فواد عالم کے عدم انتخاب پر چیف سلیکٹر جواز تراشنے لگے

اسپورٹس ڈیسک  منگل 17 اپريل 2018
امام الحق کا انتخاب آرتھر، فلاور اور دیگر سلیکٹرز نے کیا،میں خاموش بیٹھا رہا۔ فوٹو: فائل

امام الحق کا انتخاب آرتھر، فلاور اور دیگر سلیکٹرز نے کیا،میں خاموش بیٹھا رہا۔ فوٹو: فائل

 کراچی: چیف سلیکٹر انضمام الحق فواد عالم کے عدم انتخاب پر جواز تراشنے لگے۔

فواد عالم کو ایک بار پھر نظر انداز کیے جانے پر سلیکشن کمیٹی اور خاص طور پر چیف سلیکٹر انضمام الحق کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، انھوں نے اس حوالے سے ویب سائٹ ’’کرک انفو‘‘ سے بات چیت میں کہا کہ مجھے گذشتہ تین برس کے دوران ڈومیسٹک کرکٹ میں فواد عالم سے کہیں زیادہ بہتر کرکٹرز دکھائی دیے، وہ ایک غیرمعمولی کھلاڑی ہیں لیکن کئی پلیئرز فہرست میں ان سے اوپر ہیں۔ ہم نے فواد کو یہاں نیٹس میں بلایا مگر سعد علی کو ان سے بہتر پایا۔

انضمام نے کہا کہ میں اب تک 12 سے 14 کھلاڑیوں کو موقع دے چکا اور کسی نے بھی ہمیں مایوس نہیں کیا، کسی پلیئر کو ڈراپ کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ ہم اسے نظر انداز کررہے ہیں، پلیئرز کو اسکورکارڈز اور اعدادوشمار کی بنیاد پر منتخب کرنا آسان لیکن ہمیں بہت سی دوسری چیزوں کو بھی زیر غور لانا پڑتا ہے۔

چیف سلیکٹر نے کہا کہ میں کچھ بھی فواد عالم سے چھین نہیں رہا، انھوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بہت سے رنز اچھی ایوریج سے بنائے مگر جب مقابلہ ہوتا ہے تو کچھ کھلاڑی باہر رہ جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ ان کا کیریئر ختم ہوگیا ہے، ہم نے ان لوگوں کو موقع دیا جن کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ انگلش کنڈیشنز میں اچھا کھیل سکتے ہیں۔

انضمام الحق نے بتایا کہ گزشتہ سیزن میں قائداعظم ٹرافی کے دوران بولنگ کنڈیشنز تھیں مگر سعد علی نے غیرمعمولی پرفارمنس دی اسی لیے ان کو موقع دیا گیا، میں نے کئی بھی بار فواد سے بات کی اور ان کو اعتماد دیا کہ وہ سخت محنت کا سلسلہ جاری رکھیں۔

اپنے بھتیجے امام الحق کے انتخاب سے متعلق انضمام نے کہاکہ وہ ایک سخت فیصلہ تھا مگر میں نے نہیں کیا، دراصل ہیڈ کوچ مکی آرتھر، بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور اور دوسرے سلیکٹرز نے انھیں منتخب کرنے کا فیصلہ کیا،اگرچہ میں مشاورتی گروپ کا حصہ تھا لیکن میں نے اس معاملے میں کوئی بھی بات نہیں کی، کوچز اور ٹرینر کی رپورٹ ہے کہ امام کی صلاحیت اور فٹنس میں بہتری آرہی ہے، ویسے بھی میرے چیف سلیکٹر بننے سے قبل ہی امام سسٹم میں موجود تھا، اس لیے اس کے مجھ سے تعلق کو زیر بحث نہیں لانا چاہیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔