رحمت اللعالمین حضرت محمدؐ نے فرمایا

سعید پرویز  پير 16 اپريل 2018

شب معراج گزر گئی، آج اگلے دن کی صبح ہے۔ یہ معراج صرف ایک شخص کو حاصل ہوئی، جو رحمت اللعالمین ہیں، یعنی تمام جہانوں کے لیے رحمت و برکت ہیں۔ اب ذرا غور فرمائیں، جو شخص سب کے لیے رحمت ہوگا تو اس کا کہا اور عمل سب کے لیے ہوگا اور سب کے لیے قابل قبول بھی ہوگا۔ بس جس کا کہا اور کیا سب کے لیے ہوگا وہی تمام جہانوں کے لیے رحمت ہوگا۔ وہی رحمت اللعالمین ہوگا۔

چار روز پہلے انٹرنیٹ پر مولانا طارق جمیل کو دیکھا، وہ ریل گاڑی میں سفر کررہے تھے، دوران سفر ریل گاڑی ایک اسٹیشن پر رکی، کچھ لوگوں کے علم میں تھا کہ مولانا صاحب ریل گاڑی میں سفر کررہے ہیں سو وہ اسٹیشن پر موجود تھے۔ مولانا طارق جمیل اپنی بوگی کے دروازے پر آئے، موجود لوگوں نے اصرار کیا کہ کچھ فرمائیں۔ مولانا نے رحمت اللعالمین کا ایک واقعہ سنایا کہ حضورؐ صحابہؓ کی محفل میں بیٹھے تھے آپؐ نے صحابہ کرام سے پوچھا ’’بتاؤ! سب سے افضل عبادت کون سی ہے؟

صحابہؓ نے فرمایا نماز، حضورؐ نے کہا نہیں نہیں، صحابہؓ نے کہا روزہ، حضورؐ نے کہا نہیں۔ تب صحابہؓ نے حضورؐ سے کہا تمام فرائض جو اﷲ نے فرض کیے ہیں ہم نے دہرا دیے مگر آپ نے سب کے لیے نہیں کہہ دیا اب آپؐ ہی فرمائیں کہ سب سے افضل عبادت کون سی ہے؟ تمام جہانوں کے لیے رحمت کا لقب پانے والے نے کہا ’’حسنِ اخلاق‘‘۔‘‘

رحمت اللعالمین یعنی تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی رحمت نے ایک ایسے عمل کو افضل ترین عبادت قرار دیا جس عبادت کا تعلق کسی خاص مذہب، عقیدے، فرقے یا نظریے سے نہیں ہے۔ ’’حسن اخلاق‘‘ جیسی عبادت کے لیے کسی مذہب، عقیدے، فرقے، نظریے کی قید نہیں یہ ایسی عبادت ہے جسے سب کرسکتے ہیں اور اسی ایک عبادت پر دنیا عمل پیرا ہوجائے تو دنیا سے سارے فساد، جنگ و جدل ختم ہوجائیں۔

حسنِ اخلاق جسے رحمت عالمؐ نے افضل ترین عبادت قرار دیا، یہ عبادت نہ مسلمان ہے، نہ عیسائی ہے، نہ ہندو ہے، نہ یہودی ہے، نہ سکھ ہے، نہ بدھ مت ہے، نہ کمیونسٹ ہے، نہ پارسی ہے، نہ زرنشست ہے اور نیچے آجائیں۔ تاکہ بات ہم مسلمان کہلانے والوں تک آجائے۔ تو جناب! سراپا رحمت کی افضل ترین عبادت قرار دینے والی عبادت ’’حسن اخلاق‘‘کا تعلق کسی فرقے یا مسلک سے نہیں، نہ اس کا تعلق زبان و نسل سے ہے۔

مولانا طارق جمیل نے اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہمارے ملک پاکستان میں سراپا رحمت ؐ کی افضل ترین عبادت قرار دینے والی عبادت ’’حسن اخلاق‘‘ کی اشد ضرورت ہے، ہمارے ملک میں پھیلے فسادات اور جہالت کے گہرے اندھیرے ختم ہوسکتے ہیں۔

اگر ہم سب اپنے اخلاق اچھے کرلیں، ہمارا پڑوسی ہم سے ناراض نہ ہو، ہم سب کو سلام کریں اور سلام میں پہل کرنے کی کوشش کریں اس انتظار میں نہ رہیں کہ سامنے والا ہمیں سلام کرے گا۔ کسی کا کام نہ بگاڑیں اگر ہمت ہے، طاقت ہے، اتنی استطاعت ہے تو لوگوں کے بگڑے کام سنواردیں‘‘ یہ باتیں مولانا طارق جمیل نے کیں۔

میں عرض کروں کہ سراپا رحمتؐ کا یہ بھی فرمان ہے کہ پڑوسی کے لیے کوئی تخصیص نہیں ہے، پڑوسی بس پڑوسی ہے چاہے اس کا تعلق کسی مذہب، عقیدے، فرقے یا نظریے یا زبان سے ہو بس وہ پڑوسی ہے اور اسے خوش رکھنا ہے۔

مولانا طارق جمیل نے اسی موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ایک اور واقعہ بیان فرمایا کہ ’’سراپا رحمتؐ نے اپنے صحابی معاذؓ سے ارشاد فرمایا ’’اے معاذ! کیا میں تمہیں ایک آسان سا عمل بتاؤں۔ جس کے کرنے سے تم بہت فائدے حاصل کروگے! حضرت معاذؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اﷲؐ فرمائیں‘‘ تب رحمت للعالمینؐ نے انگشتِ شہادت اور انگوٹھے سے اپنی زبان پکڑی، حضرت معاذؓ کو عملی مظاہرہ کرکے کہا ’’زبان کو قابو میں رکھو‘‘ یہی زبان ٹوٹے رشتے جوڑتی ہے اور یہی رشتے توڑتی ہے۔‘‘

میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ مولانا طارق جمیل کا اور میرا کوئی خاص تعلق واسطہ نہیں ہے۔ سارے جہانوں کے لیے رحمت کی بات مجھے کہیں سے بھی ملے، کوئی بھی سنائے، انسانیت کا درس سنانے والے کے آگے تعظیم بجا لانا میرا خوشگوار فریضہ ہوگا۔ بڑی دیر سے کنور مہندر سنگھ بیدی کا رحمت اللعالمینؐ کے لیے کہا گیا ایک فکر انگیز اور محبتوں، عقیدتوں سے لبریز شعر منتظر کھڑا ہے کہ اسے لکھ دیا جائے۔ میری کیا مجال کہ میں یہ شعر نہ لکھوں۔ سراپا رحمت تو سب کے ہیں، سب کے لیے ہیں۔ شعر ملاحظہ فرمائیں۔

عشق ہوجائے کسی سے، کوئی چارہ تو نہیں

صرف مسلم کا محمدؐ یہ اجارہ تو نہیں

مسلمانوں کے لیے یہی بہت بڑا اعزاز ہے کہ وہ رحمت اللعالمین کے کلمہ گو ہیں۔ باقی سب اﷲ اﷲ ہے۔ یہ جبہ و دستار والے مولانا حضرات خود اپنا محاسبہ کرلیں کہ رحمت اللعالمین نے جسے افضل ترین عبادت قرار دیا ہے یعنی ’’حسن اخلاق‘‘ اس اصل عبادت کو یہ کتنا ادا کررہے ہیں۔ ’’حسن اخلاق‘‘ پر کتنا کاربند ہیں۔

آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں

ہم اگر عرض کریںگے تو شکایت ہوگی



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔