کیوں نہ ایک چیف جسٹس منتخب کرکے دیکھا جائے

میاں ذیشان عارف  اتوار 22 اپريل 2018
عدالتوں سے آپ کو بہت اختلاف ہو سکتے ہیں، مگر تھوڑی تنقید ان پر بھی کر لیں جنہیں عوام نے منتخب کیا ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

عدالتوں سے آپ کو بہت اختلاف ہو سکتے ہیں، مگر تھوڑی تنقید ان پر بھی کر لیں جنہیں عوام نے منتخب کیا ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

میرے ہاتھ میں اخبار ہے جس میں خبر ہے: ’’چیف جسٹس نے حجرہ شاہ مقیم شہر کو ایک مہینے میں صاف کرنے کا حکم دے دیا۔‘‘ لاہور سے تقریباً سو میل کے فاصلے پر موجود یہ شہر چونکہ میرا آبائی قصبہ ہے، اس لیے یہاں کی سیاست کے اتار چڑھاؤ سے واسطہ رہتا ہے۔ سوچ رہا ہوں کہ حجرہ شاہ مقیم کے لوگوں نے چیف جسٹس کو ووٹ کب دیئے؟ بھلا اس طرح کے حکم تو شہر کی میونسپل کمیٹی کے چیئرمین، اس علاقے کے ’’عوامی نمائندے‘‘ اور یہاں سے منتخب ہونے والے صاحب کو دینے چاہئیں۔

پچھلے کچھ ماہ سے ملک میں جوڈیشل ایکٹیوزم کی اصطلاح دوبارہ گردش کر رہی ہے۔ حکومت کے حامی، عدالتوں کے فیصلوں کے مخالف، اور اپنی سمجھ کے مطابق ’’جمہوریت‘‘ کا علم رکھنے والے جمہوری چیمپئن جی بھر کر عدلیہ اور خصوصاً چیف جسٹس پر تنقید کر رہے ہیں۔

سوال کچھ اس نوعیت کے پوچھے جا رہے ہیں کہ کیا پوری دنیا میں کسی ملک کی اعلیٰ عدالت اس طرح عوامی حکومت کے کاموں میں مداخلت کرتی ہے؟ کیا اس طرح بڑے سرکاری ملازمین کو عدالتوں کے کٹہروں میں جواب دہ بنایا جاتا ہے؟ کیا اس طرح حکومتی کاموں کو سوموٹو کے ذریعے مفلوج بنایا جاتا ہے؟ ان سب سوالوں کا جواب ’’نہیں‘‘ میں ہوسکتا ہے، مگر ان سب کے جوابات دینے سے پہلے کچھ سوال اور بھی جواب طلب ہیں۔

ملک میں اگر نظام حکومت کی بات کی جائے تو ایک وفاقی حکومت، چار صوبائی حکومتیں، بلدیاتی ادارے، چھوٹے قصبوں کی حد تک میونسپل کمیٹیاں اور یونین کونسلز کے چیئرمین بھی موجود ہیں۔ ان تمام حکومتوں کے زیرِ نگرانی سینکڑوں ادارے بھی عوام کے پیسے پر چل رہے ہیں مگر پھر بھی ایک چیف جسٹس سارے ملک کی خامیوں کو دور کرنے میں کیوں لگا ہوا ہے؟

انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات ہوا، پانی اور غذا ہیں۔ کسی بھی انسانی معاشرے میں صحت، تعلیم اور امن کو عوام کا بنیادی حق تصَور کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں صحت، تعلیم اور امن کی الگ الگ وزارتیں ہیں، ان وزارتوں کے ماتحت ادارے اور ان اداروں میں کام کرنے والے افراد بھی موجود ہیں جو کروڑوں کی تنخواہیں بھی وصول کررہے ہیں، مگر پھر بھی ان کا کام سپریم کورٹ کو کرنا پڑ رہا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ میں گزشتہ چند ماہ کے دوران سنے جانے والے کیسز میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، جنگلات کی کٹائی کی روک تھام، پولیس کی جانب سے فراہمئ امن میں ناکامی، لینڈ مافیا کی جانب سے سرکاری زمینوں پر قبضہ، ملک کے سب سے بڑے آبادی والے شہر میں کوڑے کے انبار، ملک بھر میں بچوں کو مہیا ہونے والا غیر معیاری دودھ، میڈیکل کالجوں کی جانب سے اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانے والے والدین کی کھال اتارنے کا کیس، قصور میں ننھی زینب سے زیادتی و قتل کا کیس، ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں کی ابتر صورتحال وغیرہ بطورِ خاص نمایاں ہیں۔

ان سب کیسز پر نظر دوڑائیے، ٹھنڈی آہ بھریئے اور خود سے سوال کیجیے کہ ان میں سے کوئی ایک معاملہ بھی ایسا ہے جو صوبائی یا وفاقی حکومت کے دائرہِ اختیار سے باہر ہے؟ کیا یہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے معاملات نہیں؟ کیا یہ بنیادی ضرورت کی چیزیں عوام کو فراہم کرنا حکمرانوں کا کام نہیں؟ کیا آئین پاکستان حکمرانوں کو پابند نہیں کرتا کہ وہ یہ سہولیات عوام کو مہیا کریں؟

عدالتوں سے آپ کے سو طرح کے بغض ہوسکتے ہیں، مگر خدارا تھوڑی تنقید ان پر بھی کرلیجیے جنہیں عوام نے ووٹ کی طاقت سے منتخب کیا ہے۔ مانا کہ یہ سارے کام چیف جسٹس صاحب کے نہیں، مانا کہ کہیں پر عدالتیں اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتی ہیں؛ مگر جب مسائل کا ڈھنڈورا پیٹ کر انتخاب جیتنے والا حکمران اور اختیار رکھنے والا اپنے اختیار کو عوامی فلاح کےلیے استعمال نہیں کرے گا تو وہ کیسے یہ گِلہ کر سکتا ہے کہ میرا کام کسی اور نے کردیا۔ اگر عوامی نوعیت کے یہ سارے کام چیف جسٹس صاحب ہی کو کروانے ہیں تو پھر قومی و صوبائی اسمبلیوں کے سیکڑوں ممبران، درجنوں وزراء، سیکڑوں مشیران اور عہدیداران کے بجائے ایک چیف جسٹس منتخب کرلیتے ہیں۔ الله الله خیر سلا!

یہ حقیقت بھی تسلیم کیجیے یہ ہماری عدلیہ کی جیت نہیں بلکہ ہماری جمہوریت کی ایسی بدترین شکست ہے جسے آنے والا زمانہ یاد رکھے گا۔ اقتدار میں آنے اور اقتدار جانے کے درمیان حکمرانوں کی عوامی معاملات میں عدم دلچسپی ہی وہ وجہ ہے کہ اس ملک میں ہر جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے والے کا عوام نے استقبال کیا۔

لاہور سے سو میل کے فاصلے پر واقع چھوٹے سے قصبے حجرہ شاہ مقیم کے باسی گٹر کے پانی میں سے جنازہ گزارنے پر اس لیے مجبور نہیں کہ حکومتی ایوانوں میں ان کے علاقے کی آواز سننے والا کوئی نہیں، بلکہ اس لیے کیونکہ اس جمہوریت پر اعتبار کرتے ہوئے انہوں نے بھی اپنے منتخب نمائندوں کو ایوانوں میں بھیجا۔ تین دہائیوں سے اس قصبے سے کوئی نہ کوئی وزیر ضرور رہا ہے۔ اس علاقے سے منتخب ہونے والے وزیر نے جماعتیں بدل لیں، وزارتیں بدل لیں مگر نہ بدلی تو اس علاقے کے باسیوں کی حالت نہ بدلی؛ جن کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کےلیے 500  کلومیٹر دور بیٹھے چیف جسٹس کو حکم جاری کرنا پڑا کہ اس شہر کو ایک مہینے میں صاف کیا جائے۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس ملک میں حکومت جمہوری تو ہے، عوامی بالکل بھی نہیں۔ کیوں کہ اگر عوامی ہوتی تو ملک کی عدالتوں کو قانون کی تشریح تک محدود کر کے عوام کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا۔

عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد بتانے والے حکمرانوں کو شاید اپنی حکومت میں زیرِ التوا عوامی مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں، وگرنہ ان کی پیروی کےلیے بھی کچھ کیا جاتا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected]۔com۔pk پر ای میل کردیجیے۔

میاں ذیشان عارف

میاں ذیشان عارف

بلاگر میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹیڈیز میں بیچلرز کررہے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات، سیاست اور کھیلوں سے لگاو رکھتے ہیں۔ فیس بک پر ان سے facebook.com/miangee596 اور ٹوئٹر پر @Miangee_596 سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔