سکھرمیں قائم علی شاہ کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض کرنے والے وکیل پر مخالفین کا تشدد

ویب ڈیسک  بدھ 10 اپريل 2013
 منظور انصاری نے سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کےخلاف 9 اعتراضات داخل کرائے۔ فوٹو ایکسپریس نیوز

منظور انصاری نے سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کےخلاف 9 اعتراضات داخل کرائے۔ فوٹو ایکسپریس نیوز

سکھر: سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اعتراض کرنے والے وکیل کو مخالف گروپ نے مارمارکر لہولہان کردیا۔

سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ  ميں ڈسٹرکٹ بار خیرپورکے صدر منظور انصاری جیسے ہی اعتراضات جمع کرا کر عدالت سے باہر نکلے تو وہاں موجود وکلا کے گروپ نے انہیں گھیر لیا اور عدالت کے احاطے میں ہی انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنا کرزخمی کردیا جبکہ  اس دوران وہاں موجود پولیس اہلکار بھی خاموش تماشائی بنے رہے، صورت حال مزید بگڑتے دیکھ کر وہاں موجود  چند دیگر وکلا نے منظور انصاری کو مخالفین سے چھڑایا ۔

واقعے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے منظور انصاری کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے لوگوں نےانہیں تشدد کا نشانہ بنایا ، ان پر تشدد کرنے والوں میں چند وکیل تھے باقی دیگر لوگ تھے، منظور انصاری نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر ان پر ہونے والے تشدد کا نوٹس لیں اور سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کیےجائیں۔

واضح رہے کہ  قائم علی شاہ اپنے آبائی علاقے خیرپور سے صوبائی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ان کے کاغذات نامزدگی کے خلاف ریٹرننگ افسر کے سامنے بھی اعتراض کیا گیا تھا جسے مسترد کرتے ہوئے ان کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے گئے تھے جس کےبعد منظور انصاری نے 9 اعتراض سندھ ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل کے سامنے  پیش کردیئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔