روہنگیا مہاجر خواتین کی جنسی زیادتی کیلئے خرید و فروخت کا انکشاف

ویب ڈیسک  بدھ 21 مارچ 2018
روہنگیا لڑکیوں اور بچوں کو بیرون ملک فروخت کرنے کے شواہد بھی ملے ہیں ۔ فوٹو:فائل

روہنگیا لڑکیوں اور بچوں کو بیرون ملک فروخت کرنے کے شواہد بھی ملے ہیں ۔ فوٹو:فائل

ڈھاکا: بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجر بچوں اور لڑکیوں کی جنسی فعل کے لیے خرید و فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق روہنگیا میں مسلم کش فسادات کے بعد لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزین روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش پہنچے ہیں جن میں ایسی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جن کے اہل خانہ کا ایک ایک فرد قتل کیا جا چکا ہے، ایسے لاوارث بچوں اور لڑکیوں کو جنسی فعل کا مکروہ دھندہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جس کے لیے کچھ لڑکیوں کو بیرون ملک بھی اسمگل کیا گیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اس حوالے سے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں متعدد لڑکیوں کا انٹرویو کیا ہے جنہوں نے انکشاف کیا کہ اہل خانہ کے قتل کیے جانے کے بعد ایک خاتون نے بس کے ذریعے محفوظ جگہ پہنچانے کا ذمہ لیا لیکن راستے میں ہمیں ایک کار میں منتقل کردیا گیا جس میں سوار لڑکوں نے تشدد کیا اور مکروہ کام کے لیے بازار میں فروخت کردیا۔

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش سے روہنگیا پناہ گزین لڑکیوں کو بیرون ملک فروخت کردیا گیا ہے، راخائن میں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد جسم کی فروخت کا مکرو دھندہ کرنے والے گروہ نے پناہ گزین کیمپ کا رخ کیا اور چند مقامی کارندوں کو ملا کر پناہ گزین کم سن لڑکیوں کو ورغلا کر یا ڈرا دھمکا کر بیرون ملک فروخت کردیا ہے۔

پناہ گزین روہنگیائی مسلمانوں کی بڑی تعداد بنگلہ دیش کے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہیں جن کی تعداد چار لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے، کھانے پینے کی قلت اور غربت کے باعث بھی نوجوان لڑکیاں جنسی فعل کا مکروہ دھندہ کرنے پر مجبور ہیں جب کہ پناہ گزینوں سے متعلق اعداد و شمار رکھنے کا موثر نظام نہ ہونے کے باعث اغوا شدہ لڑکیوں اور بچوں کی تعداد کا درست تعین نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد دو ہزار تک ہو سکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔