گلزار منزل جو مکینوں کا مدفن بن گئی

محمد یعقوب  ہفتہ 14 اپريل 2018
مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے عمارت زبوں حالی کا شکار ہوگئی۔ فوٹو: سوشل میڈیا

مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے عمارت زبوں حالی کا شکار ہوگئی۔ فوٹو: سوشل میڈیا

عمر حیات محل کو چنیوٹ کا تاج محل بھی کہا جاتا ہے جسے شیخ عمر حیات نے 1923ء میں اپنے بیٹے گلزار حیات کے لیے بنوایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ اسے گلزار منزل کہہ کر پکارتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب چنیوٹ کی شیخ برادری ہندوستان میں معروف تھی، عمر حیات اسی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا شمار بڑے تاجروں میں ہوتا تھا۔شہر کے عین وسط میں واقع اس محل میں اب لائبریری قائم کر دی گئی ہے۔ چودہ مرلے پر محیط یہ محل تہ خانوں سمیت پانچ منزلوں پر مشتمل ہے۔ محل میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں لکڑی کا کام بہت نفاست سے کیا گیا ہے۔

محل کی تعمیر مشہور کاری گر اور ماہرِ تعمیر استاد الٰہی بخش پرجھا نے کی جن کے چرچے انگلستان تک تھے۔ مرکزی گلی سے محل کے احاطے میں داخل ہوں تو نظر سامنے کی انتہائی خوب صورت دیواروں پر پڑتی ہے۔ داخلی دروازے کے ساتھ لگائی گئیں دو میں سے ایک تختی پر استاد الٰہی بخش پرجھا سمیت ساتھی مستریوں اور کاری گروں کے نام درج ہیں جب کہ دوسری تختی پر ان حضرات کے نام کندہ ہیں جنہوں نے مرمت کے ذریعے اسے تباہی سے بچایا۔

خم دار لکڑی سے بنے دروازوں، کھڑکیوں اور جھروکوں کی دل کشی منفرد ہے۔ دوسری طرف بالکونی، چھتیوں، ٹیرس اور سیڑھیوں پر لکڑی کے کام نے اسے وہ خوب صورتی بخشی ہے جو شاید ہی کسی اور فنِ تعمیر کو نصیب ہوئی ہو۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ شیخ عمر حیات محل کی 1937ء میں تعمیر مکمل ہونے سے دو سال قبل ہی انتقال کر گئے تھے۔ یہاں ایک لائبریری قائم ہے جس میں ایک ہزار سے زائد کتابیں ہیں۔

1937ء میں محل کی تعمیر مکمل ہوتے ہی گلزار کی والدہ فاطمہ بی بی نے اپنے بیٹے کی شادی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کی۔ تاہم شادی کی اگلی ہی صبح بیٹے کی پُراسرار موت نے ماں کی گود اجاڑ کر رکھ دی۔ ماں نے اپنے بیٹے کو محل کے صحن میں دفن کروایا اور اس موت کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے خود بھی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ وصیت کے مطابق انھیں بھی بیٹے کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ یوں یہ محل اپنے ہی مکینوں کا مقبرہ بن گیا۔

اس کے بعد ان کے ورثا نے محل کو منحوس تصور کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا لیکن گلزار کی والدہ کا اپنے بیٹے اور خود اپنی بھی یہیں تدفین کا فیصلہ محل کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔ عمر حیات کے ورثا کے محل چھوڑنے کے بعد اگلے چند سال تک ان کے نوکر یہاں کے مکین رہے اور بعد ازاں اسے یتیم خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے عمارت زبوں حالی کا شکار ہوگئی اور بالائی حصے کی چھت گر گئی تو یتیم خانہ کہیں اور منتقل کرتے ہوئے اسے یونہی چھوڑ دیا گیا۔

1990ء میں تحصیل چنیوٹ کے اسسٹنٹ کمشنر نے ضلع جھنگ کے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مل کر اس محل کی بحالی کا بیڑا اٹھایا اور تاریخی ورثہ قرار دیتے ہوئے یہاں لائبریری قائم کردی گئی۔ محل کے ایک کمرے میں میوزیم بھی قائم کیا گیا ہے جہاں عمر حیات اور ان کے اہلِ خانہ کے زیرِ استعمال رہنے والی اشیا رکھی گئی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔