خود بھی اس کا اہم حصہ رہا ہے۔

باقیوں کی بات ہی کیا کی جائے، ان کے اعتراضات کی بنیاد وہی بے خبری اور جہالت ہے جس پر انھیں فخر ہے اور جس کا ذکر میں نے شروع میں کیا ہے۔ کس نے سوچا تھا کہ یہ ملک اوسط اور اوسط سے بھی کم تر درجے کے بوجھ بجھکڑوں کے پلے پڑجائے گا، ان دنوں ڈگریوں والی سزا ان لوگوں کو دی جارہی ہے جو ایک ڈکٹیٹر کے ایک ناجائز اور بدنیتی پر مبنی قانون سے ٹکرا گئے تھے، ان کا قصور یہ ہے کہ اس جنگ میں انھوں نے ایک غیر قانونی ہتھیار استعمال کرکے اپنے حلقے کے لاکھوں ووٹرز کا ایک بنیادی حق حاصل کرلیا تھا۔

میرے اس جملے پر غور کریں، کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ غلط ضرور ہورہا ہے۔ غالب امکان یہ ہے کہ پارسائی اور اندھا دھند منصفی کی اس فضا میں آپ مجھ سے اتفاق نہیں کریںگے لیکن میرے خیال میں اس سوال کا جواب ضرور آنا چاہیے کہ اگر کوئی آمر کسی ناجائز، غیر منصفانہ اور بے رحمانہ قانون کے ذریعے کسی شخص کا بنیادی حق غصب کررہا ہو تو اپنا اور اپنے ووٹرز کا حق حاصل کرنے کے لیے اسے کس حد تک جانے کی آزادی ہونی چاہیے؟

قانون سازوں سے غلطی یا بے احتیاطی یہ ہوئی کہ انھوں نے ایک آمرانہ اور احمقانہ قانون کو بدنیتی پر مبنی قرار دیے جانے کے بعد اس قانون کی خلاف ورزی پر بنائے جانے والے تمام مقدمات کو ختم کرنے کا تکلف نہیں کیا، اب بھگتیں، جس قدر توفیق ہے اتنے سیاپے ڈالیں، جو لوگ امپورٹڈ مسخروں کے ذریعے الیکشن کو سبوتاژ نہیں کرسکے تھے ان کے ہاتھ میں نئے ہتھیار موجود ہیں، اپنا مشن پورا کرنے کے لیے وہ اب اس طرح کوشش کریںگے۔

امیدواروں کی پارسائی اور ’’مسلمانی‘‘ جانچنے کے لیے جو کچھ ہورہا ہے اس پر مجھے منٹو کا ایک افسانہ یاد آرہا ہے، جس میں تقسیم ہند کے وقت کے فسادات کا ذکر ہے، بلوائی دوسرے مذہب کے لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کے قتل کررہے ہیں، ان کی ٹولی کو کوئی اجنبی دکھائی دے تو وہ اسے گھیر کے ہر طریقے سے اس کے مذہب کی تصدیق کرتے ہیں اور پھر مار ڈالتے ہیں یا چھوڑ دیتے ہیں اور پھر آخر میں وہ معرکۃ آرا جملہ آتا ہے جو مجھے آج کے انتخابی افسروں کی حرکات دیکھ کے یاد آرہا ہے اور ڈر لگ رہا ہے کہ اس برق رفتار دھر رگڑے میں کہیں یہ لوگ کوئی بڑی گڑبڑ نہ کر بیٹھیں، منٹو نے لکھا…!!

’’… چھری پیٹ چاک کرتی ہوئی نیچے تک چلی گئی۔ ازاربند کٹ گیا۔ چھری مارنے والے کے منہ سے دفعتاً کلمہ تاسف نکلا… ’’چچ چچ چچ… مشٹیک ہوگیا۔‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔