قوم پرست بلوچ لیڈر کی ’’گھر واپسی‘‘

تنویر قیصر شاہد  پير 26 مارچ 2018
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

’’اب معلوم ہُوا ہے کہ دوعشروں تک مسلسل سرابوں کے پیچھے بھاگتا رہا ہُوں۔مَیں جن (پاکستان مخالف) تنظیموں کے ساتھ کام کرتا تھا، اُن کی بنیاد کھوکھلی تھی۔ جھوٹ اور دغے پر مبنی۔بھارت اِن تنظیموں کے پیچھے تھا۔ پیسہ تو وہی لگا رہا تھا۔ مگر پاکستان کی سلامتی، سالمیت اور یکجہتی کے لیے اب میرے جو قدم اُٹھے ہیں، یہ کبھی واپس نہیں جائیں گے۔ قطعی نہیں۔ رُوس میں بیٹھ کر بھی مَیں پاکستان کی خدمت کر سکتا ہُوں۔یومِ پاکستان کی اِس 78ویں سالگرہ کے موقع پر سارے پاکستانیوں کو میری طرف سے مبارکباد۔ اُن سب پاکستانیوں کو بھی جو رُوس میں رہائش پذیر ہیں، یا مغربی و مشرقی یورپ میں یا دنیا کے کسی بھی خطے میں مقیم ہیں۔‘‘ یہ الفاظ ڈاکٹر جمعہ خان مری کے ہیں۔

منقلب اور بدلے ہُوئے ڈاکٹر جمعہ مری کے۔ اللہ تعالیٰ جب دل بدلتا ہے تو دماغ کی کیفیتیں بھی بدل جاتی ہیں۔سوچ کے دھارے بھی صراطِ مستقیم پر بہہ نکلتے ہیں۔ڈاکٹر جمعہ صاحب اُن ناراض اور نالاں بلوچوں میں ایک شمار کیے جاتے تھے جوپاکستان دشمنوں کی ایما پر نام نہاد ’’آزاد بلوچستان‘‘کے نعرے بلند کرتے رہے ہیں۔ وہ بلوچستان کے ایک مشہور قبائلی لیڈر، مِیر ہزار  خان مری، کے صاحبزادے ہیں۔ ہزار خان مری سے بھی ہزاروں کہانیاں وابستہ ہیں جو اسرار کی تہوں میں لپٹی نظر آتی ہیں۔

ڈاکٹر جمعہ خان مری کی زندگی کا اوائلی دَورِ حیات بوجوہ بڑا ہی آزمائشوں میں گزرا ہے۔حیدر آباد اور کراچی میں چھپتے چھپاتے،تعاقب کرتی نظروں سے بچتے ہُوئے۔ پھر وہ بلوچستان سے نکل کر کابل چلے گئے اور ایک ایسے اسکول میں داخل ہُوئے جو بھارتی افکار کے زیر اثر تھا۔ اِس تعلیم نے بھی اُن کے دل و دماغ پر گہرے اثرات مرتّب کیے تھے۔

کابل سے نکل کر وہ ماسکو چلے گئے جو اُس دَور میں سوویت یونین کا دارالحکومت اور اشتراکیوں کی ’’سرخ جنت‘‘ کہلاتا تھا۔اُنہی ایام میں سرخ فوجوں نے افغانستان پر بھی تو قبضہ کررکھا تھا، جیسا کہ آجکل امریکی فوجوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔افغانستان مگر نہ تو رُوسیوں کے زیر تسلّط رہا اور نہ ہی اب امریکیوں کو اپنی کمر پر کاٹھی ڈالنے دے رہا ہے۔ تعلیم کے حصول سے مگر جمعہ خان مری نے کبھی غفلت نہ برتی۔ وہ خود کو ’’جلاوطن بلوچ‘‘ کی حیثیت میں بھی متعارف کروایا کرتے تھے۔

انھوں نے ’’رشیئن اسٹیٹ میڈیکل یو نیورسٹی‘‘ سے میڈیسن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور یہیں سے، نوے کی دہائی ختم ہونے سے پہلے، پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی لی۔ امیونالوجی اور الرجی کے امراض میں۔ماسکو میں اُن کے تعلقات ایسے لوگوں سے مسلسل رہے جو پاکستان مخالف قوتوں کے اشاروں پر بلوچستان میں علیحدگی پسندی کے نعرے بھی لگاتے تھے اور اپنے سرپرستوں کو خوش کرنے کے لیے کانفرنسیں بھی منعقد کرتے تھے اور پاکستان کی یکجہتی کے خلاف دل آزار پمفلٹ لکھتے، چھاپتے اور تقسیم کرتے تھے۔

ان سرگرمیوں کی وجہ سے ڈاکٹر جمعہ خان مری خاصے مشہور بھی ہو گئے تھے۔ سوئٹزر لینڈ، برطانیہ اور امریکا میں پناہ گزین وہ مٹھی بھربلوچ عناصر جو نام نہاد آزاد بلوچستان کی آگ بھڑکانے کی ناکام کوششیں کررہے تھے، اُن سے بھی ڈاکٹر  جمعہ کے گہرے روابط تھے۔ان عناصر کو مبینہ طور پر بھارت کی طرف سے ہر قسم کی اعانت اور امداد بھی ملتی رہی ہے۔

پاکستان کی ہمیشہ حفاظت کرنے والے اللہ کریم نے ڈاکٹر جمعہ مری کا دل بدلا تو فروری 2018ء میں انھوں نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے شرکا کو تفصیل سے بتایا کہ بھارت اور چند مغربی ممالک کس طرح بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کرکے نام نہاد علیحدگی پسندی کی ’’تحریک‘‘ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس انکشاف نے بھارتی خفیہ والوں کی نیندیں اُڑا دیں۔

تین دن پہلے، یومِ پاکستان کے موقع پر، جناب ڈاکٹر جمعہ خان نے ماسکو میں ایک اور’’دھماکا‘‘ کرکے دشمنانِ پاکستان کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ پہلی بار یہ واقعہ دیکھنے اور سننے کو ملا ہے کہ سابق قوم پرست بلوچ لیڈر ڈاکٹر جمعہ خان مری اور اُن کے کئی ساتھیوں نے یومِ پاکستان کی ایک شاندار تقریب میں کھلے دل اور کھلے ذہن کے ساتھ شرکت کی ہے۔ یہ تقریب ماسکو میں ہُوئی اور اس کا اہتمام 23 مارچ2018ء کو روس میں متعین پاکستانی سفیر قاضی خلیل اللہ نے اپنی سرکاری رہائشگاہ پر کیا تھا۔

اس خوبصورت تقریب میں غیر ملکی سفیروں، روسی میڈیا کے نمایندگان، روس میں پاکستانی کمیونٹی کے ارکان اور دیگر افراد نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔ ڈاکٹر جمعہ خان اور اُن کے کئی ساتھی بھی اس تقریب میں خصوصی طور پر مدعو تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر جمعہ خان نے مقامی میڈیا کے توسط سے رُوس اور تمام پاکستان میں بسنے والے پاکستانیوں اور ہموطنوں کو یومِ پاکستان کی مبارکباد دی اور تقریب کے سلسلے میں پاکستانی سفیر قاضی خلیل اللہ کی کوششوں کو سراہا۔

روس میں پاکستانی سفیر کی رہائشگاہ پر منعقدہ تازہ ترین یومِ پاکستان کی تقریب میں مقامی میڈیا سے بات چیت کرتے ہُوئے ڈاکٹر جمعہ خان نے پُرجوش الفاظ میں پاکستان کی سلامتی و یکجہتی کی باتیں بھی کیں اور یہ بھی انکشاف کیا کہ جب سے انھوں نے نام نہاد آزاد بلوچستان تحریک سے ناتہ توڑا ہے، انھیں حربیار مری وغیرہ کی طرف سے خطرناک دھمکیاں مل رہی ہیں۔

انھوں نے کہا :’’لیکن اب مَیں پاکستان کی سلامتی اور یکجہتی کی جانب اٹھے قدم واپس نہیں اٹھا سکتا۔ ہر جگہ اور دنیا کے ہر فورم پر پاکستان مخالف اور بلوچ عوام کے دشمن حربیار مری اور اُن کے ساتھیوں کا سامنا کروں گا اور دنیا کو بتاؤں گا کہ ان لوگوں کی حقیقت کیا ہے؟۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ عنقریب وہ ماسکو سے ایک نئی سیاسی جماعت لانچ کررہے ہیں اور اس جماعت کا نام ’’اوورسیز پاکستانی بلوچ یونٹی‘‘ ہوگا۔

انھوں نے رُوسی اور مغربی میڈیا سے گفتگو کرتے ہُوئے عالمی برادری سے پوچھا ہے :’’حربیار مری، براہمداغ بگٹی اور مہران مری ایسے نام نہاد لیڈر بی آر اے، بی ایل اے اور یو بی اے ایسی پاکستان مخالف تنظیمیں کیسے چلا رہے ہیں؟ انھیں یورپی سرزمین سے ایسی دہشتگردانہ سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت کیسے دی جارہی ہے؟ ان لوگوں اور ان کی مذکورہ تنظیموں کو بھارت سپانسر کررہا ہے۔‘‘

ڈاکٹر جمعہ خان نے استفسار کیا ہے : ’’عالمی میڈیا بھارت سے مدد لینے والے ان افراد کی پاکستان مخالف دہشتگردانہ کارروائیوں کے بارے میں خاموش کیوں ہے؟ براہمداغ بگٹی، حربیار مری اور مہران مری خود تو دوسروں کے پیسے پر یورپی ممالک میں عیاشیاں کررہے ہیں جب کہ انھیں عام غریب پاکستانی بلوچ کی کوئی پروا نہیں ہے۔‘‘ ڈاکٹر جمعہ خان نے کہا ہے کہ روس اور مغربی یورپ میں بسنے والے بہت سے معروف اور اہم پاکستانی بلوچی عنقریب اُن کی نئی جماعت میں شامل ہو جائیں گے ’’لیکن ابھی مَیں ان معروف لوگوں کے نام نہیں بتا سکتا۔‘‘

ڈاکٹر جمعہ خان مری صاحب کی ’’گھر واپسی‘‘ پر ہماری طرف سے انھیں مبارکباد۔ وہ تاخیر سے گھر واپس آئے ہیں لیکن گھر والے اُن سے ناراض نہیں ہیں کہ یہ گھر ایسا عظیم اور اس کے اکثریتی مکین اتنے وسیع القلب واقع ہُوئے ہیں کہ ہمیشہ اپنے بچوں کی غلطیوں سے درگزر کرتے ہُوئے انھیں معاف کرتے چلے آئے ہیں۔ چند ماہ پہلے، ستمبر2017ء میں، ایک اور بلوچ لیڈر(نوابزادہ خیر بخش مری کے صاحبزادے گزین مری) بھی 18 برسوں کی خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے واپس اپنے گھر آئے تھے تو اُن کی بھی کئی مبینہ غلطیاں گھر والوں نے معاف کر دی تھیں (گزین مری نے یہ عرصہ متحدہ عرب امارات میں گزارا تھا) وہ اگرچہ اب کچھ مقدمات بھگت رہے ہیں لیکن اپنے دیس میں اجنبی نہیں ہیں۔

گزین مری نے متحدہ عرب امارات سے پاکستان واپسی پر کہا تھا: ’’ بہت ہو گیا۔ اب مَیں اپنے وطن میں زندگی کے باقی دن گزارنا چاہتا ہُوں۔‘‘ مقدمے بھی ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے۔ اُن کی بلوچستان واپسی پر بھارتی اخبارات کو بڑی تکلیف پہنچی تھی، جیسا کہ اَب ڈاکٹر جمعہ خان مری کی ماسکو میں اُٹھتی آوازیں سُن کر بھارتی میڈیا اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو دلی تکلیف پہنچی ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ غیر ممالک میں بیٹھے چند بلوچ ’’لیڈر‘‘ کسی کے اشارے پر پاکستان مخالف جو بولیاں بول رہے ہیں اور جن سرگرمیوں میں مصروف ہیں، یہ اُن کے کسی کام نہیں آئیں گی۔ ان بلوچ لیڈروں کو جو محبت، عزت اور اکرام پاکستان میں مل سکتا ہے، کہیں اور مل سکتا ہے نہ کوئی دے سکتا ہے۔ اُن کا اصل گھر پاکستان ہے۔

موج ہے دریا میں، بیرونِ دریا کچھ نہیں ہے۔ اُن کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنے گھر پاکستان واپس آئیں اور اس سرزمین سے دلی وابستگی اختیار کریں کہ یہ وطن اُن کے بزرگوں اور پُرکھوں کا ہے۔ کسی کی بات مان کر کسی کے کام آتے رہنا کہاں کی مردانگی ہے؟غیور اور غیرتمند بلوچ تو ویسے بھی اپنے وطن کی حُرمت پر مر مٹتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔