پانی کے سنگین بحران کا خطرہ

ایڈیٹوریل  بدھ 21 مارچ 2018
دستیاب پانی کو ذخیرہ نہ کرنے کے باعث پاکستان کو سالانہ 35 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، فوٹو: انٹرنیٹ

دستیاب پانی کو ذخیرہ نہ کرنے کے باعث پاکستان کو سالانہ 35 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، فوٹو: انٹرنیٹ

پانی کی قلت کے شکار 15 ملکوں میں پاکستان بھی شامل ہے، جب کہ ملکی آبی وسائل میں بتدریج کمی کے قومی مسئلے پر کسی حکومت نے مناسب توجہ نہیں دی اور نہ مستقل آبی پالیسی کی تشکیل اور اس پر سال بہ سال نظر ثانی کے لیے کوئی میکنزم وضع ہوا۔

اس حقیقت سے شاید کسی کو انکار ہوکہ آبی قلت کا ایجنڈا عالمی سطح پر حکومتی ماہرین اور وزارتوں کے زیر بحث ہے، اقوام متحدہ کی متعدد رپورٹوں میں پانی کے حصول پر آبی جنگوں کی بازگشت سنائی دیتی رہی ہے اور اس بات کا تقریباً ترقی یافتہ یافتہ و ترقی پذیر ممالک میں یکساں تشویش پائی جاتی ہے کہ دنیا آبی قلت کے سنگین بحران کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ آبی ذخائر کم ہورہے ہیں۔

اس لیے پانی کے اربن اور دیہی علاقوں میں روزمرہ اور زرعی مقاصد کے لیے بے دریغ استعمال سے دنیا کے بیشتر ممالک پانی کے ذخائر کی ضرورت سے بے نیاز نہیں رہ سکتے، ترقی یافتہ ممالک میں پانی کی تقسیم، اس کے معقول استعمال کے ضمن میں عوامی شعور کی بیداری اہم سمجھی جاتی ہے، مگر ترقی پذیر ملکوں میں دستیاب آبی وسائل کے عاقب نااندیشانہ استعمال اور ضیاع کو روکنے کے لیے ریاستی اور حکومتی سطح پر اقدامات ندارد۔

پانی کی کمی سے پیدا ہونے والی مشکلات کے بارے میں میڈیا خاموش نہیں تھا، اگست 2017 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے چار بڑے شہروں اسلام آباد ،لاہور، کراچی اور کوئٹہ میں شہریوں کو شدید آبی کمیابی کا سامنا کرنا پڑیگا۔

اس رپورٹ کے مطابق شہری مضافات میں واقع زرعی قطعات اراضی کاشتکاری کے مخصوص علاقوں اور فصلوں کے لیے پانی کی فراہمی دشوار ہوگی، آبی ذرایع کی قومی کونسل کے سربراہ کے مطابق مذکورہ شہروں میں پانی کی سنگین صورتحال سے بچاؤ کے لیے کافی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ ادھر اقوام متحدہ کی کئی آبی رپورٹوں میں دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کو خبردار کیا گیا کہ وہ پانی کے ہوشمندانہ اور بامقصد استعمال پر توجہ دیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ پانی کے ذخائر کم ہونے سے ماحولیات پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اس حقیقت کو سمجھے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں کہ پانی سے محروم ہم وطنوں کی بڑی تعداد شہروں اور دیہات میں رہتی ہے، دیہات میں تو سینی ٹیشن کی بنیادی ضروریات پر بھی بہت کم توجہ دی گئی ہے، پینے کا صاف پانی ہر پاکستانی شہری کا بنیادی حق ہے ،پانی قدرت کی نعمت اور زندگی کا انجن ہے۔ گوادر میں پہلی بار سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جو ایک پیش رفت ہے۔

غیر ملکی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس صرف 30 دنوں کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے ، فی کس دستیابی پوری دنیا میں سب سے کم ہے، جب کہ دستیاب پانی کو ذخیرہ نہ کرنے سے سالانہ 35 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، رپورٹ کے مطابق پنجاب اور سندھ کو 70 فیصد شارٹ فال کا سامنا ہے۔

یہ وہ اعداد وشمار ہیں جو کسی بھی حکومت کی نیندیں حرام کرنے کے لیے کافی ہیں مگر برس ہا برس گزرنے کے باوجود آبی وسائل اور مسائل کے حقیقی ادراک کے لیے ارباب اختیار محض آبی ماہرین کی رپورٹیں وصول کرتے رہے اور ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے ذخائر کے ملک بھر میں جال پھیلانے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

مون سون کی بارشوں اور پھر ان سے آنے والے سیلابوں سے ہونے والی تباہ کاریوں پر میڈیا میں حکومت مگر مچھ کے آنسو خوب بہاتی ہے اور جذباتی بیانات اور امدادی کاموں کی ہنگامی خبریں ضرور شایع اور نشر کرائی جاتی ہیں تاہم بارش اور سیلابوں کے کروڑوں کیوسک پانی کو سمندر برد ہونے سے بچانے کے لیے آبی ذخائر کی جگہ جگہ تعمیر کے لیے ملک کی بیروزگار افرادی طاقت کو استعمال کرنے اور عوام کو پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی وقت نہیں کیونکہ سارا وقت تو الزام تراشی ، سیاسی کشمکش اور ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کی نذر ہوجاتا ہے ، عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے کسی حکومت کے پاس جمہوری ثمرات کی منصفانہ تقسیم کا کوئی پروگرام نہیں دیکھا گیا۔

یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سیاسی رہنماؤں نے صوبوں میں آبی وسائل کی دستیابی ، مناسب تقسیم اور نئے وسائل کی تلاش کے لیے اتفاق رائے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی، بھارت دھڑادھڑ ڈیم بناتا رہا ،اس نے اپنے کئی ڈیم متنازع ڈیزائینوں کے ساتھ ان آبی راستوں پر بنائے جن سے پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی ملنا لازمی ہے ، مگر سیاست دان اتفاق رائے تو دور کی بات ہے ’’کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیں گے‘‘ کی سیاسی جنگ میں کسی اور بڑے ڈیم کی تعمیر کا خواب شرمندہ تعبیر نہ کرسکے، اگرچہ سب کو تربیلا ، منگلا بند کی عمر طبیعی اور ڈیموں کی تہہ میں موجود ریت کی سطح کی بلندی سے پیدا شدہ خطرات کا بخوبی علم ہے، ماہرین آب بار بار پانی کی سنگین قلت سے آگاہ کرتے رہتے ہیں مگر کوئی سنے تو سہی ۔

ایک خبر کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ نیشنل واٹر پالیسی (این ڈبلیو پی ) کے تحت دریائے سندھ پر کوئی نیا واٹر اسٹوریج / ڈیم قابل قبول نہیں جب تک اس حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرزبالخصوص زیریں ساحلی علاقوں میں آباد لوگوں کے مابین اتفاق رائے نہیں ہوجاتا ، انھوں نے یہ بات اسلام آباد میں  ہونے والی سی سی آئی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کو پہلے ہی پانی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ادھر ڈویژن میں پانی کی فراہمی شدید متاثر، 100سو سے زیادہ شاخیں خشک ہو گئیں جب کہ سکھر بیراج میں پانی کی شدید کمی سے نارا کینال میں بھی صرف 3050 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ کمی کے باعث سکھر سے آنے والا پانی خیرپور تک پہنچ کر ہی ختم ہو رہا ہے جس کی وجہ سے خیرپور کے بعد نارا کینال سے منسلک 100 سے زیادہ واٹر سپلائی اسکیموں کے تالاب خشک ہو گئے ہیں۔

اب بھی وقت ہے کہ ارباب اختیار پانی کی قلت کے دردناک منظر نامے میں جنوبی افریقا کے بڑے شہر کیپ ٹاؤن میں پانی کی قلت سے شہر کو لاحق خطرہ کا ادراک کریں، کیپ ٹاؤن میں سات ڈیموں سے ذخیرہ کیا جانے والا پانی قحط سالی اور شہری آبادی میں بے تحاشا اضافہ کے باعث انسانی ضروریات کے لیے ناکافی قراردیا گیا۔

اس قلت کی کوکھ سے پیدا ہونے والے بحران کا اندیشہ 2015 میں ظاہر کیا گیا تھا موسمیاتی اداروں کی تجزیاتی رپورٹوں کے مطابق کیپ ٹاؤن کے 30 آبی ذخائر میں موجود پانی کم ہوتا جارہا ہے اور رفتہ رفتہ پانی کی سطح کم ہوکر آخر کار پانی کے سنگین بحران کی شکل میں ظاہر ہوگئی جو جنوبی افریقہ کے حکمرانوں کی کوتاہ اندیشی کا شاخسانہ بن چکی ہے، پانی کی قلت کی سخت آزمائش سے نکلنے کے لیے اس دن کو’’ ڈے زیرو‘‘ کہا گیا ہے، جس نے پورے کیپ ٹاؤن شہر کو سوالیہ نشان بنادیا ہے۔اوراس کے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کی باتیں ہورہی ہیں۔خدارا ارباب اختیار پاکستان کو آبی قلت کے خطرات سے بچانے کی تدبیر کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔