اختیارات کی جنگ، انسداد اسمگلنگ مہم عملاً رک گئی

احتشام مفتی  منگل 17 اپريل 2018
خاص کیسزکااندراج،چھالیہ، ٹائرز،گٹکے وسیگریٹس کی آزادنہ اسمگلنگ ہونے لگی، ذرائع۔  فوٹو: فائل

خاص کیسزکااندراج،چھالیہ، ٹائرز،گٹکے وسیگریٹس کی آزادنہ اسمگلنگ ہونے لگی، ذرائع۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  ڈائریکٹوریٹ کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن میں اعلی سطح پر اختیارات کی جنگ اور نچلی سطح پرمن پسند افسران کی تقرریوں کے باعث انسداد اسمگلنگ مہم کی رفتار سست ہوگئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ڈائریکٹوریٹ میں تعینات کیے جانے والے کہنہ مشق اور ایماندار افسران کی تقرریوں کے بعدانسداد اسمگلنگ مہم کے تحت پے درپے کاروائیوں میں بھاری مقدار میں غیرقانونی اشیا کی بازیابی پر جہاں اسمگلروں کا منظم گروہ خوفزدہ ہوا وہاں ڈائریکٹوریٹ کے کچھ اعلی افسران بھی مبینہ طورپرخفگی کا اظہارکررہے ہیں۔

کراچی ڈائریکٹوریٹ میں چند ماہ قبل بہترین کارکردگی کے حامل اعلیٰ افسران کے تبادلوں کے بعد نچلی سطح کی وہ ٹیم جو براہ راست انسداد اسمگلنگ کی مہم میں شریک ہوتے تھے کو ملک کے دیگر کلکٹریٹس میں تبادلے کردیے گئے، اسی طرح کسٹمزانٹیلی جنس ملتان میں رواں ماہ ڈائریکٹرکے عہدے پرڈاکٹرعدنان کوتعینات کرکے 19 یوم بعد ہی انہیں اثرورسوخ کی بنیاد پر دوبارہ ڈائریکٹر ٹریننگ لاہورتبادلہ کردیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ ڈائریکٹرکسٹمز انٹیلی جنس ملتان نے اپنی تعیناتی کے ساتھ ہی انسداد اسمگلنگ مہم کونتیجہ خیزبنانے کے لیے بعض سخت اقدامات کیے اورذاتی طور پر انسداد اسمگلنگ آپریشنز کی نگرانی بھی شروع کی۔

اس دوران انہیں ملتان ڈائریکٹوریٹ میں تعینات نچلے درجے کے اہلکاروں کی بے قاعدگیوں اورغیرقانونی سرگرمیوں کی شکایات ملیں جس پر انہوں نے ایسے کرپٹ اہلکاروں کو وارننگ نوٹسز جاری کیے اور بعد ازاں ان کے تبادلے کے احکام جاری کیے لیکن ایک اعلیٰ افسر نے اپنے من پسند اہلکاروں کے تبادلوں پرسخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے ان کے تبادلے فوری طور پر رکواتے ہوئے انسداداسمگلنگ مہم کو درست سمت پر آپریٹ کرنے کے جرم میں مذکورہ ڈائریکٹر کا 19 روز کے بعد ہی ڈائریکٹر ٹریننگ لاہور کی حیثیت سے تبادلہ کرادیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کے اس ماتحت ادارے کی گزشتہ چند ماہ سے داخلی سرگرمیاں انتہائی مشکوک ہوگئی ہیں۔ اور بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ اعلیٰ افسر کو ایک بااثر سیاسی شخصیت کی مکمل آشیرباد حاصل ہے۔

دوسری جانب ڈائریکٹوریٹ کسٹمز انٹیلی جنس کراچی کے دفتر میں میڈیا کی آمد پر غیراعلانیہ طور پر پابندی عائد کردی گئی ہے اورکراچی ڈائریکٹوریٹ میں تعینات ایک اپریزر کو افسران سے میڈیا کو دور رکھنے کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اس اہم ڈائریکٹریٹ میں صرف واحد اعلیٰ افسر کی ایما پر اسمگلنگ کے مخصوص کیسز کے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے چھالیہ سمیت دیگر ممنوع اشیاکی منظم اسمگلنگ کی رفتار تیز جبکہ ڈائریکٹوریٹ کی انسداد اسمگلنگ مہم کی رفتار انتہائی سست ہوگئی ہے۔

ڈائریکٹوریٹ میں تعینات غیرقانونی سرگرمیوں میں ماہراور تجربہ کار نچلے افسران کی اہمیت بڑھ گئی ہے جن کی ملی بھگت سے مبینہ طور پرکوئٹہ سے کراچی کے لیے یومیہ بنیادوں پر تقریباً 6 سے10 بڑے کنٹینر بردار وہیکلز میں آزادانہ طور پرچھالیہ، ٹائرز، گٹکا اور سیگریٹس کی اسمگلنگ ہورہی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔