سخت گرمی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے عوام پریشان

ایڈیٹوریل  ہفتہ 14 اپريل 2018
شدید گرمی کے موسم میں ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 8 سے اٹھارہ گھنٹے تک تجاوز کرگیا ہے۔ فوٹو: فائل

شدید گرمی کے موسم میں ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 8 سے اٹھارہ گھنٹے تک تجاوز کرگیا ہے۔ فوٹو: فائل

قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے ملک بھر میں بالعموم اور کراچی میں بالخصوص بجلی کی لوڈشیڈنگ پر شدید احتجاج کیا اور ایم کیو ایم کے ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہوئے وزیر توانائی کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جب کہ وزیر بجلی نے موقف اختیار کیا کہ جہاں بجلی چوری ہوگی وہاں لوڈشیڈنگ بھی ہوگی۔

سخت گرمی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نے عوام کو شدید پریشانی اور اذیت سے دوچار کیا ہوا ہے، عوام نہ صرف سراپا احتجاج ہیں بلکہ لوڈشیڈنگ کے معاملہ پر یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ بجلی چوری روکنے کی ذمے داری کس کی ہے؟ جب کہ کراچی میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی اینٹی تھیفٹ کیبل کے نام پر پورے شہر میں نہ صرف تار تبدیل کرچکی ہے بلکہ ہر علاقے میں ڈیجیٹل میٹر بھی نصب کردیے گئے ہیں جس کی تیز رفتاری اور موبائل سے ریڈنگ کنٹرول کرنے کی افواہیں بھی عوام میں گردش کررہی ہیں۔

بجلی کے بلوں کی مد میں غلط اور اضافی بلنگ کے ذریعے کراچی کے عوام سے 60 ارب روپے اضافی وصول کیے گئے، اس کے باوجود بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ حکومتی اور بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کی بدترین نااہلی کو ظاہر کرتی ہے۔ شدید گرمی کے موسم میں ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 8 سے اٹھارہ گھنٹے تک تجاوز کرگیا ہے، بعض علاقے تو ایسے ہیں جہاں تین گھنٹے تعطل کے بعد صرف ایک گھنٹہ بجلی فراہم کی جارہی ہے۔

شہر قائد میں اس وقت گرمی کا پارہ 41 ڈگری تک پہنچ گیا ہے۔ وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے بھی اعتراف کیا ہے کہ کراچی میں لوڈشیڈنگ دیگر شہروں کی نسبت زیادہ ہے، کے الیکٹرک معاہدے کی شرائط پوری نہیں کررہی ہے۔

2018 میں بجلی کی لوڈشیڈنگ یکسر ختم کردینے کے دعوے بھی ہوا ہوگئے، موجودہ حکومت کا دورانیہ ختم ہونے کے قریب ہے لیکن بجلی کی لوڈشیڈنگ کی صورت حال روز اول کی طرح بدتر ہے، کسی بھی قسم کی مثبت تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں واک آؤٹ سے پہلی اپوزیشن جماعتوں نے موقف اختیار کیا کہ کراچی میں لوڈشیڈنگ حکومت اور کے الیکٹرک کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے، کے الیکٹرک کے معاملے پر حکومت اپنی ذمے داری سے فرار اختیار نہ کرے۔

صائب ہوگا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت ملک بھر میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے اپنی ذمے داریوں کا ادراک کرتے ہوئے عوام کو بجلی کی مستقل فراہمی اور لوڈشیڈنگ کے تدارک میں اپنا کردار ادا کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔