زرد صحافت نامنظور

صدام طفیل ہاشمی  پير 16 اپريل 2018

کیا نام ہے آپ کا؟ میں نے سوال کیا۔’’ بابر ‘‘کیا کام کرتے ہو؟ ’’صحافی ہوں‘‘یہ سن کر میں نے اس کا سر تا پا جائزہ لیا اور پھر سوال کیا۔ تعلیم کتنی ہے آپ کی؟’’میٹرک پاس ہوں جی۔‘‘ پیشہ قلم کا اور تعلیم میٹرک یہ سننے کے باوجود اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہوئے پھر سوال پوچھا کہ کس ادارے میں کام کرتے ہو؟

بابر نامی اس شخص نے کسی ایسے ہی اخبار کا نام لیا جس کی مجھے توقع تھی۔ شاید روزنامہ بارود، نمرود۔ کتنے پبلیکیشنز ہیں آپ کے؟جواب میں بابر نامی شخص نے کہا کہ جی یہ پبلیکیشن کیا ہوتا ہے؟‘‘ میں نے پلٹ کر ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن تھانہ بشیرخان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا کہ ’’حضور اتنا کافی ہے اب ان صاحب کو گرفتار کرکے تھانے کا رخ کیجیے تا کہ قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔‘‘

اس گفتگو سے کچھ دیر پہلے تک اسی ہوٹل پر یہ جعلی صحافی ایک غریب واٹر ٹینکر ڈرائیور پر اپنی دھونس جما رہا تھا، اس بات سے بے خبرکہ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا نوجوان درحقیقت ہمارا نمایندہ ہے جو خفیہ کیمرے کی مدد سے سب کچھ ریکارڈ کر رہا ہے۔ اس ٹینکر ڈرائیور سے اس کی یہ دوسری ملاقات تھی۔ اس واٹر ٹینکر ڈرائیورکا نام ریاض ہے۔

بابر کی پہلی ملاقات ریاض سے اس وقت ہوئی جب ریاض نے کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں واقع بابرکے گھر میں پانی مہیا کیا۔ جب بابرکے گھر کا سوکھا ٹینک پانی سے تر ہوگیا تو ریاض نے اجازت لیتے ہوئے ایک خطا کردی۔ خطا یہ کہ بابر سے اپنی مزدوری کا تقاضا کردیا۔ بابر آگ بگولہ ہوگیا اور چلایا کہ پیسے کس بات کے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ میں ایک صحافی ہوں؟

ریاض نے حیرت سے اس کی جانب دیکھ کر کہا کہ ’’بھائی میں کیا جانوں کہ کون صحافی ہے، میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ مجھے اپنے گھر میں بیٹھی ماں، بیوہ بھابی اور اس کے یتیم بچوں کے لیے شام میں روٹی کا انتظام کرنا ہے‘‘۔

یہ سن کر بابر مشتعل ہوگیا اور اس نے کہا کہ میں تمہیں نہیں جانتا، گزشتہ آٹھ سال سے جو شخص مفت میں پانی مہیا کرتا ہے میں نے تو اس کے نمبر پر کال کی تو تم چلے آئے۔ ریاض نے یہ سن کر بابر کو بتایا کہ وہ اس کا بڑا بھائی تھا جو اب اس دنیا میں نہیں رہا اور گھر میں ہونے والے فاقوں کے باعث وہ یہ ٹینکر لے کے نکلا ہے اور اسی لیے مرحوم بھائی کا ذاتی سیل فون وہی استعمال کر رہا ہے۔

بابر نے کہا کہ ’’کبھی تمہارے بھائی نے مجھ سے پیسے لینے کی ہمت نہیں کی پر تم یہ غلطی کر بیٹھے ہو جس کی سزا تمہیں بھگتنی ہوگی۔یہ کہہ کر بابر نے ٹینکرکی تصویریں کھینچی اور رقم اس کے ہاتھ پر رکھ دی۔ ریاض اس شام توگھر میں بیٹھی بیوہ اور یتیم بچوں کی بھوک دور کرنے میں کامیاب ہو گیا لیکن دوسرے ہی روز اسے اندازہ ہو گیا کہ ایک جعلی صحافی کی دشمنی مول لے کر اس نے اچھا نہیں کیا۔

اگلے ہی روز سفید وردی میں ملبوس محافظوں نے اس کا ٹینکر روک کر چالان کر ڈالا۔ وہ پورا دن ریاض کچھ کما نہ سکا اور پھر چالان کی رقم بھر کر اگلے روز وہ دوبارہ کام پر نکلا تو اسے پھر روک لیا گیا اور چالان کر ڈالا۔ استفسار کرنے پر ٹریفک پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ ہم تو بے بس ہیں، تم نے ہی ایک صحافی کو ناراض کیا ہے، جس کے ہاتھ بہت لمبے ہیں، روزی کرنی ہے تو اسے راضی کرلو ہم بھی راضی ہوجائیں گے۔

دوسرا دن بھی کمانے کے بجائے گنوانے میں گزرگیا۔ گھر میں بیٹھی ماں، بیوہ بھابی اور یتیم بچے اس کی نظروں میں گھوم رہے تھے۔ اس کے پاس دو ہی راستے تھے کہ یا تو اپنی غیرت کا سودا کر لے اور نام نہاد صحافی اور اس کے ساتھ شامل دیگر عناصرکو مفت پانی مہیا کرے تاکہ گھر والے پوری نہیں توکم از کم آدھی روٹی کھا کر محض زندہ رہ سکیں یا پھر ڈٹ جائے۔ بالآخر ریاض کی تربیت جیت گئی اوراس نے حق پر ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا۔

عوام صحافیوں کو اپنا مسیحا سمجھ بیٹھے ہیں اسی لیے قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے میڈیا کا در کھٹکھٹانے کو ترجیح دی گئی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس شعبے میں کالی بھیڑوں کی تعداد دوسروں کی نسبت خاصی کم ہے۔ ریاض کوشش کرتے ہم تک پہنچ گیا اور دکھ کا اظہارکرتے اپنی بپتا سنائی۔اس کی روداد سننے کے بعد ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تصدیق کے لیے اس کے گھر کا رخ کیا گیا، جہاں پہنچ کر اندازہ ہوا واقعی یہ خاندان فاقوں پر مجبور ہے۔ اس کے بعد ٹریفک پولیس اہلکاروں کی باری تھی۔

ان اہلکاروں کے پاس خفیہ کیمرے کے ساتھ اپنے نمایندے کو بھیجا۔ منگھوپیر ٹریفک پولیس چوکی اہلکار سعید نے ایک ٹوکن پیش کیا جس کی ماہانہ قیمت پانچ سو روپے بتائی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس ٹوکن کو حاصل کرنے کے بعد واٹر ٹینکر کوکسی بھی علاقے میں کوئی بھی پولیس اہلکار روک نہیں سکتا ۔

اہلکار اس بات سے بے خبر تھا کہ اس کی ویڈیو بن رہی ہے۔ بہرحال اس ویڈیو کو لے کر میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ علاقے کے ایس ایس پی ٹریفک ڈاکٹر نجیب خان کے پاس پہنچا جنہوں نے اس ٹریفک پولیس اہلکار کو فوری طلب کیا۔ سعید نامی اہلکار صحت جرم سے پھر بھی انکارکرتا رہا۔ انویسٹی گیشن مکمل ہونے پر حقائق واضح تھے تو یہ اہلکار معطل کردیا گیا۔ دوسری جانب ریاض کی مدد سے بابر نامی جعلی صحافی کو سرجانی ٹاؤن میں اس کے گھر کے قریب واقع ایک ہوٹل پر بلایا گیا۔

ریاض کے ساتھ ہمارا نمایندہ موجود تھا جو مہارت سے بابرکی خفیہ فلمبندی کرتا رہا۔ ویڈیو میں بابر ریاض کو دھمکانے کے بعد سمجھاتا ہے کہ اس کی یہ سزا ہے کہ وہ بابر کے گھر میں ہمیشہ مفت پانی مہیا کرے گا جس کے بعد اسے کوئی پولیس اہلکار روک نہیں سکتا اورکسی ٹوکن کی بھی ضرورت نہیں۔

بابر ریاض سے ادا کی گئی رقم واپس لیتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ وہ ایک صحافی ہے اور اس علاقے میں کسی کی ہمت نہیں کہ اس سے پیسے لے سکے، گھر کا راشن وغیرہ سب مفت مہیا کیا جاتا ہے اور قانون کے محافظوں کی بھی ہمت نہیں کہ اس کی کسی بات سے انکار کر جائیں۔ وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔

میں پولیس کے ساتھ وہاں پہنچ چکا تھا۔ وہاں ہوئے مکالمے کا احوال کالم کی ابتدا میں بیان کر چکا ہوں۔ بہرکیف تھانے میں پہلے تو بابر نامی جعلی صحافی نے صحت جرم سے انکارکیا اور پھر جب تمام ثبوت سامنے رکھ دیے گئے اور ریاض خود پیش ہوگیا تو یہ شخص معافی تلافی پر اتر آیا۔

سارے معاملے کو قانونی دھارے میں لانے کے بعد میں وہاں سے نکل تو آیا پر کئی سوالات میرے ذہن میں گھوم رہے تھے۔ کیا کوئی بھی شخص صحافت کی آڑ میں کچھ بھی کرسکتا ہے؟ عام لوگ کیوں اصلی اور جعلی کی پہچان نہیں کر پاتے اور اپنے حق کے لیے کیوں آواز نہیں اٹھاتے؟ کوئی بھی شخص قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے میڈیا پر ہی کیوں اندھا اعتماد کرتا ہے؟

ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے سادہ کاغذ پر پانچ سو روپے ماہانہ کے اس ٹوکن پر دہشت گرد و جرائم پیشہ نجانے کیا کچھ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیتے ہوں گے۔ کیا ایسی کالی بھیڑوں کو روکنے والا کوئی نہیں؟ سوال اپنی جگہ، پر ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صحافی اپنا کام چھوڑ دیں۔ جب تک ایسے عناصر کو قانون کی گرفت میں نہیں لیا جاتا ہم اپنا فرض نبھاتے رہیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔