’’کیا ہم پاکستانی نہیں ہے؟‘‘

ارمغان قیصر  منگل 17 اپريل 2018
 ہم بھی اتنا ہی محب وطن ہے جتنا پنجاب میں رہنے والا پنجابی اور سندھ میں رہنے والا سندھی۔ فوٹو:انٹرنیٹ

ہم بھی اتنا ہی محب وطن ہے جتنا پنجاب میں رہنے والا پنجابی اور سندھ میں رہنے والا سندھی۔ فوٹو:انٹرنیٹ

’’تم ہمیں بلوچی سمجھتا ہے بس! پاکستانی نہیں سمجھتا۔ ہم بھی اتنا ہی محب وطن ہے جتنا پنجاب میں رہنے والا پنجابی اور سندھ میں رہنے والا سندھی۔ ہم اگر پنجاب میں پیدا ہوتا تو پنجابی ہوتا، سندھ میں پیدا ہوتا تو سندھی ہوتا۔ اب اس میں ہمارا غلطی تو نہیں ہے کہ ہم ایسے علاقے میں پیدا ہوگیا جو بہت سارے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی زد پر ہے۔ ہم اسپتال جاتا ہے تو ڈاکٹر سے پہلے ہمارا چیک اپ سیکیورٹی والا کرتا ہے۔ کیا ایسا دوسرے علاقوں میں ہوتا ہے؟ ہم اندر جاتا ہے تو ڈاکٹر اور دوائیاں کم مگر بندوق زیادہ نظر آتا ہے۔ ہم لوگوں کو حکومت نہ گھر بنا کر دیتا ہے اور نہ اسپتال۔ ہماری نئی نسل جب بڑا بڑا شہر پڑھنے جاتا ہے تو واپس آتے ہی ہم سے سوال کرتا ہے کہ بابا کیا ہم پاکستانی نہیں ہیں؟ کیا ہمارا علاقہ پاکستان میں نہیں ہے؟‘‘

یہ کہہ کر اس نے میری گاڑی کا بونٹ بند کردیا اور کہا کہ اب اسٹارٹ کرو۔ بیٹری کا ٹرمینل اترا ہوا تھا، لگا دیا ہے۔ اب یہ چل پڑے گی۔ میری اس سے ملاقات نہ ہوتی اگر لسبیلہ سے آگے میری گاڑی ایک دم سے بند نہ ہوتی۔ بہت سی گاڑیوں کو میں نے مدد کےلیے ہاتھ دیا لیکن وہ پاس آتے ہی ایک دم اسپیڈ تیز کرکے گزر جاتیں۔ اتنے میں ایک پرانے ماڈل کی ڈبل کیبن جس میں چند بھیڑیں، کچھ سامان اور بچے سوار تھے، خودبخود میرے پاس آکر رکی۔ اس میں سے ایک ساٹھ سالہ آدمی نے اترتے ہی بلند آواز میں سلام کیا اور پوچھا کہ کیا بات ہے، کیوں کھڑے ہو، پیٹرول نہیں ہے کیا؟ میں نے جواب دیا کہ سمجھ نہیں آرہی ہے ایک دم سے چلتے چلتے ہوئے بند ہوگئی۔ خیر! اس نے گاڑی اسٹارٹ کردی اور بعد میں ہم نے اپنی اپنی راہ لی۔ اس دوران جب وہ گاڑی کا بونٹ اٹھائے چیک کررہا تھا تو ہماری ہلکی پھلکی باتیں بھی ہوئیں۔

اس کی باتیں تلخ مگر حقیقت سے بہت قریب تھیں۔

میرے ذہن میں فوراً ہی جان برٹن (John Burton) کا ’’انسانی بنیادی ضروریات‘‘ کا نظریہ گھوم گیا، جو ان لوگوں اور طبقات کے مسائل حل کرنے میں بہت مدد گار ہوتا ہے جو اپنی شناخت، پہچان، تحفظ کے حصول اور ترقی کی تلاش میں ہوتے ہیں اور قومی دھارے میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں قومیت اور پھر نسلیت کے لحاظ سے بہت تنوع ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تنوع کو متوازن اور منظم انداز سے قومی یک جہتی میں تبدیل کیا جائے۔ ہمیں زمینی حقائق، بلوچستان کے لوگوں کی تاریخ اور ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی بنیادی ضرورریات کو پورا کرنا ہوگا۔

مسائل کی نوعیت عمومی ہونے کے باوجود وہاں 1948 سے 2002 تک پانچ مرتبہ بغاوتیں ہوچکی ہیں۔ گورننس کے مسائل، لاپتا افراد کا مسئلہ اور بیرونی سازشیں اپنی جگہ لیکن کیا کبھی زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے نچلی سطح سے تبدیلی کی کوششیں کی گئیں؟

کیا کبھی بلوچ سرداروں اور جاگیرداروں کے ساتھ اہم موضوعات پر بات چیت کی گئی اور ٹھوس مفاہمتی عمل کی بنیاد رکھی گئی؟

این ایف سی ایوارڈ، آغازحقوق بلوچستان، اور بیل آؤٹ پیکیج کی اہمیت اپنی جگہ لیکن جب تک Top Down Approach کے ساتھ Bottom up approach استعمال نہیں کی جائے گی، مسائل حل نہیں ہوسکیں گے۔ طاقت کے استعمال کے بجائے Soft Power کا استعمال بہت اہمیت رکھتا ہے، اس سے لوگوں کےلیے سماجی اور معاشی اصلاحات کرنے میں مدد ملتی ہے۔

بلوچستان کے عوام کو تحفظات جہاں قومیت اور نسلیت کے حوالے سے ہیں وہاں انہیں زمینی حقائق سے آگاہی اس سطح پر نہیں۔ اس صوبے کا رقبہ 347190 مربع کلومیٹر وسیع ہے مگر بلوچستان میں آبادی ٹکڑیوں کی صورت میں دور دراز علاقوں میں بکھری ہوئی ہے۔

ایسا انفرا اسٹرکچر ریاست کے پاس ہونا بہت مشکل ہے کہ آبادی کی ایسی شکل کےلیے مکمل طور پر سہولیات زندگی مہیا کی جائیں مگر اس کا حل اس صورت میں تو نکالا جا سکتا ہے جب بلوچستان میں اسلام آباد اور گوادر کی طرز پر کچھ شہر ایسے بنادیئے جائیں جہاں ان لوگوں کےلیے جو بنجر زمینوں اور پہاڑوں میں رہتے ہیں، ان کی آباد کاری کی جائے۔ لیکن اس کےلیے ارادے کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر لوگوں کو قائل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ زیادہ سے زیادہ مراعات اور وسائل دے کر یہ بات ممکن بنائی جاسکتی ہے۔

صوبائی خود مختاری، بے روزگاری کا خاتمہ، نوجوان طبقے کو بڑے منصوبوں میں زیادہ سے زیادہ نوکریاں دینے سے، تعلیمی ہنگامی پالیسی اور ہر شعبے میں بنیادی اصلاحات بہت اہمیت کی حامل ہیں لیکن سے پہلے خود ریاست کو اعتماد کی بحالی کےلیے اقدامات کرنا ہوں گے اور اس میں میڈیا اور سول سوسائٹی کا کردار بھی بہت اہم ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔