فلم اور ڈراموں میں کرداروں کے ملبوسات مقامی کلچر کی عکاسی کرتے ہیں، ارمینا رانا خان

قیصر افتخار  جمعـء 20 اپريل 2018
نئے پروجیکٹس کے حوالے سے تفصیلات کی فراہمی معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی،اداکارہ کی ’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

نئے پروجیکٹس کے حوالے سے تفصیلات کی فراہمی معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی،اداکارہ کی ’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

 لاہور: اداکارہ وماڈل ارمینا رانا خان نے کہا ہے کہ ہمارے چاروں صوبے اپنی رسم ورواج، میوزک ، بولیوں اور ملبوسات کی وجہ سے اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں اس لیے جب ہم اپنے ملک یا دنیا کے کسی بھی خطے کی کہانی کواپنی فلم یا ڈرامے میں پیش کرتے ہیں توضروری ہوجاتا ہے کہ ہم وہاں کا کلچر بھی دکھائیں۔

’’ایکسپریس‘‘سے گفتگوکرتے ہوئے ارمینا رانا نے کہا کہ فلموں میں حقیقت کے رنگ بھرنے کیلیے جس طرح کہانی اورکردارکا مضبوط ہونا ضروری ہوتا ہے ، اسی طرح ان کرداروں کے مطابق اگران کے ملبوسات بھی تیارکیے جائیں تووہ ’ سونے پہ سہاگہ ‘ کا کام کرتے ہیں۔

اداکارہ نے کہا کہ دیکھا جائے توہالی ووڈ اوربالی ووڈ میں بننے والی فلموں کے کرداروں کی ڈریسنگ پرخاص توجہ دی جاتی ہے۔ جس کے ذریعے کردارکی اپنی ایک منفرد جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔

ارمینا رانا نے مزید کہا کہ جس طرح فلم میکنگ کیلیے ڈائریکٹر، رائٹر، کیمرہ مین ضروری ہے۔ اسی طرح ڈریس ڈیزائنرکا ہونا بھی اشدضروری ہوتا ہے‘‘ جو سکرپٹ اور لوکیشنز کے مطابق ڈریس تیار کرتا ہے جس سے فلم کی خوبصورتی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس اہم شعبے پر موجودہ دورمیں بھی کچھ خاص توجہ نہیں دی جارہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ارمینا رانا نے کہا کہ اس وقت کچھ نئے پروجیکٹس پر کام جاری ہے لیکن اس کے حوالے سے فی الوقت تفصیلات کی فراہمی معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی، لیکن اتنا ضرور کہنا چاہوں گی کہ جس طرح پاکستانی سینما کا معیار دن بدن بہترہورہا ہے، اسی کی ایک جھلک میری نئی فلم میں دکھائی دے گی، اس لیے میرے چاہنے والوں کو تھوڑا انتظار کرنا ہوگا لیکن بہت جلد وہ نئے پروجیکٹ کے ذریعے خوب انٹرٹین ہونگے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔