گیدڑ

جاوید چوہدری  جمعرات 11 اپريل 2013
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

میں اسلام آباد کا شہری ہوں ‘ مجھے اس شہر سے بہت پیار ہے اور اس کا ہر مسئلہ مجھے پریشان کر دیتا ہے‘ اس شہر کے دوسرے شہروں کی طرح بے شمار مسائل ہیں مگر میری نظر میں اس کا سب سے بڑا مسئلہ گیدڑ ہیں‘ یہ گیدڑ اصل گیدڑ نہیں ہیں‘ یہ نقلی اور عارضی گیدڑ ہیں لیکن انھوں نے شہر کی پوری فضا خراب کر رکھی ہے‘ ہم اسلام آباد کے شہری پچھلے ایک ماہ سے بڑی حد تک ان گیدڑوں سے آزاد ہیں اور ہم شہر میں اطمینان کا سانس بھی لے رہے ہیں‘ یہ گیدڑ ہوٹر‘ سائرن اور پروٹوکول کی گاڑیوں کی ٹوں ٹوں ہیں اور ہم اسلام آباد کے تمام شہری ان کے ہاتھوں بے انتہا تنگ ہیں‘میرا دفتر مارگلہ روڈ پر ہے ‘ یہ روڈ گیدڑوں کی خصوصی گزر گاہ ہے‘ میں اور میرے دفتر کے لوگ پچھلے آٹھ برسوں سے سائرن اور ہوٹرز کی آوازیں سنتے آ رہے ہیں‘ مارگلہ روڈ سے ہر دس منٹ بعد کوئی اہم شخص گزرتا ہے اور اس کے آنے اور جانے کے دس پندرہ بیس منٹ بعد تک سائرن کی آوازیں ہمارے کانوں کی دیواروں سے چپکی رہتی ہیں۔

ہم لوگ ان آوازوں کو بمشکل اپنے حافظے کا حصہ بنا پاتے ہیں کہ دوسرے اہم یا اہم ترین شخص کے گزرنے کا وقت آ جاتا ہے اور پوری فضا نئے گیدڑوں کی آوازوں سے گونج اٹھتی ہے‘ یہ صورتحال جنرل پرویز مشرف اور شوکت عزیز کے دور میں بھی تھی مگر صدر آصف علی زرداری اور ان کے وزراء اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے ادوار میں یہ بیماری بن گئی‘ حکومت کے 65 وزراء تھے اور یہ تمام وزراء پروٹوکول اور سیکیورٹی سے لطف اٹھا رہے تھے‘ حکومت کے مشیروں کے پاس بھی سیکیورٹی تھی‘ حکومت کے سیاسی اتحادیوں کی قیادت بھی سائرن کو انجوائے کرتی تھی‘ مولانا فضل الرحمن‘ اسفند یار ولی‘ چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی بھی پروٹوکول کی پانچ پانچ دس دس گاڑیوں کے ساتھ باہر نکلتے تھے‘ وزراء اور وزیراعظم کے خاندانوں کو بھی سیکیورٹی کی سہولت دستیاب تھی‘ میں نے راجہ پرویز اشرف کے بھتیجوں اور بھانجوں کو بھی سائرن والی گاڑیوں کے ساتھ اسلام آباد میں دوڑتے بھاگتے دیکھا‘ اسٹیڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمینوں‘ اسپیکر‘ ڈپٹی اسپیکر‘ چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بھی اس سہولت سے لطف لیتے تھے۔

صدر کا سارا خاندان اور خاندان کے دوست بھی پروٹوکول کے مزے اڑاتے تھے اور رہی سہی کسر غیر ملکی سفیر پوری کر دیتے چنانچہ آپ شہر کی کسی سڑک پر نکل جاتے آپ کو چند گز کے بعد کوئی نہ کوئی اہم ترین شخص سفر کرتا دکھائی دیتا‘ اس کے آگے اور پیچھے کی گاڑیوں میں ننگی رائفلوں والے گارڈز نظر آتے اور ان سے آگے پولیس کی سائرن بجاتی سرخ اور نیلی روشنیوں والی گاڑی ہوتی‘ یہ لوگ صرف سائرن نہیں بجاتے تھے بلکہ یہ اوورا سپیڈنگ بھی کرتے تھے اور ان کے گارڈز سڑک پر موجود گاڑیوں کو ہاتھ کے اشارے سے دائیں بائیں ہونے کا حکم بھی دیتے جاتے تھے‘ گارڈز کا رویہ اس قدر خوفناک اور توہین آمیز ہوتا تھا کہ میں نے کئی بار سہم کر گاڑی کھڑی کر دی اور اس اہم ترین شخص کو گزرنے اور اس کی اڑائی ہو گرد بیٹھنے کا انتظار کرتا رہا مگر اس کے جانے کے فوراًبعد دوسرے اہم ترین شخص کا قافلہ پہنچ گیا اور یوں میرا گزرنا محال ہو گیا۔

جناب پرویز اشرف کی حکومت اور پارلیمنٹ کے خاتمے کی پہلی نشانی گیدڑوں کی خاموشی کی شکل میں نکلی‘ 16 مارچ سے 24 مارچ یعنی نگراں حکومت کے قیام تک اسلام آباد میں کسی جگہ سائرن اور پروٹوکول کی ٹک ٹک کی آواز نہیں آئی‘ میں اس دوران اس عظیم مہربانی پر اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا رہا‘ نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو کے نام کا اعلان 24 مارچ کو ہوا‘ نئے وزیراعظم کے اعلان کے ساتھ ہی پروٹوکول کی گاڑیاں سڑک سے شاں شاں کر کے گزرنے لگیں‘ میں نے اس وقت تک کھوسو صاحب کی خبر نہیں سنی تھی مگرجوں ہی گیدڑوں کی آواز میرے کانوں میں پڑی‘ میں نے اپنے اسسٹنٹ سے کہا ’’ مہربانی کر کے ٹی وی آن کر دیں‘ مجھے لگتا ہے نگراں وزیراعظم کا اعلان ہو چکا ہے‘‘ میرے اسسٹنٹ نے ٹی وی آن کیا اور اسکرین پر میر ہزار خان کھوسو کی لمبی مسکراہٹ اور اس کے ساتھ بریکنگ نیوز چل رہی تھی‘کھوسو صاحب کی کامیابی کے 8 دن تک نگراں کابینہ نہ بن سکی چنانچہ اسلام آباد میں صرف وزیراعظم کے گیدڑ بھونکتے اور ہم لوگ اطمینان میں تھے مگر 2اپریل کو نگراں کابینہ نے حلف اٹھایا اور اس کے ساتھ ہی شہر کی فضا سائرنوں کی آوازوں سے آلودہ ہو گئی‘ گو راجہ پرویز اشرف جیسی صورتحال نہیں‘ کابینہ چھوٹی ہے اور ایک مہینے کی مختصر مدت کی وجہ سے وزراء کے بچوں نے سیکیورٹی اور پروٹوکول کا استعمال شروع نہیں کیا لیکن اس کے باوجود شہر میں ٹوں ٹوں کی آوازیں آتی ہیں‘الیکشن کا وقت قریب آتا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی میری نبض اور دل کی دھڑکن تیز ہو رہی ہے کیونکہ الیکشن کے بعد نئی حکومت بنے گی۔

اس حکومت میں بے شمار اہم لوگ ہوں گے اور یہ لوگ خود کو اس وقت تک اہم نہیں سمجھیں گے جب تک ان کی گاڑی کے آگے اور پیچھے پولیس وین نہیں ہوگی‘ اوپن جیپیں نہیں ہوں گی‘ ان جیپوں میں مسلح کمانڈوز نہیں ہوں گے اور یہ کمانڈوز سڑک پر چلنے والی گاڑیوں میں بیٹھے لوگوں کو اشارے سے ان کے حقیر ہونے کا احساس نہیں دلائیں گے‘ میں اس وقت سے ڈر رہا ہوں کیونکہ میں سولائزڈ دور کے سولائزڈ شہری کی حیثیت سے جانتا ہوں آپ جب سڑک پر چلتے ہیں آپ خود کو باعزت‘ پڑھا لکھا اور قانون پسند شہری بھی سمجھ رہے ہوں اور آپ اچانک گیدڑوں کی آواز سنیں اور اس کے بعد فوراً اوپن جیپ میں بیٹھا کوئی ان پڑھ اور بدتمیز شخص نہایت حقارت سے آپ کی طرف دیکھے اور آپ کو گاڑی سائیڈ پر کرنے کا اشارہ کر دے تو آپ کے دل پر کتنی چوٹ پڑتی ہے اور یہ سلوک آپ کے ساتھ سال میں ایک آدھ بار ہو تویہ قابل برداشت ہے لیکن آپ کو اگر روزانہ یہ عذاب بھگتنا پڑے یا آپ کو دن میں چارپانچ بار مونچھوں والے بھاری بھرکم کمانڈوز ایسے اشارے کریں تو آپ یقیناً بلڈ پریشر کے مریض بن جائیں گے اور آپ کے ساتھ یہ سلوک وہ شخص کر رہا ہے جوکو الیفکیشن‘ تہذیب اور اخلاقیات میں بھی آپ سے بہت پیچھے ہے اور آپ کے مقابلے میں ٹیکس بھی ادا نہیں کرتا ‘ اس شخص کی واحد کوالیفکیشن اہم ترین شخص کی قربت‘ رشتے داری اور خوشامدہے یا پھر یہ والد کی سیٹ پر ایم این اے یا سینیٹر بن کر اسلام آباد آگیا ہے اور اس کے بعد وفاقی دارالحکومت کی فضا مکدر کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے اور ہم اس شہر کے باسی اس رویئے کے عادی اور بلڈ پریشر کے مریض بھی ہو چکے ہیں۔

ہماری نگراں حکومت کی واحد مہربانی گیدڑوں کی کمی ہے‘ یہ اگر مزید مہربانی کریں‘ یہ سپریم کورٹ سے پروٹوکول اور سیکیورٹی کے بارے میں کوئی ڈائریکشن لے لیں‘ وزیرقانون احمر بلال صوفی یا وزیر داخلہ ملک حبیب سپریم کورٹ چلے جائیں اور چیف جسٹس سے درخواست کریں ہم نے فیصلہ کیا ہے پاکستان کی کوئی حکومت پروٹوکول یا سیکیورٹی کے نام پر عام شہریوں کو ہلکان نہیں کرے گی‘ ملک میں صرف صدر‘ وزیراعظم‘ گورنر اور وزیراعلیٰ کے لیے سائرن بجے گا اور ان کے ساتھ سیکیورٹی کی گاڑیاں چلیں گی تو یہ اس ملک پر بہت بڑی مہربانی ہو گی‘ حکومت سپریم کورٹ کی مدد سے یہ قانون بنا سکتی ہے‘ ان چار عہدوں کے علاوہ کسی شخص کو سرکاری پروٹوکول اور سیکیورٹی نہیں دی جائے گی‘ یہ لوگ ایک گاڑی میں سفر کریں گے‘ ان کے ساتھ گاڑی کے اندر ایک گن مین ہو گا اور یہ اس کے علاوہ سیکیورٹی کی کوئی گاڑی ساتھ نہیں رکھ سکیں گے‘ ان کے لیے کسی جگہ سائرن یا ہوٹر بھی نہیں بجے گا‘ یہ پرائیویٹ گارڈز نہیں رکھ سکیں گے۔

اگر انھیں اپنی جان کا اتنا ہی خطرہ ہے تو یہ عہدہ قبول نہ کریں کیونکہ یہ لوگ اتنے ناگزیر نہیں ہیں کہ ان کے پروٹوکول اور سیکیورٹی پر اس ملک کے غریب عوام کے کروڑوں روپے خرچ کر دیے جائیں‘ یہ لوگ آج سیکیورٹی اور پروٹوکول کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں‘ یہ حلقوں میں الیکشن مہم بھی چلا رہے ہیں اور کسی جگہ ان کی جان کو خطرہ پیش آیا اور نہ ہی ان کی عزت اور مرتبے میں کمی آئی تو یہ اقتدار کے بعد بھی پروٹوکول کے بغیر رہ سکتے ہیں ‘ چیف جسٹس کو چاہیے یہ پروٹوکول پر بھی سوموٹو نوٹس لیں اور حکومت سے پوچھیں ہمارے ملک میں سیکیورٹی اور پروٹوکول کے بغیر زندگی گزارنے والا شخص پارلیمنٹ اور کابینہ میں پہنچ کر اس کے بغیر زندہ کیوں نہیں رہ سکتا؟ اگر آج قمر زمان کائرہ‘ راجہ پرویز اشرف اور مخدوم امین فہیم بلٹ پروف گاڑی کے بغیر زندہ ہیں تو پھر حکومت میں آنے کے بعد بھی انھیں کچھ نہیں ہو گا‘ نگراں حکومت اگر ان گیدڑوں سے ہماری جان چھڑا جائے تو یہ اس کی ہم پر بہت بڑی مہربانی ہو گی‘ صاف اور شفاف الیکشن سے بھی بڑی مہربانی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔