نیب حکام پنجاب بینک اسکینڈل کے مرکزی ملزمان کو بچانے کیلیے سرگرم

عامر نوید چوہدری  جمعـء 12 اپريل 2013
ملزمان سے تعاون کیلیے پنجاب بینک کے حکام پر دبائو،ایسی کوئی اطلاعات نہیں، ترجمان نیب. فوٹو: فائل

ملزمان سے تعاون کیلیے پنجاب بینک کے حکام پر دبائو،ایسی کوئی اطلاعات نہیں، ترجمان نیب. فوٹو: فائل

لاہور: نیب کے اعلیٰ حکام حارث اسٹیل ملز اسکینڈل کے مرکزی کردار اور بینک آف پنجاب سے 2007میں9ارب روپے کے فراڈ میں ملوث شیخ افضل اور شیخ حارث کو بچانے کیلیے سرگرم ہیں۔

نیب کی بااثر شخصیت نے بینک آف پنجاب کے اعلیٰ حکام کو شیخ حارث سے ’’تعاون‘‘ پر آمادہ کرنے کیلیے دبائو بڑھادیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شیخ حارث افضل نے اپنی سوتیلی والدہ خاورہ ارشد کیساتھ مل کر جعلی پاور آف اٹارنی کے ذریعے دبئی کے پوش علاقے ایمریٹس ہل میں واقع ولانمبر 1W/49 بھارتی شہری کو 16 ملین درہم (42 کروڑ روپے) میں فروخت کردیا تھا، جو کہ قومی احتساب بیورو کے ساتھ کی گئی پلی بارگیننگ کے تحت منجمد اثاثوں میں شامل تھا، جس پر نیب کے گارڈز تعینات تھے اور ان کو معاوضے کی ادائیگی بینک آف پنجاب کررہا تھا۔

بینک کی طرف سے نیب حکام کو ولا کو فروخت کرنے کی کوششوں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا لیکن نیب حکام نے اسے روکنے کیلئے کوئی کارروائی نہیں کی۔ حارث افضل اور خاورہ ارشد نے ایمریٹس بینک دبئی میںساڑھے 52ملین درہم(ایک ارب 26کروڑ روپے)کے منجمد اکائونٹ سے 19ملین درہم (51کروڑ 74لاکھ روپے) نکلوانے کیساتھ ساتھ اس کا نفع 5لاکھ درہم(ایک کروڑ30لاکھ روپے) بھی نکلوالیا۔ اس پر بنک آف پنجاب کے حکام نے نیب سے کاررائی کی درخواست کی، جس پرقومی احتساب بیورو لاہور آفس کی ٹیم نے حارث افضل کو ڈیفنس لاہور سے گرفتار کیا لیکن اس کی گرفتاری کے ساتھ ہی نیب ہیڈ کوارٹر اسلام آباد سے اعلیٰ ترین افسر نے لاہور آفس فون کرکے کہاکہ شیخ حارث افضل کو فوری طور پر چھوڑ دیا جائے۔

 

لاہور آفس کے ذمہ داران نے ’’زبانی احکامات ‘‘ پر شیخ حارث کو رہا کرنے سے انکار کردیا۔ جس پر ہیڈ کوارٹر ز سے رات اڑھائی بجے نیب لاہور آفس کو شیخ حارث کی رہائی کے احکامات فیکس کیے گئے۔رات گئے تمام افسران گھروں سے واپس آئے اور ڈیڑھ گھنٹے کی کاغذی کارروائی کے بعد رات4 بجے شیخ حارث افضل کو رہا کردیا گیا جس پر گزشتہ روز بینک آف پنجاب کی اعلیٰ شخصیت نے نیب کے اعلیٰ ترین افسر سے شدید احتجاج کیا لیکن نیب ہیڈ کوارٹرز سے بینک آف پنجاب کے حکام کو شیخ حارث سے ’’تعاون‘‘کرنے کا کہا گیا۔

ذرائع کے مطابق ولا اور گاڑیوں کی فروخت کی رقم وصول کرتے ہوئے شیخ حارث کی ویڈیو نیب اور بینک حکام کے پاس موجود ہے۔ اس حوالے سے نیب کے ترجمان رمضان ساجد نے کہا کہ وہ فی الوقت کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان کے پاس ایسی کوئی اطلاعات نہیں تاہم تفصیلات جاننے کے بعد وہ کل اس بارے میںتصدیق یا تردیدکر سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔