435 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں، اسٹیل ملز انکوائری کی رپورٹ طلب

خبر ایجنسی  پير 16 اپريل 2018
نیب کی بدعنوانی خاتمے کی حکمت عملی کے6ماہ میں مثبت نتائج ملے،پوری قوم کوششوں کی معترف ہے،جسٹس جاویداقبال۔ فوٹو :فائل

نیب کی بدعنوانی خاتمے کی حکمت عملی کے6ماہ میں مثبت نتائج ملے،پوری قوم کوششوں کی معترف ہے،جسٹس جاویداقبال۔ فوٹو :فائل

اسلام آباد: چیئرمین نیب نے پاناما اور برٹش ورجن آئس لینڈ میں 435 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کے حوالے سے نیب کی انکوائری کے حوالے سے رپورٹ طلب کی ہے۔

چیئرمین نیب نے پاناما پیپرزکے حوالے سے دیگر تمام شراکت داروں کے باہمی تعاون کے حوالے سے بھی رپورٹ طلب کی ہے جو پہلے ہی اس حوالے سے کام کر رہے ہیں ان اداروں میں ایف بی آر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایس ای سی پی سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان اداروں کے پاس شواہدکی روشنی میں 435 افراد کے حوالے سے تحقیقات کا عمل مکمل کیا جائے۔

چیئرمین نیب نے قبل ازیں ہدایت کی تھی کہ پاناما انکوائری میں  کسی قسم کا دباؤ قبول نہ کیا جائے اور تحقیقات کا عمل شفاف ہو اور اس حوالے سے تحقیقات کو میرٹ اور مضبوط شہادتوں کی روشنی میں مکمل کیا جائے۔ چیئرمین نیب نے پاکستان اسٹیل ملزکی غیرفعالیت اور اس معاملے پر جاری انکوائری پر پیشرفت رپورٹ طلب کی ہے۔

نیب سے جاری بیان کے مطابق جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کی انسداد بدعنوانی کی موثر حکمت عملی کامیاب رہی ہے‘ نیب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بدعنوانی کے خاتمے کے لیے جو حکمت عملی واضح کی 6 ماہ کے دوران اس کے مثبت نتائج آئے ہیں اور یہ قوم کی آواز بن چکی ہے، نیب کسی دباؤ اور فیورٹ ازم کے بغیر انسداد بدعنوانی کے لیے اقدامات کررہا ہے جس کی وجہ سے پوری قوم نیب کی کوششوں کی تعریف کررہی ہے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔