لاہور میں پنجاب حکومت کے زیراہتمام بھگت سنگھ سے متعلق دستاویزات کی نمائش

آصف محمود  منگل 27 مارچ 2018

لاہور: پنجاب میں پہلی بار جنگ آزادی کے ہیرو بھگت سنگھ کی تصاویر اوردستاویزات کی نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں بھگت سنگھ کیس فائل اور دیگر تاریخی دستاویز رکھی گئی ہیں۔

آزادی کی جنگ لڑنے والے  بھگت سنگھ کو ایک برطانوی پولیس آفیسر کے قتل کی پاداش میں پھانسی دیئے جانے کے 87 سال بعد پاکستان میں  پہلی مرتبہ آزادی کے ہیرو کی کیس فائل بشمول ان کی پھانسی سے متعلق سرٹیفکیٹ کے بعض ریکارڈ کی نمائش کا اہتمام کیاگیا ہے.

23 سالہ بھگت سنگھ کو برطانوی حکمرانوں نے 23 مارچ 1931 کو لاہور میں پھانسی دی تھی جبکہ سامراجی حکومت کے خلاف سازش رچانے کے الزامات پر ان کے خلاف مقدمہ بھی چلایا گیا تھا، بھگت سنگھ کے خلاف اس کیس میں سکھ دیو اور راج گرو کو بھی ملزم بنایا گیا تھا کہ انہوں نے سازش رچاتے ہوئے برٹش پولیس آفیسر جان سانڈرس کو ہلاک کردیا تھا۔

پنجاب کا محکمہ آثار قدیمہ بھگت سنگھ کے کیس فائل کا پورا ریکارڈ عوام کے مشاہدے کے لیے پیش نہیں کرسکا، تاہم جودستاویزات پیش کی گئی ہیں ان میں بھگت سنگھ کی درخواست مورخہ 27 اگست 1930ء شامل ہے جو انہوں نے عدالتی حکم نامہ فراہم کرنے کے لیے داخل کی تھی۔

علاوہ ازیں نمائش میں بھگت سنگھ کی اپنے والد کے انٹرویو کے لیے 31 مئی 1929 کو لکھی گئی پٹیشن اور دیگر مکتوبات وغیرہ شامل ہیں، بھگت سنگھ کی وہ عرضی بھی نمائش کے لیے پیش کی گئی ہے جو انہوں نے روزانہ اخبارات اور کتابیں پڑھنے کی اجازت کے لیے داخل کی تھی۔ روزنامہ ویربھارت کے کئی تراشوں سمیت دیگر چیزیں بھی آج نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔ پنجاب آرکائیومیوزیم میں یہ نمائش ایک ہفتے تک جاری رہے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔