سندھ کے 12 بڑے شہروں میں عجائب گھر بنائے جائیں گے

وکیل راؤ  پير 16 اپريل 2018
وہ قومیں زندہ رہتی ہیں جواپنی تاریخ اورتہذیب کومحفوظ رکھتی ہیں،صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت اور نوادرات سید سردار علی شاہ۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

وہ قومیں زندہ رہتی ہیں جواپنی تاریخ اورتہذیب کومحفوظ رکھتی ہیں،صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت اور نوادرات سید سردار علی شاہ۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

کراچی: سندھ حکومت صوبے میں 12 نئے عجائب گھر (میوزیم) بنائے گی عجائب گھر بنانے کا مقصد عوام کو سندھ کے شہروں کی تاریخ، رہن سہن، مقامی فن اور نامور ہستیوں کے حوالے سے روشناس کرانا ہے۔

صوبائی محکمہ ثقافت و آثار قدیمہ کے تحت سندھ کے 12 بڑے شہروں میں میوزیم قائم کیے جارہے ہیں جن کا مقصد شہروں کی تہذیب و تمدن، ثقافت اور تاریخ سے صوبے کے عوام کو روشناس کرانا ہے ننگرپارکر، مٹھی، حیدرآباد سٹی میوزیم ، ٹھٹھہ میوزیم، سائیٹ میوزیم آمری سیہون، لاڑکانہ تگڑ بلڈنگ میوزیم، آرٹ اینڈ کرافٹ میوزیم سیہون شریف، بھنبور میوزیم، موہن جو داڑو، اسٹیٹ میوزیم خیرپور، سٹی میوزیم شکارپور شامل ہیں۔

صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت اور نوادرات سید سردار علی شاہ نے ایکسپریس کو بتایا ہے کہ ہم نے عجائب گھروں کے قیام کے لیے کوئی نئی عمارت نہیں بنائی بلکہ پہلے سے قائم محکمہ ثقافت و سیاحت کی عمارتوں میں یہ میوزیم قائم کیے جارہے ہیں جن کا مقصد سندھ کے شہروں کی ثقافت کو قائم رکھنا اور شہریوں کو ان کے بارے میں بتانا ہے۔

موہن جو داڑو کی تاریخ سے نئی نسل کو روشناس کرانا ہے میوزیم کے قیام سے سندھ کے تاریخی شہروں میں لوگوں کے رہن سہن، مقامی ہنر، وہاں کے لباس، ثقافتی روایات، طرز زندگی کے بارے عوام کو آگاہ کرنا ہے ان میوزیم میں نامور ہستیوں کی تصاویر بھی سجائی جائیں گی جبکہ نوادارت بھی ان میوزیم کا حصہ ہوں گے انھوں نے کہا کہ آثار سے دریافت ہونے والی اشیا بھی میوزیم میں رکھی جائیں گی۔

صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے کہا کہ قوموں کے زندہ ورثے کو بھی محفوظ بنایا جائے گا کیونکہ وہ قومیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں جو اپنی تہذیب و ثقافت اور تاریخ کو محفوظ رکھتی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔