قاف لیگ، چوہدری برادران اور نئی کتاب

تنویر قیصر شاہد  جمعـء 6 اپريل 2018
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

ایک زمانہ تھا کہ میاں محمد نواز شریف و میاں محمد شہباز شریف اور گجرات کے چوہدری برادران (چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی) ساتھ ساتھ کھڑے نظر آتے تھے۔ یک جان و دو قالب کے مصداق۔ پتہ نہیں یہ بات کہاں تک ٹھیک ہے کہ بھٹو سے دشمنی کے مشترکہ جذبے نے چوہدری برادران اور میاں برادران کو یکجا کر دیا تھا۔

ہمیں یہ بہرحال معلوم نہیں کہ نواز شریف اُن دنوں ’’نظریاتی‘‘ ہوتے تھے یا نہیں!!لیکن یہ واقعہ ہے کہ چوہدری برادران اور میاں برادران بوجوہ بھٹو صاحب سے ناراض تھے۔ ناراضی کا یہ مشترکہ جذبہ ہی دونوں ابھرتے سیاسی خاندانوں کو جنرل ضیاء الحق کے نزدیک لے گیا تھا۔ دونوں خاندانوں نے اِس قربت سے سیاسی فائدے بھی اٹھائے۔

جنرل ضیاء اِس بات میں خوش تھے کہ انھیں دنیا کو دکھانے کے لیے دو سیاسی خاندانوں کا سہارا میسر تھا۔ گویا مفادات کی باہمی رسّی نے اِس تکون کو باہم باندھ رکھا تھا۔البتہ جب ایک اور جنرل (پرویز مشرف) صاحب چھڑی اور بندوق ہلاتے ہُوئے اقتدار پر قابض ہو گئے تو میاں برادران اور چوہدری برادران کی راہیں جدا ہو گئیں۔ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ چوہدری برادران کے گھر پہنچ گئی، جس کے وہ برسوں سے منتظر تھے۔

چند ماہ پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ بھی چودھریوں کا نصیب بنی رہی۔ پھر زرداری صاحب کے دَور میں پاکستان کی نائب وزارتِ عظمیٰ بھی تو چودھریوں کے پاس رہی۔ میاں برادران نے البتہ اِس دوران چوہدری برادران سے تعلق مکمل طور پر منقطع کیے رکھا۔ اُن کا خیال تھا کہ اقتدار کے لوبھ میں چودھریوں نے اُن سے وفا نہیں کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چودھریوں کو بھی میاں برادران سے کچھ ایسا ہی گلہ رہا ہے۔

پچھلے نصف عشرے سے چوہدری برادران کے اقتدار کا سورج’’ نصف النہار‘‘ پر نہیں ہے۔ سمجھئے غروب ہی ہے۔ نواز شریف اُن کے ساتھ یا وہ میاں برادران کے ساتھ مل بیٹھنے یا اتحاد کرنے پرتیار نہیں ہیں۔ اِسے تکبّر بھی کہا جا سکتا ہے اور سیاسی انتقام بھی۔

مختلف حیلوں بہانوں سے مگر چوہدری برادران خود کو سیاسی اور سماجی طور پر زندہ رکھے ہُوئے ہیں۔ کبھی عمران خان کے ساتھ دھرنے میں ساتھ نبھا کر اور کبھی ڈاکٹر طاہرالقادری سے میل ملاقاتیں رکھ کر اور کبھی پرویز مشرف کے ساتھ موہوم سا سیاسی اشتراک کرکے۔ کبھی وہ اسلام آباد میں معروف غیر ملکی سفیروں کو اپنے ہاں مدعو کرکے رونق لگا لیتے ہیں جس کی بازگشت میڈیا میں بھی سنائی دیتی ہے۔

شاید خود کو سیاسی اعتبار سے Validرکھنے کا یہ بھی ایک بہانہ ہی ہے۔ہر چینی سفیر کے ساتھ بھی چوہدری برادران کے ہمیشہ مستحسن تعلقات رہے ہیں۔ یہ دوستی پاکستان کے لیے بھی مفید ہی ثابت ہوتی ہے۔ چودھریوں کے لیے پہلے مشاہد حسین سید صاحب یہ خدمت انجام دیا کرتے تھے لیکن جب سے مشاہد صاحب نون لیگ کو پیارے ہُوئے ہیں، یہ کام چودھریوں کو خود ہی انجام دینا پڑ رہا ہے۔

انھوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایسے معاملات میں کسی مشاہد حسین وغیرہ کے محتاج بھی نہیں ہیں۔ چند روز قبل بھی چوہدری برادران نے پاکستان میں متعین ہونے والے نئے چینی سفیرِ محترم، یاؤ جنگ، کو ظہرانے پر مدعو کرکے مشاہد حسین سید ایسے لوگوں کو ایک مخصوص پیغام بھیجا ہے۔ اس ظہرانے میں چینی سفیر کے علاوہ درجن بھر دیگر غیر ملکی سفرا بھی مدعو تھے۔ اسلام آباد میں چوہدری صاحبان نے اس حوالے سے خوب رونق لگا رکھی تھی۔

چوہدری شجاعت حسین نے اس دعوت میں پاکستان کے لیے چین کی محبتوں اور ’’سی پیک‘‘ کی وسعتوں کا خوب شاندار الفاظ میں ذکر کیا۔گویاپاکستانی اقتدار سے باہر رہ کر بھی پاکستانی مفادات کے تحفظ کے لیے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کی خدمات جاری ہیں۔

حیرانی کی بات ہے کہ جب اختیار اور اقتدار کی چھاؤں آپ کے سر سے سرک جاتی ہے تو ہر شئے ویرانی اور پژ مردگی کے سائے تلے آ جاتی ہے۔ اقتدار کی چھتر چھاؤں قاف لیگ اور چوہدری برادران سے دُور ہُوئی تو اسلام آباد میں اُن کا مرکزی دفتر بھی بے رونق ہو گیا۔ گزشتہ روز راقم کا اُدھر سے گزر ہُوا تو اُس کی ویرانیاں اور اجاڑ پَن دیکھ کر دل بیٹھ سا گیا۔ وفاقی دارالحکومت کے ایک معروف سیکٹر میں واقع قاف لیگ کے مرکزی دفتر پر ہمیشہ تالا لگا رہتا ہے۔ ہمسائے بھی لاعلم ہیں۔

دفتر کے باقاعدہ ملازمین مستقل چھٹیوں پر جا چکے ہیں۔ قاف لیگ کی بچی کھچی مقامی قیادت اس بارے میںلب کشائی پر تیار نہیں۔ یہ دفتر جو کبھی سیاسی رونقوں کی وجہ سے میلے کا سماں رکھتا تھا، اب وہاں ویرانیاں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ہمسایوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ مدتوں سے اس دفتر پر تالا ہی پڑے دیکھا گیا ہے۔ ایک ہمسائے نے بتایا کہ جب جنرل پرویز مشرف اقتدار میں تھے اور گجرات کے چوہدری برادران کا بھی ملک بھر میں اور اقتدار کے ایوانوں میںطوطی بول رہا تھا، اس دفتر میں ہر وقت میلے کا سماںرہا کرتا تھا۔

ہر وقت درجنوں چھوٹی بڑی گاڑیاں یہاں کھڑی نظر آتی تھیں۔ لیکن جب سے اقتدار کا ہما شریف برادران کے کندھوں پر بیٹھا ہے، قاف لیگ کا دفتر ویران ہے۔ ایک اور ہمسائے نے بتایا کہ کبھی کبھار کوئی خاکروب یہاں آتا ہے اور باہر کی صفائی کرکے خاموشی سے چلا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں چوہدری برادران نے چینی سفیر سمیت کئی دیگر سفرا کی دعوت کی تو اس کا اہتمام یہاں بھی کیا جاسکتا تھا لیکن شائد ادھر کسی کا دھیان نہیں گیا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قاف لیگ کے سینیٹرز حضرات بھی اس دفتر کا رخ نہیں کرتے۔

قاف لیگ کا یہ دفتر تین منزلہ اور بارعب ہے لیکن اب مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ویرانی اور کہنگی اس پر ٹوٹ کر برس رہی ہے۔ صحن کے اندر جھاڑ جھنکاڑ اور خود رَو پودوں نے ڈیرے جما لیے ہیں۔عمارت کا رنگ وروغن بھی اتر چکا ہے۔ قاف لیگ کے مرکزی دفتر کی یہ حالت زار کیامسلم لیگ ق کے سیاسی زوال کی بھی کہانی سناتی ہے؟ ایسا بھی مگر نہیں ہے کہ قاف لیگ کے سارے چراغ گُل ہو چکے ہیں۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ چوہدری برادران سیاسی دلکشی کھو چکے ہیں۔ اُن کی سیاسی کشش، کسی نہ کسی شکل میں، اب بھی باقی ہے۔ کئی لوگ اب بھی اُن کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ مثال کے طورپر بلوچستان کے نئے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو صاحب بھی اُن کی پارٹی سے وابستہ ہیں۔ اور یہ قاف لیگ کے زندہ و پایندہ ہونے کا تازہ ثبوت ہے۔ مثال کے طور پر پی پی 213 سے نون لیگ کے ایک معروف سیاستدان مخدوم سید اسد عباس شاہ کی حال ہی میں قاف لیگ میں شمولیت۔ اور مثال کے طور پر مانسہرہ سے پی ٹی آئی کے ایک ایم پی اے، وجیہ الزمان خان، نے بھی چند دن پہلے ہی کپتان سے سیاسی رشتہ توڑ کر قاف لیگ سے نیا رشتہ استوار کیا ہے۔

مطلب یہ ہے کہ قاف لیگ کے چراغ ابھی لَو دے رہے ہیں۔ اُن کی روشنی ابھی کئی لوگوں کے لیے امید کا پیغام ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مایوسیوں کے باوصف چودھریوں نے امید کے چراغ بجھنے نہیں دیے ہیں۔چند ہفتوں بعد آنے والے عام انتخابات میں ممکن ہے ان چراغوں کی روشنی اور تعداد مزید بڑھ جائے۔

سیاست کی دنیا میں زندہ رہنے اور اپنے ہونے کا ثبوت فراہم کرتے رہنے کا جو فن چوہدری برادران نے چوہدری ظہور الٰہی سے سیکھا تھا، اُسے وہ بروئے کار لاتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر چوہدری شجاعت حسین چندد نوں میں اپنی خود نوشت سوانح حیات منظرِ عام پر لانے والے ہیں۔ شنید ہے اس میں بڑے بڑے انکشافات ہیں۔چند دنوں تک میڈیا میں چوہدری برادران کے نام سے رونق لگی رہے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔