تم بھی جاہل... اور... تم بھی جاہل

تابش انجم  پير 16 اپريل 2018
جس قوم کی سمجھ میں جمہوریت جیسا آسان نظام نہیں آیا، اس کے نوجوان لبرل ازم یا سیکولر ازم جیسی کڑوی گولی کیسے ہضم کرسکتے ہیں؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)

جس قوم کی سمجھ میں جمہوریت جیسا آسان نظام نہیں آیا، اس کے نوجوان لبرل ازم یا سیکولر ازم جیسی کڑوی گولی کیسے ہضم کرسکتے ہیں؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)

آج ہم کوشش کرتے ہیں ایک جاہل اور کافر کے بیچ کا فرق تلاش کرنے کی۔ ان دو لفظوں کا انتخاب اس لیے کرنا پڑا کیونکہ پاکستان میں یہی دو موضوعات ہیں جن پر لکھنے سے سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹ کو اچھے خاصے لائکس مل جاتے ہیں اور کمنٹس باکس میں بھی اچھے خاصے لمبے لمبے تبصرے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ان تبصرہ کرنے والوں میں کثیر تعداد ان فارغ لڑکیوں اور بے روزگار لڑکوں کی ہوتی ہے جن کا کام اپنے انگوٹھے کی مدد سے اپنی موبائل اسکرین کو کھودنا اور اپنے مطلب کا موضوع تلاش کرنا ہی رہ گیا ہے۔

موضوع انتہائی حساس نوعیت کا ہے اور آج کل ویسے بھی ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ نامی ٹرینڈ کی وجہ ایک بار پھر سے زیر بحث ہے اور اس پر آنسہ ملالہ کی آمد بھی ہوگئی۔ بہرکیف، ہم کافر اور جاہل لفظ کے جدید معانی پر غور کرنے والے تھے جو دو مشہور طبقوں لبرلز اور جنونیوں نے ہی ایک دوسرے کوعطا کیے ہیں۔ فیس بک اور ٹوئٹر پر کم و بیش پانچ سال تک لاکھوں ٹویٹس اور فیس بک پوسٹس کی خاک چھاننے کے بعد مجھ پر آشکار ہوا کہ ہر وہ شخص کافر ہے جو مسلم تاریخ کو چھوڑ کر غیر مسلموں کے کارناموں اور تصانیف کے حوالے دیتا ہے؛ اور ہر وہ شخص جاہل اور تشدد پسند ہے جس نے معاملے کی جڑ تک پہنچے بغیر ہی صرف لباس، زبان و خیال سے ہی کسی کے کردار کا مکمل احاطہ کرلیا۔

جب کوئی کسی پر بغیر سوچے سمجھے، ایک پروپیگنڈا کا حصہ بن کر، الزام لگاتا ہے تو وہ صرف ایک شخص کو ٹارگٹ نہیں کر رہا ہوتا بلکہ وہ ایک پوری سوچ کو گریبان سے پکڑ کر جھنجوڑ رہا ہوتا ہے؛ اسی طرح جیسے لبرلز کسی بھی چلتے پھرتے شخص کی پوسٹ کے اسکرین شاٹس بڑے بڑے کیپشنز کے ساتھ اپ لوڈ کرتے ہیں جبکہ انتہا پسند بھی کسی نہ کسی طر ح بس تاڑ میں لگے رہتے ہیں کہ کوئی ایسا نکتہ ملے جس کی کوئی بات مذہب یا اخلاقی اقدار کے خلاف لگے۔

یہ دونوں ہی طبقے اپنی اپنی حیثیت میں اسلام اور پاکستان اور نوجوانوں کی سوچ کو بے انتہا نقصان پہنچا رہے ہیں اور ہمارے معاشرے کا مستقبل مزید تاریک بنا رہے ہیں۔

میں لبرلز کے سارے خیالات کی قدر کرتا ہوں مگر مجھے ان کی ایک بات سے اختلاف ہے یہ اپنے خیالات کو پورے معاشرے پر تھوپنا چاہتے ہیں۔ آسان فہم میں بات اس طرح سمجھیے کہ لبرل ازم ایک سماجی اصطلاح تھی جسے ہمارے دیسی لبرلز نے اپنی احمقانہ روش پر ہٹ دھرمی کے ساتھ ڈٹ کرایک فرقے میں تبدیل کردیا ہے۔ وسیع پیمانے پر فکری یلغار ان کا مطمع نظر بن چکی ہے۔ اسلام اور ایمان سے انہیں کیا مسئلہ ہے؟ اس کا تعین تو میں نہیں کرسکا مگر ایک بات طے ہے کہ داڑھی و دستار سے یہ لوگ قطعی ناخوش ہیں۔ ہر وہ معاملہ جس میں غلطی کسی کی انفرادی کیوں نہ ہو، اسے فوراً اسلام اور مسلمان کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔

انڈیا، برما اور فلسطین میں ہونے والی ناانصافیوں پر یہ ہمیشہ چپ سادھ لیتے ہیں جبکہ پاکستان میں کہیں اقلیتوں کے ساتھ کچھ ہوجائے، خواہ اس کا مذہبی طبقے سے کچھ لینا دینا نہ ہو، یہ پھر بھی ہاتھ دھو کر سیدھے سادھے مسلمانوں کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔

اسی طرح جنونیوں کی اکثریت کا تعلق متوسط طبقے سے ہے اور ہر وہ مواد جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتا ہے، اس میں ان کے 75 فیصد شیئرز ہوتے ہیں۔ یہ ہمیشہ سے کسی نہ کسی ٹاپک کی تلاش میں رہتے ہیں، ان کی وجہ سے میں سمجھ پایا کہ کند ذہن اور ان پڑھ معاشرے کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کےلیے وہ سب سے مشکل اور دردناک مرحلہ پہلے اپناتے ہیں۔

جیسے کہ اگر کوئی شخص مذہب کے خلاف کوئی غلط بات کہہ رہا ہے تو سب سے پہلے اس کی سزا اجتماعی دھلائی اور اس کے بعد موت ہوگی۔ حالانکہ یہ مرحلہ کسی بھی معاملے کی انتہا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں شروعات یہیں سے ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مشال خان اور سلمان تاثیر آج زندہ ہوتے۔

کسی دور میں بے روزگاری یا تو انقلابی نوجوان سوچ کے حامل معاشرے کو جنم دیتی تھی یا پھر جرائم اور نشے کی عادت کو، مگر آج صورت حال تبدیل ہوچکی ہے۔ بنیادی مسئلہ یعنی بے روزگاری ابھی تک اسی جگہ قائم ہے لیکن اب نہ انقلابی پیدا ہوتے ہیں اور نہ ہی نشے کے عادی۔ اب بے روزگاری سے سستے دانشور پیدا ہوتے ہیں جن کی دانش گردی صرف سوشل میڈیا تک محدود ہے؛ اندھے لکھاری پیدا ہوتے ہیں جنہیں بس قلم ہلانا آتا ہے، جو درحقیقت یہ نہیں جانتے کہ کیا لکھ رہے ہیں؛ بہرے مقرر پیدا ہوتے ہیں جو سننا نہیں صرف بولنا جانتے ہیں، اسی لیے ان کی حالت آگ نگل کر انگارے اگلنے والوں جیسی ہوگئی ہے۔

سوچنے والی بات یہ ہے کہ جس قوم کو جمہوریت جیسا سیدھا سادا نظام آج تک سمجھ میں نہیں آیا، اس کے نوجوان لبرل ازم یا سیکولر ازم جیسی کڑوی گولی کیسے ہضم کرسکتے ہیں؟

آخر میں دونوں طبقات کے نوجوانوں اور بزرگوں سے بس ایک گزارش (یا نصیحت) کرنا چاہوں گا کہ انسان بہت بے بس ہے، اس لیے اسے اپنی زندگی سیر حاصل کی چاہ میں گزارنی چاہیے، لاحاصل کا پیچھا کرکے کوئی افاقہ نہیں ہوتا۔ انسان کچھ نہیں کرسکتا۔ صرف اتنا کرنے کی کوشش کرسکتا ہے جتنا کہ وہ جانتا ہے۔ انسان کا علم، اس کا شعور اسے اپنے لیے موزوں اشیاء یا راستہ چننے کی راہ دکھاتا ہے۔ بس توکّل کرتے رہو اور اپنے رب پر پورا پورا بھروسہ کرلو۔ وہ چاہے تو تمہیں دنیا کا امیر ترین شخص بنادے، بغیر کلمے کی شرط لگائے؛ اور وہ چاہے تو متقی ہونے کے باوجود بھی تمہیں فاقوں میں ڈال دے، تو تم بس توکّل کرو اور کفر یا جہالت کے تمغے بانٹتے نہ پھرو۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔