جدید سیاست اور نیکی

عبدالقادر حسن  بدھ 21 مارچ 2018
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

نئے زمانے کے نئے انداز ہیں اوراپنی ضروریات ہیں اور ان ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کے معاملات چلائے جاتے ہیں، آج کل حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج پھلتے پھولتے میڈیا کے ساتھ نبرد آزما ہونا ہے تا کہ اپنی کار کردگی کو مثبت انداز میں اور اپنی مرضی کے مطابق عوام تک پہنچایا جا سکے۔

اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت نے بھی اپنے آزمودہ کار صحافیوں کے ایک جتھے کو اپنے اس مشن میں شامل کیا تا کہ عوام تک اپنی بات کو آسانی سے پہنچایا جا سکے۔ اس وقت حکومت کی پروپیگنڈہ مشینری میں بڑے بڑے لوگ بیٹھے ہیں جن میں تعلقات عامہ کے ریٹائرڈ سرکاری افسروں کے علاوہ ایک بھاری بھرکم تعداد میں اخبار نویس بھی شامل ہیں جن میں سے کچھ تو براہ راست حکومت کے ساتھ ہیں اور کچھ بلا واسطہ شریک کار ہیں ۔ ان سب کا تجربہ بھی ہے نام بھی ہے اور ہنر بھی ہے ۔ ہم اخبار نویسوں نے پہلی بار کسی حکومت کی بھر پور مدد کی ہے اور اپنے کئی مشہور قلمکار اس کے حوالے کر دیے ہیں اور جو کمی بیشی رہ گئی تھی وہ ہمارے پرانے دوست مشاہد حسین سید کی نواز لیگ میں شمولیت کے ساتھ پوری ہو گئی ہے۔ یہ میاں صاحب کے لیے نادر تحفہ ہے جو ان کو ہمیشہ اچھے مشوروں سے ہی نوازے گا ۔

اسی طرح کئی دوسرے حضرات بھی حکومت کی مشہوری کرتے رہتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ رونق نہیں لگی جو سیاسی حکومت میں لگا کرتی ہے، ممکن ہے وقت کے بدلتے تقاضوں کا اثر ہو یا اس کی وجہ حکمرانو ں کا اپنا مختلف انداز ہو جس کا صحافت سے کچھ زیادہ تعلق نہیں ہے، وہ صحافیوںکو بھی اپنی کسی ایک مل یا فاؤنڈری کی پیداوار ہی سمجھتے ہیں، اس لیے ان سے گلے ہی کرتے نظر آتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح یہ گلے صحافیوں تک پہنچتے بھی رہتے ہیں لیکن کوئی حرکت اور تحریک پیدا نہیں ہوتی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ہماری گزشتہ فوجی  حکومتیں بھی اچھی خاصی رونق لگا لیتی تھیں ۔ ایوب خان کے دور میں محترم الطاف گوہر اور قدرت اللہ شہاب صاحب ایسے لوگ چپکے نہیں بیٹھتے تھے ۔

صدر ضیاء الحق تو اپنی ذات میں ایک انجمن تھے اور تو اور یحیٰ خان بھی اپنی غیر نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے جان محفل تھے ۔ بھٹو صاحب ایک ہنگامہ تھے ۔ بینظیر صاحبہ بھی حمایت یا مخالفت میں صحافیوں کو الجھائے رکھتی تھیں ۔ یہ چند روزہ عبوری حکومتیں بھی خاموش نہیں رہتیں مگر میاں صاحبان کی حکومت تو مردم بیزار صحافت بیزار حکومت ہے جو روکھے پھیکے بزعم خود ماہرین کے گرد گھومتی رہتی ہے اور یہ ماہرین قدم قدم پر کوئی نہ کوئی آفت کھڑی کرتے رہتے ہیں اورپھر جب شور مچتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ غلطی ہو گئی اور بس حالانکہ بعض غلطیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو قابل معافی نہیں ہوتیں جن میں سے ایک غلطی میاں صاحب سے پاناما کیس میں ہو گئی اور وہ عدالت چلے گئے اور عدالت سے سیدھے گھر بھیج دیے گئے ۔

مولانا ابوالکلام کا ایک مداح کسی محفل میں ان کے شخصی اور عملی اوصاف بیان کر رہا تھا مجلس میں مولانا کے مخالفین بھی موجود تھے ،کسی نے کہا کہ حضرت آپ مولاناکی تعریف میں تو بہت کچھ کہے چلے جا رہے ہیں ، ان میں کچھ خرابیاں اور کوتاہیاں بھی تھیں، آپ ان کا ذکر نہیں کر رہے جواب میں مولانا کے مداح نے کہا کہ میں پہلے مولانا کی خوبیوں کے ذکر سے فارغ ہو جاؤں تو پھر ان کی خرابیوں کا بھی ذکر کروں گا ۔ اسی طرح میاں صاحب کے صحافتی مداحین ابھی تک ان کی خوبیوں سے فارغ نہیں ہو پارہے کہ ان کو ان خرابیوں کا بھی بتا سکیں جن کی وجہ سے ساری پریشانی کھڑی ہو گئی ہے۔

میاں صاحب نے اپنے اقتدار کے مختلف ادوار میں کام تو بہت کیے لیکن وہ ان سے پوری طرح فائدہ نہ اٹھا سکے۔ سب سے بڑا کام ایٹم بم کا دھماکا تھا ، بے زمین کسانوںمیں زمینیں تقسیم کیں ، احتساب کا ایک منظم سلسلہ شروع کیا جو کہ گو سیف الرحمن صاحب کی وجہ سے متنارعہ ہو گیا لیکن اس احتسابی عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ میاں صاحب اس عمل کو اب نیب کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ موجودہ دور میں انھوں نے سڑکوںکی تعمیر کے سلسلے کو آگے بڑھایا، مختلف شہر وں میں میٹرو بسوں اور لاہور میں ایک روٹ پرٹرین کا آغاز ہونے کو ہے لیکن افسوس کہ وہ ان سے کوئی قابل ذکر سیاسی فائدہ نہ اُٹھا سکے بلکہ مالی سیکنڈلوں کی زد میں ہی رہے ۔

سیاست میں نیکی دریا میں نہیں ڈالی جاتی ۔نیکی خواہ کم کی جائے لیکن اس کا پروپیگنڈہ بہت زیادہ کیا جاتا ہے ۔عوام کا حافظہ بہت کمزور ہوتا ہے اس لیے عوام کو بار بار یاد دلانا پڑتا ہے کہ ان کے لیے حکومت نے کیا کیا ہے لیکن نواز لیگ کی حکومت اس سے بھی قاصر رہی حالانکہ ان سے کئی کام ایسے سرزرد ہو گئے جن میں سے ایک دو پر بھی کوئی ہوشیار حکومت اپنی مدت آرام سے پوری کر سکتی تھی بلکہ آیندہ الیکشن کے لیے بھی مواد بہت تھا لیکن شاید ان کی پروپیگنڈہ مشینری میں وہ زور نہیں جو کہ ان کے مخالفین کے پاس ہے جو کہ ان کے ہر کام کو متنارعہ قرار دے کر عوام میں اس کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کر دیتے ہیں ۔سیاسی مخالفین سے زیادہ آج کل کے زمانے میں بڑا  میڈیا ہے۔

حکومت مخالف بات کو عوام کو پسند کرتے ہیں اس لیے ان میڈیا چینلز کو عوام میں زیادہ مقبولیت یا پذیرائی حاصل ہے۔ حکومت کے حامیوں کی بات نقارخانے میں طوطی والی ہی رہ گئی ہے جس کو کچھ زیادہ پسند نہیں کیا جاتا بلکہ ہمارے کئی دوستوں نے تو اس کے لیے اپنی عمر بھر کی صحافتی کمائی کو داؤ پر لگا دیا ہے ۔ ایک خاصی بڑی تعداد میں نیوز چینلز کے ساتھ حکومت کرنا واقعی دل گردے کا کام ہے اور ان کی تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا بھی مشکل ہے اسی گومگو کی صورتحال میں حکومت کی مدت تمام ہو گئی جیسے اس سے پہلے اسی طرح کے میڈیا کے ساتھ پیپلز پارٹی اپنی پانچ سالہ حکومتی مدت پوری کر کے فارغ ہو گئی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔