کیا زرداری کا خواب پورا ہوگا؟

اظہر تھراج  ہفتہ 14 اپريل 2018
زرداری صاحب جوش خطابت میں میاں صاحب سے پنجاب چھیننے کی بات کرگئے۔ فوٹو:انٹرنیٹ

زرداری صاحب جوش خطابت میں میاں صاحب سے پنجاب چھیننے کی بات کرگئے۔ فوٹو:انٹرنیٹ

میں آپ کو حقوق دوں گا، آپ کی جنگ لڑوں گا، کیا آپ میرا ساتھ دو گے؟ میرے لیے لڑو گے؟ مرو گے؟ آواز سن کر میں چونک سا گیا۔ سر اٹھا کر دیکھا تو ٹی وی سکرین پر بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا کی برسی میں آئے جیالوں سے مخاطب تھے، وہ بڑے دعوؤں کے ساتھ ساتھ اپنی مظلومیت کا رونا بھی رو رہے تھے۔ ان کے بعد موصوف کے ابا جی نے بھی جوشیلا خطاب کیا، اب کی بار وہ کسی اور کی نہیں، نواز شریف کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر تلے ہوئے تھے۔ جوش خطابت میں میاں صاحب سے پنجاب چھیننے کی بات کرگئے، اب سوال یہ ہے کہ زرداری صاحب ایسا کر پائیں گے یا سندھ بھی گنوا دیں گے۔

سب کے سامنے ہے کہ پہلے مئی 2013ء کے عام انتخابات، پھر بلدیاتی اور ضمنی انتخابات میں یہ پارٹی خوب پٹی۔ قومی اسمبلی میں یہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت تو بن گئی لیکن یہ کردار بھی نہ نبھا سکی اور ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کے داغ سے داغدار ہوگئی۔ یہ اس جماعت کی نااہلی تھی کہ کم نشستیں لینے والی جماعت پی ٹی آئی حزب اختلاف کے کردار کو لے اڑی، ایسی اپوزیشن کی کہ پورے پانچ سال حکومت کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیا۔ حتیٰ کہ اس کی وجہ سے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ 2008 سے 2013 تک اپنے عہد اقتدار میں زرداری ہاتھ پر ہاتھ دھرے محض ڈرائنگ روم کی سیاست فرماتے رہے اور ملک مختلف بحرانوں اور طوفانوں میں گھرا رہا۔ یہی وجہ تھی کہ نوازشریف 2013 کا الیکشن جیتے اور حقیقی اپوزیشن کا کردار بھی پیپلز پارٹی کی بجائے عمران خان لے اڑے۔

سوال یہ ہے کہ زرداری صاحب کو نواز شریف پر اتنا غصہ کیوں ہے، جو صلح کی بجائے طبل جنگ بجا رہے ہیں۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق پیپلز پارٹی اپوزیشن کا کردار بچانے کےلیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے، کیونکہ عام انتخابات کے بعد کا منظر صاف دکھا رہا ہے کہ تحریک انصاف ملک کی پہلی نہیں تو دوسری بڑی پارلیمانی پارٹی ضرور بنے گی۔

پیپلز پارٹی تحریک انصاف کا تجویز کردہ سینیٹ چیئرمین تو لے آئی، اور اس کا کریڈٹ اپنے نام کرکے اینٹ سے اینٹ بجانے والوں کے پائوں پڑگئی ہے۔ یہ فیصلہ اس کی جمہوری ساکھ پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ پیپلز پارٹی جو پہلے ہی عوام میں بنیادی حقوق کے حوالے سے اپنا ماضی کا کردار کھو رہی ہے، وہ اس طرح کا غیر جمہوری کردار اور اسٹیبلشمنٹ کے کیمپ میں کھڑی ہو کر سیاسی داؤ پیج کھیل رہی ہے جو کہ اس کی نظریاتی سیاست کے خلاف ہے۔ بلوچستان اور سینیٹ الیکشن کے بعد زرداری پنجاب میں سرمایہ کاری کے ذریعے اور اسٹیبلشمنٹ کندھوں پر سوار ہو کر عوام میں ووٹ مانگیں گے اور پیپلز پارٹی جوڑ توڑ اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے ذریعے کچھ سیٹیں تو ضرور حاصل کر سکے گی مگر یہ سارا عمل اس کی نظریاتی ساکھ اور غیر جمہوری قوتوں کے آگے ڈٹ جانے کی پہچان کھو بیٹھے گا۔ زرداری تو اپنی سیاسی اننگز کھیل گئے مگر بلاول کو ایک ایسے سیاسی ماحول میں چھوڑ جائیں گے جہاں پیپلز پارٹی کی پہچان اسٹیبلشمنٹ سے لڑ جانے اور بنیادی حقوق و آئین کی خاطر کوڑے کھانے والی عوامی جماعت کی بجائے ڈرائنگ روم کی کنگز پارٹی کی ہو گی۔

اگر پنجاب کو ن لیگ سے چھیننے کے زرداری کے دعوؤں کو انتخابی سیاست میں پرکھا جائے تو ہر ضمنی الیکشن اس جماعت کی انتخابی مقبولیت کا بھانڈہ پھوڑ رہا ہے۔ ماضی کی پیپلز پارٹی کی بجائے زرداری کی جماعت اب ہزاروں نہیں بلکہ سینکڑوں ووٹوں تک محدود ہو گئی ہے، اعدادو شمار کے مطابق ملک بھر کے 18 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، کل 18 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا، اس الیکشن میں مسلم لیگ ن پہلے، تحریک انصاف دوسرے، پیپلز پارٹی کے ووٹ ایم کیوایم سے بھی کم تھے اور اس کے 57 میں سے صرف سات امیدوار کامیاب ہوسکے تھے۔

پیلز پارٹی کی حکومت کی نسبت موجودہ حکومت نے عوام کو ڈلیوری کیا، عوام کو کچھ دیا ہے، چھینا نہیں، کام کیا ہے، سندھ کی نسبت پنجاب اورخیبر پختونخوا میں ترقیاتی کام ن لیگ اور پی ٹی آئی کو چند ماہ بعد آنے والے الیکشن میں فائدہ پہنچائیں گے۔ وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وفاقی ادارہ شماریات کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار یعنی شرح نمو 5.28 فیصد ہے جو کہ گزشتہ 9 برسوں کے دوران سب سے زیادہ ہے۔ مالی سال 07-2006 کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار سب سے زیادہ یعنی 6.8 فیصد تھی۔ موجود حکومت نے اپنے دور میں معاشی ترقی (شرح نمو) کا ہدف 6 فیصد مقرر کیا تھا جو کہ حاصل نہیں کیا جا سکا، جبکہ 14-2013 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 8.62 فیصد تک تھی؛ لیکن موجودہ حکومت اس میں خاطرخواہ کمی کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

مالی سال 16-2015 میں مہنگائی کی رفتار 2.82 فیصد تک کم ہو گئی تھی لیکن اس کے بعد سے اس میں اضافہ دیکھا گیا۔ جنوری 2018 میں مہنگائی کی شرح 4.4 فیصد تک تھی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا۔ 13-2012 کے بعد سے حکومت مالی خسارے (حکومت کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان فرق) میں بھی خاطرخواہ کمی کرنے میں کامیاب رہی۔ آغاز میں مالی خسارہ 8.2 فیصد تھا جو کہ گزشتہ مالی سال 5.8 فیصد رہا۔ لیکن آئی ایم ایف کی رپورٹس کے مطابق رواں مالی سال حکومت کا بجٹ خسارہ 6 فیصد رہنے کا امکان ہے، جب کہ اس کا ہدف 4.1 فیصد رکھا گیا تھا۔ آئی ایم ایف نے بھی مالی خسارے کو کل ملکی پیدوار 6.3 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ غیرملکی ززِمبادلہ کے ذخائر 14-2013 میں 15.8 ارب ڈالر تھے جو کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بڑھ کر 19.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق حکومت کے دوران کی نسبت مسلم لیگ ن کی حالیہ حکومت کے دور میں ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ حکومتی معاشی پالیسی کی اہم ترین کامیابی تھی۔ لیکن گزشتہ ایک سال کے دوران ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی دیکھی گئی ہے جو کہ اس وقت حکومت کے لیے سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے دور میں ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس کلیکشن پانچ سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ حکومت نے مالی سال 19-2017 کے دوران ٹیکس ریونیو کا ہدف 40 کھرب روپے رکھا ہے۔

اس بار جو الیکشنز ہونے جارہے ہیں وہ ماضی سے قدرے مختلف ہوگا، عوام بھی اب وہ نہیں رہے کہ صرف نعروں اور لاروں پر ٹرخا دیا جائے، میڈیا پر سب کی نظر ہے اور میڈیا کی سب پر۔ الزامات، توہمات کی بجائے کارکردگی ووٹ کا پیمانہ رہا تو زرداری صاحب کا خواب پورا ہوتا مشکل نظر آرہا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

اظہر تھراج

اظہر تھراج

بلاگر انٹر نیشنل ریلیشنز میں ایم فل ہیں۔ بڑے قومی اخبارات بشمول روزنامہ خبریں، پاکستان، نوائے وقت سے وابستہ رہے۔ آج کل دنیا نیوز نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔ جمہوریت کے زبردست حامی، آمریت کے مخالف ہیں۔ ان سے @azharthiraj کے ذریعے فیس بک اور ٹوئٹر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔