آبی قلت سے بچنے کیلیے واٹر ایمرجنسی لگائی جائے، ایکسپریس فورم

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  جمعرات 22 مارچ 2018
واٹر سپلائی اسکیموں کا 89 فیصد پانی مضر صحت ہے، فراقت علی، شاہنواز خان۔ فوٹو: ایکسپریس

واٹر سپلائی اسکیموں کا 89 فیصد پانی مضر صحت ہے، فراقت علی، شاہنواز خان۔ فوٹو: ایکسپریس

 لاہور: حکومتی رہنماؤں اور واٹر ایکسپرٹس نے ’’ورلڈ واٹر ڈے‘‘ کے حوالے سے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زیر زمین پانی کی سطح کم ہورہی ہے جبکہ ہمارے پاس صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے، پانی کی قلت سے بچنے کیلیے واٹر ایمرجنسی لگا کرہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

پانی بنیادی حق ہے لیکن بدقسمتی سے یہ کبھی بھی سیاسی ترجیحات میں شامل نہیں رہا، سیاسی جماعتوں کو صاف پانی کی فراہمی کو اپنے منشور میں شامل کرنا چاہیے، پانی کا ضیاع ہو رہا ہے، اسے روکنے کیلیے حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمے داری ادا کرنا ہوگی، پنجاب حکومت دیگر صوبوں کی نسبت پانی کے حوالے سے بہتر اقدامات کررہی ہے، آئندہ بجٹ میں 150 ارب روپے سے زائد رقم پینے کے پانی کیلیے مختص کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر رانا ارشد نے کہا کہ بھارت عالمی سازش کے تحت دریاؤں کے کناروں پر ڈیم و بجلی کے منصوبے لگا کر ہمارا پانی روک رہا ہے۔ اس سے ہماری زراعت بھی تباہ ہوگی لہٰذا بھارت کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی اورپانی کے مسئلے پر تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا، پانی کے منصوبوں کیلیے 150 ارب روپے سے زائد کا بجٹ رکھا جائے گا، واٹر سپلائی اور سیوریج کا علیحدہ سسٹم بنایا جارہا ہے۔

رکن پنجاب اسمبلی و رہنما مسلم لیگ (ن) راحیلہ خادم حسین نے کہا کہ ہم پانی کے معیار پر بات کرتے ہیں لیکن پانی کے ذخائر پر کوئی بات نہیں کرتا، ہمارے پاس 30 دن تک کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے جبکہ امریکا کے پاس 900دن کے ذخائر موجود ہیں۔ بھارت ہمارے ساتھ آزاد ہوا مگر اس نے 500 سے زائد ڈیم بنائے ہیں۔

کالج آف ارتھ اینڈ انوائرمینٹل اسٹڈیز جامعہ پنجاب کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ساجد رشید نے کہا کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستانی گلیشئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جو سیلاب کی صورت میں ہمارے لیے عذاب بنتے ہیں اور سمند ر میں شامل ہوکر ضائع ہوجاتے ہیں، زیر زمین پانی کے ذخائر کم ہورہے ہیں لہٰذا نئے ڈیم بنائے جائیں اور پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے منصوبوں پر کام کرنا چاہیے۔

واٹر ایکسپرٹ فراقت علی نے کہا کہ پانی بنیادی ضرورت ہے مگر افسوس ہے کہ اسے بنیادی حق نہیں سمجھا گیا اور نہ ہی سیاسی ترجیحات میں شامل رہا،24سے 34 بیماریوں کا تعلق پانی سے ہے جبکہ صحت کے اخراجات کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ لوگوں کو فراہم کیا جانے والے پانی کا 8سے 10 پانی پینے کے قابل ہے جبکہ 90سے 92 فیصد پانی مضر صحت ہے، صاف پانی کے حوالے سے دیگر صوبوں کی نسبت پنجاب حکومت کی کارکردگی بہتر ہے اور ابھی مزید منصوبے لگائے جارہے ہیں۔

واٹر ایکسپرٹ شاہنواز خان نے کہا کہ اسٹینڈرڈ ڈیولپمنٹ گولز کے ہدف 6کے مطابق حکومت کو 2030 تک تمام لوگوں کوصاف پانی و سیوریج کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی،اس حوالے سے عالمی ادارے ہمارے ساتھ تعاون کررہے ہیں لہٰذا ہمیں حکمت عملی طے کرنی چاہیے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے تاکہ شرمندگی سے بچا جاسکے،واٹر سپلائی اسکیموں کا 89فیصد پانی مضر صحت ہے، ہر 3 میںسے ایک سکول ایسا ہے جہاں صاف پانی موجود نہیں جبکہ 5 سال سے کم عمر کے 39 ہزار بچے بیماریوں کے باعث ہلاک ہورہے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ آئندہ بجٹ میں صاف پانی کو ترجیحی بنیادوں پر بجٹ دیا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔