چوہدری نثار کے بعد

جاوید قاضی  ہفتہ 21 اپريل 2018
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

ایک بند گلی ہے جہاں چوہدری نثار قید ہوگئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے لیے پنجاب میں راستے اور تنگ ہورہے ہیں۔ میاں صاحب کا مستقبل کیا ہے؟ اور خان صاحب ہر روز ایک نئی اور حیران کن خبر بنانے میں مصروف ہیں اور دور کہیں کونے سے بلاول بھٹو بھی بول رہے ہیں۔

الیکشن بالکل قریب ہیں، سیاسی جوڑ توڑ کے ساتھ ساتھ نئے اتحاد، نئے نام، نئے عنوان اور قصہ و بیانیہ بن رہے ہیں۔ یوں کہیے کہ سیاست کا بازار گرم ہے اور بھی گرم ہوگا تاوقتیکہ انتخابات کا مرحلہ مکمل ہو۔ بات شروع کرتے ہیں چوہدری نثار سے کیا میاں نواز شریف بدل چکے ہیںیا پھر چوہدری نثار؟ میرے خیال میں تو چوہدری نثار وہی ہیں جہاں تھے اور میاں صاحب جہاں کھڑے تھے وہاں سے بہت دور نکل چکے ہیں۔

چوہدری نثار، میاں نواز شریف کے مشیر تھے، ایک ایسے مشیر جن کو مفاہمت کی فاختہ کہا جائے تو صحیح ہوگا اور باقی جو میاں صاحب کے مشیر ہیں وہ مفاہمت سے زیادہ ٹکراؤ کے حامی ہیں۔ اب بات یہ ہے کہ چوہدری نثار اور شہباز شریف میں بہت سی ملاقاتیں ہورہی ہیں، کچھ ایسی ملاقاتیں بھی جو منظر عام پر نہیںتھیں لیکن اب ظاہر ہو چکی ہیں۔ یہ تاثر پرویز رشید کے حالیہ بیانوں سے بھی ملتا ہے کہ چوہدری نثار اب میاں صاحب کے لیے ماضی کا حصہ ہیں، یعنی مفاہمت کے تمام راستے بند۔ تو کیا چوہدری نثار اب سیاست کو الوداع کہیں گے۔

ایک ایسی بات اشارتاً چوہدری نثار نے وزارت سے استعفیٰ دینے کے بعد کہی تھی۔ اب بات یہ ہے کہ آخر چوہدری نثار اور شہباز شریف کی اتنی ملاقاتیں کس زاویے میں ہو رہی ہیں؟ شہباز شریف پارٹی کے صدر تو بن گئے مگر ان کی شخصیت بڑے بھائی کی متبادل ٹھہر نہیں سکی، ایسا گمان ہوتا ہے کہ وہ پارٹی کے dejure صدر ہیں اور defacto  صدر اب بھی میاں نواز شریف ہی ہیں۔

اسی اثنا میں اگر نیب کا پاناما کیس کا فیصلہ آجاتا ہے اور میاں نواز شریف اور مریم جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے جاتے ہیں تو کیا یہ خبر شہباز شریف کے لیے اس لیے ایک نوید ہوگی کہ ان کا پارٹی کے اندر اثر و رسوخ قدراً بڑھ جائے گا؟ شہباز شریف اگر زیادہ assert  کریں گے تو ان کا نظریہ آگے آئے گا، اور نظریہ مفاہمت اداروں کے درمیاں ٹکراؤ کو کم کرے گا۔

ایک ایسا نظریہ جس کو میاں نواز شریف اہمیت نہیں دیتے۔ پھر یوں کہیے کہ شہباز شریف نام کے صدر تو ہوں گے لیکن کام کے لوگ وہی ہوں گے جو میاں صاحب کے قریب ہوں گے۔ میاں صاحب کے پاس ایک اور آپشن ہے، وہ ہے جلاوطنی۔ مگر جلاوطنی اختیار کرنے سے بھی پارٹی کی کمانڈ ان کے ہاتھ سے پھسلے گی۔ جو بات اب تک مفروضہ تھی کہ دونوں بھائی بہت سے حقائق پر مختلف سوچ رکھتے ہیں اب حقیقت کا گمان دے رہی ہے۔ شہباز شریف ایک الگ مسلم لیگ کا نام ہیں اور نواز شریف کی کوئی اور مسلم لیگ ہے۔

چوہدری نثار کا بند گلی میں پھنسنا اسی نکتے کا محور ہے یا پھر ایک حقیقت جس سے ہمیں اندرونی حالات کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے تمام فریقین اس بات پر دو رائے نہیں رکھتے کہ الیکشن کے مرحلے گزرنے تک پارٹی کے اندر کے اختلافات ظاہر نہ ہوں۔ شہبازشریف اور چوہدری نثار کے بیچ جو ملاقاتیں تیزی سے ہورہی ہیں اس سے بھی کچھ آگاہی ہورہی ہے کہ اگر میاں صاحب کے بیانات میں اور تیزی آئی تو شاید شہباز شریف صاحب اپنے بھائی کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

دوسری طرف خان صاحب ہونے والے الیکشنز کی بھرپور تیاری میںمصروف ہیں۔ بڑے بڑے جلسے کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں اور ان کا پلڑہ اور بھی بھاری ہو جائے گا، اگر میاں صاحب جیل چلے جاتے ہیں، کیونکہ شہباز شریف یا پھر کوئی اور ان کے وسیع جلسوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

ندیم افضل چن کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد، پیپلز پارٹی کا مستقبل سینٹرل پنجاب کے بعد اب ساؤتھ پنجاب میں بھی تاریک ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اب پنجاب میں صرف دو بڑی جماعتوں کا ٹاکرا ہے۔ سیاست دن بہ دن punjab centric ہوتی جا رہی ہے، بالخصوص سینٹرل پنجاب جہاں پاکستان کی مضبوط مڈل کلاس آباد ہے، جو پچھلے پندرہ سال میں اور بھی زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ یہ مڈل کلاس اپنے ووٹ کا استعمال اپنے بیانیہ کی بنیاد پر کرے گی۔

آج کل خان صاحب روز ایک نئی چونکا دینے والی خبر بنا رہے ہیں جو کہ ان کے بیانیہ کو اور تازگی فراہم کرے گی۔ انھوں نے اپنے 20 ایم پی ایز کو شوکاز نوٹس دے دیا ہے کہ انھوں نے سینیٹ کے انتخابات میں اپنے ووٹ کا سودا کیا ہے۔ ویسے تو یہ خان صاحب کی ایک بہت ہی غیر روایتی سی حرکت تھی۔ اس بات کو میرے اندازے کے مطابق بڑے ناپ تول کے ساتھ پیش کیا ہوگا تاکہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ان MPAs میں ایسے بھی تھے جو براہ راست جیت کر آئے تھے اور باقی MPAs پارٹی کے لیے آیندہ کے الیکشنز میں شاید زیادہ egic  نہ رہے ہوں، لیکن یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ سب پارٹیوں کے مقابل پی ٹی آئی کے MPAs نے ہی سینیٹ کے الیکشن میں اپنے ووٹ دوسری پارٹیوں کے امیدواروں کو دیے۔

سیاست کی بھی اپنی معاشیات ہوتی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی، JUI، PML-N اور ANP کے پی کے میں اپنا سیاسی اتحاد قائم کرلیں تو خان صاحب کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ندیم افضل چن کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد، پنجاب میں پیپلز پارٹی کے دوسرے ممبرز میں بھی کھلبلی مچ گئی ہے۔ کیونکہ پنجاب میں PML-N کے مقابلے میں domainan supply کے حوالے سے ان کو پیپلز پارٹی کے بجائے پی ٹی آئی کا آپشن زیادہ بہتر نظر آتا ہے، اگر انھوں نے پنجاب میں سیاست کرنی ہے۔

یہی معاشیات ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی پنجاب کی سیاست کے اندر، یعنی اب پنجاب میں پیپلز پارٹی کے اندر جس طرح لبرل اور سیکولر سیاست کی جاتی تھی وہ ہو نہیں سکتی اور پی ٹی آئی لبرل اور سیکولر جماعت نہیں بلکہ وہ PML-N  سے بھی زیادہ دائیں بازو کی سیاست کی طرف جھکاؤ رکھتی ہے۔ اب پنجاب کے اندر دو بڑی جماعتیں مقابلے میں ہیں اور دونوں ہی دائیں بازو کی سیاست پر یقین رکھتی ہیں۔ تاریخی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو صوبہ پنجاب اب پہلے سے زیادہ conservative ہوا ہے اور ساتھ ہی anti-establishment  سیاست میں بھی آج کل پیش پیش ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔