ووٹ کا نہیں ووٹر کا احترام

ظہیر اختر بیدری  ہفتہ 14 اپريل 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں، سیکڑوں جھوٹے وعدوں کے ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ووٹ کے تقدس کو، ووٹ کے احترام کو تسلیم کیا جا رہا ہے کہ ووٹ کے تقدس کو ووٹ کے احترام کو تسلیم کرو ۔ اسی حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عوام نے عدلیہ کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے ۔

جہاں تک ووٹ کے تقدس کی بات ہے بلاشبہ ووٹ عوام کی طاقت کا نام ہے اور عوام کی طاقت کا احترام بھی کیا جانا چاہیے اور اس کا تقدس بھی کیا جانا چاہیے لیکن ہم جس جمہوریت میں سانس لے رہے ہیں اس میں ووٹ کے تقدس کا عالم یہ ہے کہ اسے خریدا بھی جاتا ہے اور بیچا بھی جاتا ہے، ایسی چیز جو سیاست کے بازار میں خریدی اور بیچی جاتی ہے اس کا تقدس ووٹ خریدنے والوں نے اس طرح ملیامیٹ کرکے رکھ دیاہے کہ ووٹ آلو،  پیاز بن کر رہ گیا ہے۔ ہماری اشرافیہ کی ہر بات کے پیچھے اس کے مفادات پوشیدہ ہوتے ہیں۔

ووٹ کے تقدس کی بات یوں ملائی جا رہی ہے کہ ہماری عدالت عظمیٰ سیاسی اشرافیہ کے خلاف فیصلے سنا رہی ہے اور یہ فیصلے اشرافیہ کے مفادات کے خلاف جا رہے ہیں ۔ اشرافیہ بڑی گھما پھرا کر بات کرتی ہے چونکہ حکمران عوام کے ووٹوں ہی سے اقتدار میں آتے ہیں لہٰذا اقتدار کے خلاف کوئی بھی فیصلہ  ووٹ کے تقدس کو مجروح کرنے والا فیصلہ نہیں رہا ہے۔ ووٹ کے تقدس کا درس دینے والے محترم حضرات یقینا 2013 کے الیکشن کے خلاف اپوزیشن کے الزامات سے واقف ہوںگے، ان الزامات میں سب سے بڑا الزام ووٹ کے تقدس کو پامال کرنا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غریب عوام تو ووٹ ڈال کر اپنی قومی ذمے داری پوری کرتے ہیں لیکن ووٹ کے تقدس کو پامال کون کرتے ہیں۔ ابھی سینیٹ کے انتخابات ہوئے  جن کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ایک ایک ووٹ کروڑوں میں خریدا اور بیچا گیا ۔ کیا یہ ووٹ کی خرید و فروخت کرنے والے عوام تھے، کیا عوام نے ووٹ کے تقدس کو پامال کیا، کیا عدلیہ نے ووٹ کے تقدس کو پامال کیا؟

اس حوالے سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ بے لگام اشرافیہ کے منہ میں پہلی بار لگام دی جا رہی ہے اور ایسی جرأت کو اشرافیہ اپنی توہین سمجھتی ہے۔ اشرافیہ اول دن سے اختیارات کلی کے ساتھ ملک پر راج کرتی آرہی ہے اب اس کے اختیارات میں پہلی بار مداخلت ہوئی ہے جس کی وجہ سے اشرافیہ تلملارہی ہے ووٹ کے تقدس کی پامالی کا الزام اسی پس منظر میں لگایا جارہاہے جس ملک کے ووٹر کی آزادی کا حال یہ ہو کہ اسے ووٹ ڈالنے سے پہلے سختی سے یہ بتایاجاتا ہے کہ اسے کس نشان پر ٹھپہ لگانا ہے اور حکم عدولی کی سخت سزا سے بے چارہ ووٹر اس قدر خوف زدہ رہتا ہے کہ اپنی مرضی اور آزادی سے اپنے ووٹ کے استعمال کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا، جس جمہوریت میں عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے خریدے اور بیچے جاتے ہیں اور اس خریداری کے لیے اربوں کا فنڈ رکھا جاتا ہے اس جمہوریت کے ووٹ کی حرمت کی بات کرنا کس قدر مضحکہ خیز کہلاسکتا ہے۔

ہماری ستر سالہ سیاسی تاریخ بدعنوانیوں اورکرپشن سے بھری ہوئی ہے اور اس بدعنوانی اورکرپشن کا ارتکاب ایک فرد واحد افراد یا ایک جماعت نے نہیں کیا، بد عنوانی اور کرپشن کے اس حمام میں ساری سیاست ملوث ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا،  جب تک ہمارے ملک میں سرمایہ دارانہ سیاست کا رواج رہے گا۔ سرمایہ دارانہ نظام بے ایمانی سے شروع ہوتا ہے اور بے ایمانی پر ختم ہوتا ہے، رہے نظام میں ووٹ کے تقدس کی باتیں دیوانے کی بڑ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔اصل مسئلہ یہی ہے کہ اشرافیہ ووٹ کے تقدس کا پروپیگنڈا کرکے ووٹرکے تقدس کو نظر انداز کررہی ہے اس ملک کے بیس کروڑ عوام مقدس ہیں لیکن انھیں ذلیل و خوارکرکے رکھ دیا گیا ہے۔

ہمارے ملک میں 6 کروڑ مزدور ہیں جنھیں ہم صنعتی غلام کہہ سکتے ہیں۔ ان مزدوروں کو ٹھیکیداروں کی تحویل میں دے دیا گیا ہے، شکاگو میں مزدوروں سے غیر معینہ وقت تک اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام لیا جاتا تھا، صنعتکاروں کے اس ظلم کے خلاف شکاگو کے مزدوروں نے جب احتجاج شروع کیا تو بے رحم صنعتکاروں نے غلام پولیس کے ذریعے ان نہتے اور بے گناہ مزدوروں پر گولیاں چلوائیں ، جس میں بے شمار مزدور مارے گئے۔ شکاگو کے مزدوروں کے خون سے شکاگو کی سڑکیں سرخ ہوگئیں یہ قتل عام کروانے والے بے رحم صنعت کاروں کے خلاف تو کارروائی نہیں کی گئی الٹا ہڑتالی مزدوروں کو سزائے موت سنائی گئی۔

اس سانحے کو گزرے ڈھائی سو سال سے زیادہ کا عرصہ ہو رہا ہے لیکن یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ پاکستان میں آج بھی مزدوروں سے غیر معینہ وقت تک غلاموں کی طرح کام لیا جا رہا ہے۔ ظالم صنعت کار شکاگو کے مزدوروں کی طرح 18،18 گھنٹے پاکستانی مزدوروں سے کام لے رہے ہیں۔ ٹھیکیداری نظام مزدوروں پر مسلط کردیا گیا ہے۔

سیکڑوں سال کی جد وجہد اور بے شمار قربانیاں دے کر مزدوروں نے جو حقوق حاصل کیے تھے پاکستان میں ٹھیکیداری نظام کے ذریعے ان حقوق کو مزدوروں سے چھین لیا گیا ہے۔ ووٹرکے تقدس کا حال یہ ہے کہ کروڑوں مزدوروں کو غلام بناکر رکھ دیا گیا ہے۔ صنعت کاروں کے مظالم کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی مزدور ٹریڈ یونین کا نام لے تو اسے کان سے پکڑ کر کارخانے سے باہر کر دیا جاتا ہے۔ ہڑتال اور ٹریڈ یونین بنانے کے حق کو مزدوروں سے چھین کر انھیں غلام بنا دیا گیا ہے۔

ووٹ کے تقدس کا مطلب اشرافیہ کی راجدھانی کا تقدس ہے جب کہ تقدس کا اصل مقصد ووٹر ہے پاکستان کے دیہی علاقوں کے 60 فی صد عوام ہاری اورکسان ہیں۔ جنھیں وڈیروں اور جاگیرداروں نے غلام بناکر رکھ دیا ہے، کسانوں اور ہاریوں کی بہو بیٹیوں کو اپنے غنڈوں کے ذریعے اٹھالیاجاتا ہے کسانوں اور ہاریوں کی بہو بیٹیوں کے ننگے جلوس نکال کر انھیں رسوا کیا جاتا ہے یہ ہے ووٹر کا تقدس۔

پاکستان کے 20 کروڑ عوام دن بھر محنت کرنے کے باوجود دو وقت کی روٹی سے محتاج ہیں ۔ انھیں بے وقوف بناکر ان سے ووٹ لیے جا رہے ہیں ان سے روٹی، روزگار اور معیاری زندگی کے وعدے کیے جاتے ہیں لیکن ہو یہ رہا ہے کہ عوام کو نہ روزگار میسر ہے نہ ان کے بچوں کو تعلیم کی سہولتیں حاصل ہیں ۔ چھ چھ، آٹھ آٹھ سال کی عمرکے بچوں کو ماں باپ قالین کے کارخانوں میں نوکری کے لیے بھیج دیتے ہیں کیونکہ ایک سربراہ خاندان کی اجرت سے ایک خاندان کا پیٹ نہیں بھرسکتا۔

پاکستان کے 20 کروڑ عوام جانتے ہیں کہ ان کے ووٹوں سے اقتدار کے ایوانوں میں جانے والے ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے اربوں روپوں کی لوٹ مار میں لگ جاتے ہیں ۔ لٹیروں کے احتساب کا آغاز ہوا ہے اس لیے اشرافیہ کو ووٹ کے تقدس، ووٹ کی حرمت کا خیال آرہا ہے، اگر ووٹ کی حرمت، ووٹ کے احترام کا خیال آرہا ہے تو ووٹرکو روزگار مہیا کرو، جان لیوا مہنگائی سے نجات دلاؤ، بچوں کو تعلیم کی سہولتیں فراہم کرو، علاج کی مفت سہولتیں فراہم کرو، زبانی جمع خرچ سے ووٹ کے احترام کی بات کرنا عوام کو دھوکا دینا ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔