خونیں انقلاب

ظہیر اختر بیدری  پير 16 اپريل 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

قوموں کی زندگی میں 70 سال کا عرصہ بہت زیادہ نہ سہی بہت کم بھی نہیں ہوتا۔ 70 سال یعنی تین نسلیں۔ انسان پڑھا لکھا نہ سہی اس میں سوچنے سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت تو ہوتی ہے، وہ اچھے برے صحیح غلط کو سمجھنے کے قابل تو ہوجاتا ہے لیکن یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اس ملک کے 20 کروڑ عوام تین نسلوں سے مسلسل دھوکے کھا رہے ہیں.

وہ اس قدر سامنے کی بات بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ اہل سیاست کے قافلے ساڑھے چار سال گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب رہنے کے بعد انتخابات کی آمد آمد سے پہلے مینڈکوں کی طرح ٹراتے ہوئے کیوں وارد ہوجاتے ہیں اور ان کی ٹرٹراہٹ میں ہر بار نئے نئے سُر کیوں اور کہاں سے آجاتے ہیں۔

کوئی کہتا ہے میں عوام کے لیے آسمان سے چاند تارے توڑ لاؤں گا کوئی کہتا ہے میں عوام کے لیے دودھ اور شہد کی نہریں بہا دوں گا۔ لیکن نہ چاند تارے توڑے جاتے ہیں نہ دودھ اور شہد کی نہریں بہائی جاتی ہیں۔

بے چارے عوام چاند تاروں اور دودھ اور شہد کی نہروں کے انتظار میں جوان سے بوڑھے ہوجاتے ہیں، ان کے شب و روز میں کوئی فرق نہیں آتا، وہی چائے روٹی، وہی پیاز روٹی، وہی لنڈا کی پوشاک، وہی گھاس پھوس کی جھونپڑیاں، وہی کچے مکان، تعلیم اور علاج سے محرومی اور ان عذابوں سے عوام باہر اس لیے نہیں نکل سکتے کہ وہ جھوٹوں کے جھوٹ کو نہیں پہچانتے اور ہر تکلیف ہر مصیبت کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں۔

عوام کی اس سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اشرافیائی ایماندار ہر بار کچھ نئے نعروں کے ساتھ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے ان کی کچی بستیوں میں وارد ہوتے رہتے ہیں۔ کیا دھوکے اور فریب کا یہ سلسلہ ختم ہوسکتا ہے؟اس بار انتخابات حکمران اشرافیہ کے لیے اگرچہ بڑی مشکلات لے کر آئے ہیں لیکن آفرین ہے ہماری باہمت اشرافیہ پر کہ وہ احتساب کے مسلسل حملوں کے باوجود پسپا ہونے کے بجائے جوابی جارحانہ کارروائیوں میں مصروف ہے اور اس مہم میں بھی ہمیشہ کی طرح جمہوریت کا پرچم تھامے ہوئے ہے۔

ہماری اشرافیہ کی جھولی میں ہر مصیبت سے بچ نکلنے کے ایسے ایسے نسخے موجود ہیں کہ ان پر کوئی ہتھیار کارگر نہیں ہوتا۔ اشرافیہ کی جھولی میں جمہوریت کا ایک ایسا تند و تیز ہتھیار ہے کہ اس کی کاٹ سے عام سادہ لوح عوام ہی نہیں بلکہ مڈل کلاس کے عقل سے پیدل دانشور بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔

1947 سے جمہوریت کا پرچم لہرا رہا ہے جمہوریت کو متعارف کرانے والے بزرگوں نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ عوام کے ہر دکھ عوام کے ہر درد کا واحد تیر بہدف نسخہ جمہوریت ہے لیکن اسے ہم عوام کی بدقسمتی کہیں یا اشرافیہ کی خوش قسمتی کہ جمہوریت کا پردہ چاک ہونے کے باوجود عوام ابھی تک جمہوریت کے سحر سے باہر نہ آسکے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی تاریخ میں جمہوریت ایک نسبتاً ترقی پسندانہ نظام ہے لیکن جمہوریت کا فلسفہ پیش کرنے والوں نے جمہوریت کے ساتھ یہ شرط رکھی تھی کہ جمہوریت میں حکمران عوام ہوں اور جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچیں جمہوریت کے اکابرین اپنی ساری صلاحیتیں جمہوریت کی تعریف و توصیف میں لگا تو دیتے ہیں لیکن ان دو سوالوں کے جواب نہیں دیتے کہ کیا اس جمہوریت میں عوام حکمران ہیں اور کیا جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ یہ دو بہت آسان سوال ہیں ان کے جوابات جمہوریت کے عاشقین کیوں نہیں دیتے؟

بلاشبہ ووٹ عوام کے ہاتھوں میں ایک ایسا ہتھیار ہیں جو ان کے مسائل کے حل کے لیے کام آسکتے ہیں لیکن یہی ہتھیار اشرافیہ نے عوام کو غلام بنائے رکھنے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ یہ کیا کالا جادو ہے کہ عوام کا یہ ہتھیار اشرافیہ حصول اقتدار کے لیے استعمال کرتی آرہی ہے اور یہ کام 70 سال سے اس قدر مہارت کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے کہ عوام کو یہ احساس ہی نہیں ہو رہا کہ وہ 70 سال پہلے جہاں کھڑے تھے جمہوریت کے باوجود آج بھی وہیں کیوں کھڑے ہیں۔

ہمارا حکمران طبقہ جو نظر بندی استعمال کر رہا ہے وہ ایک اندھے کو بھی نظر آسکتی ہے لیکن ہمارے عوام آنکھیں کھلی رکھ کر بھی اندھے بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک میں عشروں سے بجلی کا بحران جاری ہے جسے عرف عام میں لوڈ شیڈنگ کہا جاتا ہے۔ ہر موجودہ  حکومت کہتی ہے کہ یہ بحران ہمیں ورثے میں ملا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی موجودہ حکومتیں ماضی میں بھی برسراقتدار رہی ہیں پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کس کا چھوڑا ہوا ورثہ ہے۔

ہمارے موجودہ عاقل و بالغ حکمرانوں نے بڑے دھڑلے سے دعویٰ کیا کہ لوڈ شیڈنگ پر کوئی حکومت قابو نہ پاسکی لیکن اللہ کے فضل سے ہم نے لوڈ شیڈنگ پر اس طرح قابو پالیا ہے کہ لوڈ شیڈنگ اب ماضی کی بات ہوکر رہ گئی ہے۔ اس دعوے کی آواز بازگشت ابھی سنائی دے رہی ہے کہ لوڈ شیڈنگ پہلے سے زیادہ شدت سے عوام کے سر پر سوار ہے۔

دنیا کے شاید ہی کسی ملک کے عوام میں وہ صبر ہو جو ہمارے ملک کے عوام کی خصوصیت بنا ہوا ہے اندھیرے اور گرمی میں مرتے رہتے ہیں لیکن آفرین ہے ہمارے عوام پر کہ صبر کا دامن کسی طرح ہاتھ سے نہیں چھوڑتے کیا ان کی تباہ حالی کی وجہ یہی ہے۔ کیا اس نعمت سے ہمارے عوام دست بردار نہیں ہوسکتے۔

عوام میں بیداری اور سیاسی شعور پیدا کرنا نظریاتی سیاسی جماعتوں کی ذمے داری ہوتی ہے اشرافیائی جماعتوں کا مفاد اسی میں ہوتا ہے کہ عوام گونگے بہرے بنے رہیں۔ ماضی میں بائیں بازو کی جماعتیں عوام کو نہ صرف مسائل سے آگاہ کرتی تھیں بلکہ ان کے خلاف جدوجہد کا جذبہ بھی پیدا کرتی تھیں اب ترقی پسند جماعتوں کا رویہ یہ ہوگیا ہے ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم والی صورتحال سے دوچار ہیں۔ انقلابی رہنماؤں نے کہا ہے کہ ترقی پسند کارکن عوام کے سمندر میں مچھلی بن کر زندہ رہتا ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ ترقی پسند کارکن عوام کے سمندر کے ساحل پر کیکڑوں کی طرح پڑے ہوئے ہیں۔

ہمارا ملک 70 سال سے جس اشرافیائی لوٹ مار کا شکار ہے اس کا تقاضا ہے کہ اس ملک میں انقلاب آجائے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی ہمت کی ہم داد دیتے ہیں کہ موصوف نے ایک بار نہیں کئی بار کہا ہے کہ ’’اگر حالات یہی رہے تو اس ملک میں خونیں انقلاب آجائے گا‘‘ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اگرچہ بہت سارے الزامات بہت ساری مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں لیکن خونیں انقلاب کی نوید بہرحال دے رہے ہیں۔

انقلاب خونیں ہو یا غیر خونیں انقلاب عوام ہی لاتے ہیں اگر انقلابی پارٹیوں کا حال یہ ہو کہ وہ عوام کے سمندر کے ساحل پر کیکڑوں کی طرح پڑے ہوں تو خونیں انقلاب درکنار عوام لوڈ شیڈنگ جیسے انتہائی تکلیف دہ مسئلے پر بھی سانس روکے پڑے ہی رہیں گے۔ پتا نہیں ہمارے انقلابی دوست اس حقیقت کو کیوں نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ کسی بھی تبدیلی کے لیے عوام میں رہنا ضروری ہے جب کہ صورتحال یہ ہے کہ عوام نہ انقلابیوں کے صورت شناس ہیں نہ ان کے نظریات اور فلسفے سے واقف ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔