کتابوں کا قرض

رئیس فاطمہ  اتوار 15 اپريل 2018
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

کتابوں کا قرض بہت ہوگیا ہے، لیکن طبیعت کی خرابی کی بنا پر انھیں دیکھ نہ پائی ۔ آج سوچا کم ازکم دوکتابوں کا قرض ضرور چکا دوں۔ پہلی کتاب ہے ’’ کلیات منیر نیازی ‘‘ گوکہ یہ ڈاکٹر سمیرا اعجاز کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ ہے اور عام پبلک کے لیے زیادہ کشش نہیں رکھتا۔ لیکن ادبی دنیا اور ادب کے طالب علموں کے لیے ایک بہت اہم کتاب ہے۔

منیر نیازی اپنی ذات میں انجمن تھے اور انھیں اپنی اہمیت کا بھی احساس تھا ۔ انھوں نے کالم بھی لکھے، ناول اور افسانے بھی۔ ان کا کام بہت پھیلا ہوا ہے، لیکن جس طرح ڈاکٹر سمیرا اعجاز جن کا تعلق شعبہ اردو یونیورسٹی آف سرگودھا سے ہے انھوں نے تمام کام کو یکجا کرکے جس طرح ایک ضخیم کتاب مرتب کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔ ورنہ تو جامعات میں پی ایچ ڈی کے نام پر جو مذاق ہو رہا ہے اس کی حقیقت سب جانتے ہیں کہیں ’’پیسہ پھینک تماشا دیکھ‘‘ کا منظر ہے، کہیں صرف کتابچوں پر ڈگری عطا کردی گئی، کیسی ببلوگرافی، کہاں کے اقتباسات، تاریخیں اور رسالوں کے حوالے، نگراں خود تن آسان، نہ تحریر دیکھنے کی مشقت نہ کتابیات کی تحقیق ۔ بس کسی طرح ڈگری مل جائے اور تنخواہوں میں اضافہ ہوجائے۔

لیکن ڈاکٹر سمیرا اعجاز کا کام معیاری ہے اور یہ پی ایچ ڈی کا مقالہ کہنے کے قابل ہے۔ مصنفہ نے اپنی کتاب کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ ’’نثر اپنے مزاج اور تقاضوں کے اعتبار سے شاعری سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ لہٰذا بہت کم ادیب ملتے ہیں جو عمدہ شعر کہنے کے ساتھ ساتھ انتہائی موثر تخلیقی جملہ لکھنے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ منیر نیازی ان معدودے چند ادیبوں میں سے ہیں جن کی شاعری جہاں منفرد موضوعات اور اظہاریے کے نادر قرینوں کے سبب انتہائی اہم ہے، وہیں ان کی نثر بھی ان کی شاعری کی طرح نکتہ طراز اور فصاحت و بلاغت کا شاہکار ہے۔‘‘

اس مقالے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ زبان بہت سادہ سلیس اور بامحاورہ لکھی گئی ہے جوکہ ایک اضافی خوبی ہے۔ چلیے تھوڑا سا تعارف منیر نیازی کی نثر سے بھی ہوجائے تاکہ قارئین کو بھی ان کی طرز تحریرکا اندازہ ہو۔ کالم کا عنوان ہے ’’ نمبر دو مشاعرے‘‘ لکھتے ہیں ’’بلی اتنے شوق اور رغبت سے اپنی پسندیدہ اشیائے خور و نوش کے لیے اپنی قوت شامہ کو استعمال نہیں کرتی، جس شوق سے اور رغبت سے مقامی شاعر غیر مقامی مشاعروں کے لیے اپنی قوت شامہ کو استعمال کرتے ہیں۔ اور اس میں شرکت کے لیے جو جتن کرتے ہیں وہ بہت دقت طلب، شرمناک اور مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔ مثلاً اعلیٰ سرکاری عہدوں پہ فائز دوستوں کی سفارش۔ جس جگہ مشاعرہ ہو رہا ہو وہاں کے شناسا اور رسوخ رکھنے والے حضرات سے والہانہ خط و کتاب۔‘‘

’’ٹیلی فون کی گھنٹی بجی اور آواز آئی ’’مبارک ہو! آپ کی لاٹری نکل آئی ہے، پانچ لاکھ کی۔آپ کو خوشی ہوئی؟‘‘

’’بے حد۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’اتنی بڑی رقم ملنے کے بعد سب سے پہلا کام آپ کیا کریں گے؟‘‘

’’دوستوں کو کہوں گا کہ میں وہ شخص نہیں ہوں جس کی لاٹری نکلی ہے۔‘‘

’’خواب و خیال‘‘۔ ’’مشاعرہ کراچی کے احباب سے ملنے کا وسیلہ بنتا ہے ۔ مشاعرے کی ہنگامہ خیز رات کی صبح کو میں نے سمندری ہوا میں لہراتی خوشبو دار پھولوں والی بیلوں کو دیکھا ،اس کھلے وسیع شہرکی تازہ ہوا میں سانس لیا، پھر وہی خواب تمنا، پھر وہی دیوار و در، پھر وہی ہری بیلوں کے نیچے بیٹھا شام و سحر۔ اس برس کے آغاز پر میں ایک دن کے لیے اس شہر آیا تھا اور ایک ماہ تک اس شہر نے مجھے اپنی چاہت کے طلسمات سے نکلنے نہیں دیا تھا۔‘‘

ذکر یاران کراچی کا۔ ’’کراچی کی طرف انھی دنوں میرا دوسرا سفر تھا۔ یہ شہر پہلے کی نسبت زیادہ رقیق اور زیادہ پرتپاک، زیادہ روشن لگا۔ کوئلوں کے کوکنے کا موسم نہیں تھا مگر جیسے بیتی ہوئی رت کی یاد دلانے کو بھی کبھی شہر کے کسی کونے سے جہاں شجر زیادہ گھنے اور چھتنار تھے کوئل میرے لیے کوکی مجھے احساس ہوا ۔ اس شہر سے دوستی کے لیے اس سے ملتے رہنا بہت ضروری ہے۔ وہ آہستہ آہستہ آپ آپ ظاہر کرتا ہے۔ اس کے عجائبات، اس کی دلکشی، اس کی صفات دیکھنے والے پر دھیرے دھیرے منکشف ہوتی ہیں۔ وہ اپنے اسرار و رموز یکدم عریاں نہیں کردیتا۔ وہ ہر خوبصورت چیز کی طرح سے بے حجابات کے پردوں میں رہتا ہے۔‘‘

’’خواب و خیال‘‘ ۔ ’’پیر صاحب گاؤں کے میدان میں یقین محکم کے مسئلے پر وعظ کر رہے تھے۔ جس آدمی کے دل میں یقین ہو وہ اللہ کا نام لے کر دریا کے پانی پر چادر بچھا کر دریا پار کرسکتا ہے۔ کپڑے کی چادر اس کے لیے کشتی بن جائے گی۔ اسی محفل میں ایک دیہاتی بھی تھا اسے دریا پار کرکے زمینوں پہ کام کرنے کے لیے جانے اور پھر واپس آنے میں بہت دقت پیش آتی تھی کبھی اس کے پاس کرائے کے پیسے ہوتے تھے تو کشتی میں جگہ نہ ہوتی تھی اور اگر کشتی میں گنجائش ہوتی تو اس کے پاس کرایہ نہ ہوتا۔ دوسرے دن صبح سویرے وہ دریا کنارے پہنچا اس نے اللہ کا نام لیا پانی پر چادر بچھائی اور اس پر بیٹھ کر دریا پار کر گیا اور شام کو اسی طرح واپس آیا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح گاؤں اور نواحی بستیوں میں پھیل گئی۔

دوسری کتاب ایک سفر نامہ ہے ’’جنت ارضی استنبول‘‘۔ اسے اقبال مانڈویا نے لکھا ہے اور محترم سلیم فاروقی نے مجھ تک پہنچایا ہے۔ سفر نامے عموماً دلچسپ ہوتے ہیں اور قاری کی توجہ جلد حاصل کرلیتے ہیں۔ یہ سفرنامہ اقبال صاحب کا پہلا سفرنامہ ہے۔ اقبال مانڈویا کا تعلق میمن برادری سے ہے لیکن جو سادہ زبان انھوں نے استعمال کی ہے اس سے کہیں پتا نہیں چلتا کہ وہ اہل زبان نہیں ہیں۔ مصنف کا مشاہدہ بہت خوب ہے۔ انداز بیاں ایسا ہے کہ مشاہدہ مجسم ہوکر پڑھنے والے کے سامنے آجاتا ہے۔

’’حسن انتظام کا یہ عالم کہ قبروں کی رو کہیں نہیں ٹوٹتی اور جو قبریں بنائی گئی ہیں وہ بھی ایک سسٹم کی آئینہ دار ہیں جس میں نظم بھی تھا اور وزن بھی۔ استنبول میں جوانوں یا بچوں کی قبر دور سے اس لیے نظر آتی ہے کہ رنگین ماربل سے آراستہ ہوتی ہے۔ ایسی قبروں پر چڑیوں کو دانہ پیش کرنے کو ملحقہ درختوں پر چھوٹی چھوٹی کھلونا نما کٹوریاں عجیب منظر پیش کرتی تھیں۔‘‘

اقتباس اور بھی دینا چاہتی تھی لیکن کالم کی گنجائش کا اپنا تقاضا ۔ لہٰذا یہیں پر ختم کرتی ہوں۔ بلاشبہ کتاب دلچسپ ہے۔ بعض جگہوں پر مصنف نے کراچی اور استنبول کا موازنہ بھی کیا ہے کہ کراچی میں کس طرح پانی کے مٹکے اور کولر غلاظت سے اٹے ہوتے ہیں جب کہ استنبول میں صفائی ستھرائی قابل دید ہے۔ سفرنامہ سادہ زبان میں لکھا گیا ہے اور پڑھنے کے قابل ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔