پاک افغان سرحد پر 2 پاکستانی ایف سی اہلکاروں کی شہادت

ایڈیٹوریل  منگل 17 اپريل 2018
افغان فورسز کی جانب سے سرحدوں پر حالات کشیدہ کرنے کی کارروائی سے خطے میں افراتفری اور انتشار میں اضافہ ہو گا۔ فوٹو؛ فائل

افغان فورسز کی جانب سے سرحدوں پر حالات کشیدہ کرنے کی کارروائی سے خطے میں افراتفری اور انتشار میں اضافہ ہو گا۔ فوٹو؛ فائل

کرم ایجنسی میں ایف سی کے جوانوں پر افغان سرحد کے پار سے کی گئی فائرنگ سے 2ایف سی اہلکار شہید اور 5زخمی ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام کیا جا رہا ہے اور اتوار کو اس حوالے سے ایف سی اہلکار انتظامات کے لیے مختلف مقامات کا معائنہ کر رہے تھے کہ ان پر فائرنگ کر دی گئی، پاک فوج نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور کوشش کی کہ دوسری طرف سے کوئی افغان شہری زخمی نہ ہو۔

افغان فورسز کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس سے پیشتر بھی متعدد بار ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں‘ پاکستان نے ایسے شر انگیز واقعات کی روک تھام کے لیے متعدد بار افغان حکام سے بات کی جس میں یہ طے پایا کہ آیندہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہونا چاہیے اور دونوں ممالک کو اپنے دوستانہ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے ہر کوشش بروئے کار لانی چاہیے۔

گزشتہ دنوں پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کابل کے دورہ کے موقع پر باہمی تعلقات مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ افغان فورسز کی جانب سے اتوار کو پاکستانی فورسز پر فائرنگ کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں کہ انھوں نے ایسا کیوں اور کس کے ایما پر کیا۔ بہرحال جو کچھ بھی ہوا وہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

افغان فورسز کی جانب سے سرحدوں پر حالات کشیدہ کرنے کی کارروائی سے خطے میں افراتفری اور انتشار میں اضافہ ہو گا۔ ایک جانب بھارت کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر آئے دن فائرنگ اور گولہ باری کر کے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا تو دوسری جانب شمال مشرقی سرحد پر افغانستان پاکستان کے لیے مسائل میں اضافہ کر رہا ہے۔ ادھر سیکیورٹی ذرایع کے مطابق بنوں میں میر علی کچوری چیک پوسٹ کے قریب ایف سی کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم حملے میں ایف سی کے 3اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔

افغان حکام کو اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ غیرملکی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل کر پاکستان کے لیے مسائل پیدا کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا بلکہ اس سے اس کے اپنے اندرونی اور خارجی مسائل میں اضافہ ہو گا۔ اگر افغان حکومت علاقے میں امن قائم کرنا چاہتی ہے تو اسے پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات بہتر بنانے کے لیے سرحدوں پر فائرنگ کے جو واقعات رونما ہو رہے ہیں ان کا فوری سدباب کرنا چاہیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔