تولیہ انڈسٹری توانائی بحران کا شکار، عالمی خریداروں نے بھارت کا رخ کرلیا

بزنس رپورٹر  اتوار 14 اپريل 2013
سرکاری صنعتی پالیسیاں بھارت کو فائدہ پہنچارہی ہیں، ٹاولز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین مہتاب چاؤلہ کی کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس۔  فوٹو: فائل

سرکاری صنعتی پالیسیاں بھارت کو فائدہ پہنچارہی ہیں، ٹاولز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین مہتاب چاؤلہ کی کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس۔ فوٹو: فائل

کراچی: امریکا اور یورپ کی جانب سے ٹاولز کے وسیع برآمدی آرڈرز موصول ہونے کے سبب مقامی ٹاولز انڈسٹری100 فیصد پیداواری استعداد پر آپریشنل ہوگئی ہے لیکن توانائی کے جاری بدترین بحران اورنئی لوموں کی مطلوبہ افزائش نہ ہونے کے سبب برآمدکنندگان نئے آرڈرز کے حصول سے کترارہے ہیں۔

یہ بات ٹاولز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سینٹرل چیئرمین مہتاب الدین چاؤلہ نے ہفتے کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی،انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر یہ تاثر قائم ہے کہ مستقبل میں پاکستان گلوبل ٹیکسٹائل حب ہوگا لیکن افسوس اس امر پر ہے کہ توانائی کے بدترین بحران کے باعث پاکستان کے حوالے سے عالمی سطح پر بروقت ڈلیوری نہ ہونے کا تاثر عام ہوتاجارہاہے جسکے سبب بیرونی خریدارپاکستان کی نسبت بھارت کو ترجیح دے رہے ہیں حالانکہ پاکستانی ٹاولزودیگر ٹیکسٹائل مصنوعات بلحاظ قیمت بھارت کے مقابلے میں کم اور معیار کے اعتبار سے بلند ہیں۔

پوری دنیا کی مارکیٹس میں پاکستانی ٹاولز کی برآمدات کو فروغ دیا جاسکتا ہے فی الوقت پاکستانی ٹاولز کی سرفہرست مارکیٹ امریکا ہے جہاں پاکستان سے90 فیصد ٹاولز کی برآمدات ہوتی ہیں اور باقی ماندہ یورپ کے دیگر ممالک میں ہورہی ہیں، انہوں نے بتایا کہ چین ماضی میں پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ایک سخت حریف ملک رہا ہے لیکن اب چین بھی اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ٹیکسٹائل مصنوعات درآمدکرنے پر مجبور ہوگیا ہے جس سے اس امر کا قوی امکان پیدا ہوگیا ہے کہ مستقبل میں چین بھی پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کا ایک بڑا خریدار ملک بن جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ٹاول احرام کی مارکیٹ بھی چین سے پاکستان منتقل ہوگئی ہے، پاکستان میں انفرااسٹرکچرل مسائل اور صنعتی شعبے کو بیک اپ نہ ملنے کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری یورپی یونین کی اعلان کردہ ترغیبات سے استفادہ نہیں کرپارہی ہے یہی وجہ ہے کہ رواں سال ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کا مقررہ ہدف حاصل نہیں کیا جاسکے گا اور برآمدات کی مالیت بمشکل 13 ارب ڈالر تک پہنچ سکے گی، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت صنعتکاری کے فروغ اور صنعتی پیداوار بڑھانے کے لیے برآمدی نوعیت کی صنعتوں کو ترجیحی بنیادوں پر گیس بجلی اور پانی فراہم کرے۔

ٹیکسٹائل مشینری کی درآمد پر ترغیب اور برآمدات دوست پالیسیاں متعارف کرائے تو صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری کپاس کے فاضل اسٹاکس کو استعمال میں لاتے ہوئے ایک سال میں اپنی برآمدات کے حجم کو دوگنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ایک سوال کے جواب میں مہتاب چاؤلہ نے بتایا کہ پاکستان میں غیریقینی حالات کی وجہ سے صنعتکاری رک گئی ہے جبکہ صنعتوں میںجدید کے تقاضوں کے مطابق نئی مشینری کی تنصیب کا بھی فقدان ہے مقامی صنعتوں میں اگرجدید مشینری کی تنصیب کا آغاز ہوجائے تو صنعتی پیداواری کی استعداد فوری طور پر 11 گنا بڑھ سکتا ہے، فی الوقت ٹیکسٹائل مشینری کی درآمدات پر40 فیصد ڈیوٹی وٹیکسز عائد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرکاری سطح کی صنعتی پالیسیاں باالواسطہ طور پر بھارتی صنعتکاروں کو فائدہ پہنچارہی ہیں بھارتی حکومت پاکستان سمیت دیگر حریف ممالک کے ساتھ مسابقت کیلیے اپنے صنعتی شعبے کو سہولیات کے ساتھ ترغیبات بھی فراہم کررہی ہے لیکن پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی امریکی ڈالر کے اعتبار سے کم قیمت ہیں لیکن پالیسیوں میں عدم تسلسل اور انفرااسٹرکچرل مسائل کی وجہ سے مطلوبہ فوائد حاصل کرنے سے قاصر ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کپاس کی پیداوار کے حوالے سے خودکفیل ہے، لیبرسستی ہے۔

آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہیں ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پالیسی ساز اگر برآمدات  دوست پالیسیاں متعارف کرائیں تو ملکی برآمدات کئی گنا بڑھنے، روزگار کے نئے وسیع مواقع پیدا ہونے اور معاشی خوشحالی آنے کی قوی امید ہے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں وزارت ٹیکسٹائل انڈسٹری تو قائم کردی گئی لیکن اس وزارت کو مکمل اختیارات دینے سے محروم رکھا گیا یہی وجہ ہے کہ چارسال قبل اعلان شدہ ٹیکسٹائل پالیسی پر تاحال عمل درآمد نہ ہوسکا یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش میں ایک پاؤنڈروئی کی پیداوار نہیں ہے لیکن آج بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات20 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔