دبئی میں کچرے سے بنے لباس زیب تن کرنے والی خواتین

ویب ڈیسک  جمعـء 13 اپريل 2018
دبئی کی خواتین نے ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے لیے کچرے سے بنے لباس زیب تن کیے۔ فوٹو : انسٹا گرام

دبئی کی خواتین نے ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے لیے کچرے سے بنے لباس زیب تن کیے۔ فوٹو : انسٹا گرام

دبئی: مارسکا اور ماریٹا نامی خواتین نے سڑکوں سے کچرا اُٹھانے کے لیے انوکھا طریقہ اختیار کرتے ہوئے کچرے سے بنا ہوا لباس زیب تن کر رکھا ہے جس میں وہ راہ چلتے کچرا جمع کرتی ہیں۔ 

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق مارسکا اور ماریٹا نامی خواتین نے پلاسٹک کے بڑے بڑے کوٹ سلوا کر اسے زیب تن کیا جسے خصوصی طور پر اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ راہ چلتے کچرا اٹھا کر اسے لباس کے مخصوص حصوں میں محفوظ رکھ سکتی ہیں اور بعد ازاں اسے ٹھکانے لگا دیتی ہیں۔

ان دونوں خواتین نے یہ خصوصی لباس کچرا اٹھانے اور صفائی ستھرائی کے شعور کو اجاگر کرنے کے لیے زیب تن کیے ہیں اور اس مہم کا مقصد ماحول کو آلودہ ہونے سے بچانا ہے جب کہ یہ مہم گزشتہ ماہ 24 مارچ کو ’اَرتھ آر‘ کے دن شروع کی گئی اور 22 اپریل کو  ’ارتھ ڈے‘ تک جاری رہے گی۔ اس دوران دونوں خواتین متحدہ عرب امارات کے تمام بڑے شہروں کا دورہ بھی کریں گی۔

دونوں خواتین ایک دن میں 2 سے 5 کلو تک کچرا جمع کرتی ہیں اور شادی بیاہ سمیت دیگر اہم تقریبات میں بھی یہی لباس زیب تن کیے ہوتی ہے جن کا مقصد لوگوں کو اس مہم کی جانب متوجہ کرنا اور لوگوں کو کچرے سے ہونے والے نقصان اور ماحولیاتی آلودگی سے آگاہ کرنا ہے۔

خواتین کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ لباس اس لیے زیب تن کیا ہے تاکہ لوگ ہماری جانب متوجہ ہوں اور ہم سے سوالات کریں جن کے جواب میں ہم ماحولیاتی آلودگی سے متعلق اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ کافی کامیاب جا رہی ہے اور لوگ نہ صرف ہماری حوصلہ افزائی کر رہے ہیں بلکہ خود بھی اس مہم کا حصہ بن رہے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔