علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں تین دن (1)

زاہدہ حنا  بدھ 18 اپريل 2018
zahedahina@gmail.com

[email protected]

آنکھ کھلی تو پوپھٹ رہی تھی جب پہلی چڑیاچہکی اور پھردوسری چہچہائی تو یادآیاکہ میںعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں ہوں۔ اقبال کے کلام نے ذہن پر یورش کی۔

سِلسلئہ روز و شب، نقش گرِ حادثات

سِلسلئہ روز و شب، اصلِ حیات وممات

سِلسلئہ روز و شب، تارِ حریرِ دو رنگ

جِس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات

سلسلئہ روز و شب، سازِ ازل کی فغاں

جس سے دکھاتی ہے ذات زیروبمِ ممکنات

اے حَرمِ قُرطُبہ! عشق سے تیراوجود

عشق سراپادوام، جس میںنہیںرفت وبُود

رنگ ہویا خِشت وسنگ ،چنگ ہویا حرف وصَوت

معجزہّ فن کی ہے خُونِ جگرسے نمود

’مسجد قرطبہ‘ اقبال کا بے مثال کلام علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میںنہ یادآئے توکہاںیادآئے۔ڈاکٹرجعفر احمد، ڈاکٹر فاطمہ حسن اوریہ خاکسار یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہدصدیقی کی دعوت پراسلام آبادپہنچے تھے اورہمیںافتتاحی سیشن میں ’’معاشرے کی تشکیل نومیں ادب کاکردار‘پراپنے اپنے خیالات کااظہار کرناتھا۔ منصور آفاق اور خورشید ندیم بھی اس سیشن میںشریک تھے۔پروفیسر فتح محمد ملک نے اس کی صدارت کی ۔ سب نے اپنے اپنے طورپر معاشرے کی تشکیل نومیںادب کے کردار پر گفتگو کی۔ادب، ادیب کے ذہن اورقلم سے وجودمیںآتاہے اس لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ ادب کی بات کی جائے اورادیب کا ذکررہ جائے۔

سب ہی معاشرے کی تشکیلِ نومیں ادب اورادیب کے کردار پرروشنی ڈالتے رہے۔اس موضوع پر میںنے بھی اپنی معروضات پیش کیں۔ میراکہناتھا کہ  معاشرے مختلف زمانوںاورزمینوںمیںہزاروں برس سے سانس لیتے رہے ہیں۔آج کے موضوع کے حوالے سے یہ سمجھا جاسکتاہے کہ یہ پاکستانی معاشرے کی تشکیل نوکی بات ہے۔توپھر کیاہم یہ سمجھیں کہ یہ جنرل ضیاء الحق کی فوجی آمریت کی زیرسرپرستی وجود میںآنے والے پاکستانی معاشرے کی تشکیل نوکاقصہ ہے؟ہم یہ بھی فرض کرسکتے ہیںکہ کل تک جس معاشرے کوپاک اور پاکیزہ خطوط پر استوار کردیاگیاتھا،آج شاید اس کی ضرورتیںبدل گئی ہیںاوراس کی تشکیل نوپر غورکیاجارہاہے۔کوئی نیابیانیہ قائم کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔

اپنی معروضات پیش کرتے ہوئے میںنے نشاۃ الثانیہ کو کویادکیا جس نے سیکڑوںبرس پہلے نہ صرف اپنے سماج کی تشکیل نو کی بلکہ آج تک ہم پربھی اثرانداز ہورہی ہے۔اس نوعیت کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کوئی نقطہ آغاز متعین کرنالازم ہے سو میںنے اپنی بات انقلاب فرانس سے شروع کی جس نے نئے خیالات اورنئے تصورات کی ترویج کی۔ یہ وہ زمانہ تھاجب بادشاہ خداکاسایہ کہاجاتاتھالیکن درحقیقت وہ خدا ہی سمجھاجاتاتھا۔اسے اپنی حاکمیت قائم کرنے کے لیے کلیسا کی ضرورت تھی اور کلیسا اسی بادشاہ کے سائے میں عوام کی جان ومال کواپنے قبضئہ قدرت میںرکھتاتھا۔ اس اشتراک نے سماج میں ناانصافی‘ جبراورمطلق العنانیت کوروزمرہ بنادیاتھا ۔تیرھویںصدی سے سترھویںصدی تک یورپ کیسے انقلابات سے گزرا اور پھرفرانس میںادیبوںکاجماؤہوا۔یہ وہ وقت تھاجب مونٹیسکیو،روسو، والٹیر اوردوسرے فرانسیسی ادیبوںنے اپنے سماج کوبدلنے کے لیے اپنے خیالات سے کام لیا۔

بادشاہ اورکلیسا کوادیبوں سے اور ادب سے خوف آتاتھا۔ اس خو ف کی انتہایہ تھی کہ مزاحمت پر آمادہ کرنے والی کتابیں بستائیل  کے بندی خانے میںزنجیر سے باندھ کررکھی جاتی تھیں اوریہ فرض کرلیاجاتاتھا کہ ان میںبیان کیے جانے والے خیالات بندی خانوںمیںدم توڑدیں گے لیکن خیال سے زیادہ خطرناک اورجان دارکوئی چیز نہیں۔آپ انسانوں کوجان سے مار سکتے ہیں،چوک پران کی کتابوں کوجلاسکتے ہیں لیکن خیال وہ سدابہار طلسمی پوداہے جونہ جڑسے اکھاڑکر کچلا جا سکتاہے ‘نہ اسے جلایاجاسکتا ہے اور نہ اسے جلاوطن کیا جا سکتاہے۔اسے جلاوطن کیسے کیاجائے کہ اس کاوطن انسانی ذہن ہے۔ ذہن سے پھوٹنے والی خیال کی خوشبودورتک تیرتی چلی جاتی ہے۔

انقلاب فرانس کی راہ ہموار کرنے والے ادیبوںمیں مونٹیسکیو، روسو،والٹیر اوردوسرے بہت سے تھے ۔انقلاب فرانس کے قدموںکی چاپ بادشاہ اور کلیساکو سنائی دے رہی تھی۔یہی وجہ تھی کہ والٹیرکو جلاوطن کردیاگیا لیکن ناانصافی‘ عدم برداشت اورنابرابری کے خلاف اس کے خیالات اس کے وطن میںانقلاب کاسبب بن گئے۔ وہ برطانوی فلسفی اور سائنس دان فرانسس بیکن کازبردست معتقدتھا۔یہ بیکن تھا جو سائنس کو طب،زراعت اورتعلیم کے شعبوں میں  استعمال کرنے کی بات کرتا تھا۔ اس کاکہناتھاکہ یہ سائنس ہے جو انسانوںکو بھوک، بیماری اور جہل سے نجات دلاسکتی ہے۔  والیٹراس بارے میں فرانسس بیکن کے خیالات کامقلہ تھا۔

اس انقلاب کی رہنمائی برطانوی اور امریکی انقلاب نے کی تھی۔ وہ مجسمّہ آزادی جونیویارک کے ساحل پر ہمیںاپنی شوبھادکھاتاہے، وہ فرانسیسیوںکااظہارتشکرتھا جوانھوںنے امریکی انقلابیوں کوتحفے میںبھیجا تھا اورجسے ہم مجسمّہ آزادی کے نام سے پکارتے ہیں۔یہ روسو تھا جس کاکہناتھا کہ آزادی دراصل وہ قوانین ہیںجو انسان نے اپنے لیے بنائے ہیںاورجن کے تحت وہ زندگی گزارتاہے۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ آئین ہے جس سے برطانیہ‘فرانس، امریکا اور دوسروں نے اپنا مقدربدل دیا۔صدیوںپہلے فرانس میں یہ کہا جارہا تھااورہمارے یہاں آئین کوبارہ صفحے کاچیتھڑا کہہ کر روند دیا جاتاہے۔

ہم سماج کی تشکیل نوکی بات کرتے ہیں توہمیں یورپ کی اس بیداری کوجاننے اورسمجھنے کی ضرورت ہے جو بارھویں،تیرھویںصدی سے شروع ہوکر سولہویں سترھویں صدی تک کبھی نشاۃ الثانیہ اورکبھی اصلاح مذہب کی تحریک اورکبھی انسانیت پرستی کی تحریک کہلائی۔یہ تحریکیں جو انگلستان، امریکا،فرانس اور دوسرے یورپی ممالک میں سترھویں اور اٹھارویں صدی سے پھیلنی شروع ہوگئی تھیں، انھوںنے آگے چل کر اپنے اپنے سماج کی تشکیل نوکی جس کے نتیجے میںصنعتی انقلاب نے جنم لیا۔

یہاںبرسیل تذکرہ یہ بھی کہہ دیاجائے کہ یورپ کی جس نشاۃ الثانیہ کاذکر کرتے ہوئے ‘ہم اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اس نے ہمارے ابن رُشد کی کتابوں سے جنم لیا‘اسی ابن رُشد کی کتابوں کے ڈھیر ہم نے قرطبہ کے چوک پر جلائے تھے۔ ان کتابوں کے چند نسخے ابن رُشد کے یہودی طلبہ اپنی آستینوں میں چھپاکر نیپلزوینس اور دوسرے یورپی شہروں میںلے گئے تھے۔ یہ وہی ابن رُشد ہے جس کی کئی پشتوںمیںقاضی القضاۃ کاعہدہ رہا تھا‘ابن رشد خودبھی قاضی القضاہ تھا لیکن ایک سائنسی مسئلے کی توجیہہ کی بناد پروہ عہدے سے معزول کیاگیا۔سزا کے طورپرمسجد قرطبہ کی سیڑھیوں پرنماز یوں کے جوتے صاف کرنے کے لیے بٹھایا گیا اورنمازیوں کوحکم دیاگیاکہ وہ چڑھتے اوراترتے ہوئے اس پر تھوکیںچنانچہ نمازیوں کالعابِ دہن اس کے گناہوں کودھوتا رہا۔

کسی بھی سماج کی تشکیل نومیںادب اورادیب کا جو کرداررہاہے‘وہ عظیم الشان ہے۔ یہاںانیسویں صدی کی صرف ایک کتاب کی مثال دوںگی جو Uncle Tom’s Cabin کے نام سے مشہور ہے۔ اسے Harriet Beecher Stoveنے لکھا۔ یہ امریکا میںغلامی کے خلاف لکھاجانے والا ایک ایسا ناول تھا جس نے سفید فام اکثریت کوآئینہ دکھایااوراسے دہلاکر رکھ دیا۔یہ ناول پہلے National Eraمیںقسط وار چھپااور پھر 1852 میں کتابی صورت میں شایع ہوا توپہلے برس ہی اس کی 3لاکھ کاپیاںفروخت ہوگئیں۔اس ناول نے امریکی جنگ آزادی کوکامیاب کرانے میںبنیادی کردارادا کیا۔ امریکی  صدرابراہم لنکن کی جب ہیرٹ سے ملاقات ہوئی تواس نے بے ساختہ کہا”اتنی چھوٹی سی عورت نے ہمیںاتنی بڑی جنگ جتوادی ، مجھے اس کااندازہ نہ تھا “۔یہ بات لنکن نے اس لیے کہی کہ ہیرٹ کاقدوقامت معمول سے کم تھا۔

کہنے کی باتیں توبہت ہیںلیکن وقت اجازت نہیں دیتا،آخرمیںجان کی امان مانگتے ہوئے یہ عرض کروںکہ ہم اپنے سماج کی تشکیل نوکیسے کریںگے کہ ہمیںسچ لکھنے اور بولنے والے گوارا نہیں‘ہم شاہی قلعے میں ان کی ہڈیاں توڑ دیتے ہیں اورگم نام قبر میں دفن کردیتے ہیں، ہم اپنے وزیراعظم کوپھانسی دیتے ہیں‘جلاوطن کرتے ہیں‘معزول اور نااہل کرتے ہیں۔سوال پوچھنے والے اور،احتجاج کرنے والے ہزاروں کی تعدادمیںغائب کردیے جاتے ہیں‘ آئین ہمارے لیے بوٹ صاف کرنے والاٹشوپیپر ہے اور ہماری مقننہ ایک بے توقیر اور مجہول ادارہ بن کررہ گئی ہے۔ ہمارے مقتدرین کوادب سے ڈرلگتا ہے۔

سولیویں، سترھویںاوراٹھارویں صدی میںکلیسا کے حکم پر کتابیں مصلوب کی جاتی تھیں‘قید خانوں میںزنجیریںپہنا کر رکھی جاتی تھیں، ہمارے یہاںجان کا خوف ادیب کوپنپنے نہیں دیتا‘ وہ مقتدرین کے بیانیے سے اختلاف اور انحراف کرنے کی جرأت کرے تو اسے غداری اورالحاد کے تمغے پہنائے جاتے ہیں۔سوال کرنے والے نوجوانوں کو مشال خان بنادیا جاتا ہے اور اس کی لاش سڑک پر گھسیٹی جاتی ہے۔ وہ اور اس جیسے انصاف کے ہزاروں طلب گارہیں۔مشال خان کے خونِ ناحق کے دھبے سڑک سے دھودیے گئے ہیں لیکن ایک برس بعدبھی وہ رات کی تاریکی میںبھڑکتی ہوئی مشعل کی طرح لو تو دیتے ہیںاورہم سے سوال کرتے ہیںکہ ہمارے معاشرے کی تشکیلِ نو میں انصاف کی واقعی کوئی گنجائش ہوگی؟

(جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔