ﷲ ڈینو

عبد الطیف ابو شامل  اتوار 22 اپريل 2018
جوگی کا روپ دھارے ایک ’’فن کار‘‘، جو لوگوں  کی جیب سے پیسے نکالنے کا فن جانتا ہے ۔ فوٹو: فائل

جوگی کا روپ دھارے ایک ’’فن کار‘‘، جو لوگوں کی جیب سے پیسے نکالنے کا فن جانتا ہے ۔ فوٹو: فائل

’’ہم ہر فن مولا ہے‘‘ اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے یہی کہا تھا۔ دنیا کے ہر مسئلے کا حل، ہر دکھ کا مداوا، ہر تکلیف کا علاج، ہر مرض کی دوا، ہر الجھن کی سلجھن، اس کی بوسیدہ پٹاری میں موجود ہے۔

وہ قسمت کے حال سے ستاروں کی چال تک سب کچھ جانتا ہے، سب کچھ، یہ بھی کہ کس سے کس طرح بات کرنی ہے، کیسے شیشے میں اتارنا اور اپنے جال میں جکڑنا ہے۔ وہ دنیا کا سب سے مشکل فن، لوگوں کی جیب سے پیسے کیسے نکالنے ہیں؟

جانتا ہی نہیں، بلکہ لوگ خوشی خوشی اس کی مٹھی گرم کردیتے ہیں اور پھر وہ کمالِ مہارت سے چند پڑیاں، چند باتیں، کچھ ٹوٹکے ان کے حوالے کرکے کہیں اور نکل جاتا ہے۔ بچوں سے لے کر بوڑھوں تک اور لڑکیوں سے لے کر بوڑھیوں تک وہ سب کی نفسیات جانتا ہے۔ بچوں کو امتحان میں پاس ہونے کا نسخہ بتانے سے انہیں سانپ، نیولے کی لڑائی دکھانے کا ناٹک وہ خوب جانتا ہے۔ خواتین کو وہ شتر بے مہار شوہروں کو راہ راست پر لانے کا تعویذ دیتا ہے، بے روزگاروں کو سہانے مستقبل کے خواب دکھاتا ہے۔

وہ کیا باکمال آدمی ہے۔ اس نے یہ فن کسی کتاب، مکتب اور یونی ورسٹی سے نہیں سیکھا۔ اس کے لیے دنیا کا ہر فرد ایک کتاب ہے جسے وہ پڑھتا اور اپنے مطلب کے معانی اخذ کرلیتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے: ’’میرا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوا۔‘‘ یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ کسی سے بات کرے اور اس کا معاوضہ طلب نہ کرے۔ جی ہاں، اس نے مجھ سے بھی اپنی بات چیت کا معاوضہ طے کیا تھا اور پھر وہ اپنی داستان سنانے پر آمادہ ہوا، اور جب میں نے اسے بتایا کہ میں یہ سب کچھ چھاپ دوں گا تو اس کا کہنا تھا،’’سائیں! بھلے چھاپو ہمارے کو کیا پروا ہے؟ ہم جس سے بات کرتا ہے وہ کون سا اخبار پڑھتا ہے؟ اچھا ہے ہم وہ اخبار لے کر گاؤں جائے گا اور ان لوگوں کو بتائے گا کہ ہم کتنا بڑا آدمی ہے کہ اخبار والا بھی ہم سے پوچھتا ہے۔‘‘

اس نے یہ سب کچھ کہاں سے سیکھا اور پھر کون سی منزلیں طے کرتا ہوا مجھ سے آٹکرایا؟ آئیے اس سے ملتے ہیں۔

’’سائیں ہمارا نام ہے، مولا تمہارے کو نیکی دیوے، ’’اﷲ ڈینو۔‘‘ ہم کب اور کدھر پیدا ہوا یہ ہمارے کو خبر نہیں۔ بس اندازہ ہے ہمارا عمر ابھی ہوئے گا 70 سال سے اوپر۔ ابھی تم پوچھتا ہے گاؤں، تو سارا بات ہم تم کو نہیں بتائے گا۔ ہمارا بھی روزی رزق کا سوال ہے۔ ڈرتا ہم کسی سے نہیں۔ ہم سب کچھ بتائے گا۔ تم ہمارا بات سنو، ہمارے کو چھوڑو۔ ہم گاؤں کا ہے۔ ادھر ہم پیدا ہوا تو چار بھائی تھا، دو بہن تھا اور ہم سب سے چھوٹا تھا۔ باپ ہمارا چھوٹا موٹا زمین کرتا تھا ایک وڈیرے کے پاس۔ اور بھائی لوگ بھی اسی کا ساتھ ہاری تھا۔ ابھی ہاری بولتا ہے تم لوگ کا زبان میں کسان کو۔ لیکن ہاری کا اپنا زمین نہیں ہوتا ہے وہ کسی وڈیرے کا زمین پر فصل اُگاتا ہے تو ہمارے خاندان میں سب لوگ ہاری ہے۔

اُن کا بھی زندگی خراب ہے، خراب تو ادھر سب کا زندگی ہے لیکن ان کا بہت خراب ہے۔ ہم تھوڑا بڑا ہوگیا تو باپ نے بولا اﷲ ڈینو ابھی کام وام کرو۔ سائیں ادھر پڑھائی نہیں ہوتا تھا ہم کیسے پڑھتا! پورا خاندان میں سب ہاری لوگ اور ہم پڑھائی کرتا؟ کوئی نواب ہے، گورنر ہے کیا ؟ پھر ہم باپ کا ساتھ زمین کرنا شروع کیا۔ اچھا وقت تھا سائیں، ہم سب سے چھوٹا تھا اس واسطے لاڈ پیار بہت تھا۔ کام کیا تو ٹھیک ، نہیں بھی کیا تو ٹیم ہے پاس ہوتا تھا۔ پھر بھائی لوگ کا شادی کیا ہمارا باپ نے بہن لوگ کا کیا، بہن لوگ تو دوسرا گاؤں چلا گیا اور بھائی لوگ ہم سب ساتھ رہتا تھا۔ ہم جوان تھا کہ ہمارا ماں مرگیا۔ بہت بیمار تھا اس کو جڑی بوٹی، دوا دارو بہت دیا۔ ادھر حکیم تھا، اس کا علاج کرایا پر وہ مولا کا رضا، بس مرگیا۔ ہمارے کو اپنا ماں سے بہت پیار تھا، اس کو بھی تھا۔ پھر ہمارا باپ بہت لاچار ہوگیا، بڈھا ہوگیا کام تو پھر بھی کرتا تھا۔

ماں کے مرنے کے دو سال بعد وہ کھیت میں ہل چلاتا تھا۔ خبر نہیں کیا ہوا وہ گرگیا اس کو ہم لوگ اٹھا کر گھر لایا، پورا دن تڑپتا تھا۔ بہت کوشش کیا، دم درود کیا مگر بابا موت کا ایک دن ہے، وہ بھی اﷲ سائیں نے قبول کیا پھر ہم بھائی لوگ رہ گیا۔ تھوڑا دن گزر گیا تو بھائی لوگ نے بولا اﷲ ڈینو تم کام وام کرو، ابھی سستی چھوڑو، کچھ پیسہ کماؤ، تمہارا شادی مادی کرے۔ ہم تو لاڈ پیار والا آدمی تھا ہم سے کدھر اتنا محنت والا کام ہوتا تھا! پھر بھائی لوگ نے بولا بابا تمہارا شادی کرتا ہے۔ ہم نے بولا شادی نہیں کرے گا۔ اس لوگ نے بولا کیوں؟ ہم نے بولا بس نہیں کر ے گا۔ جب انھوں نے بہت تنگ کردیا تو ہم نے گھر ہی چھوڑ دیا۔ انھوں نے بہت سمجھایا، بہت دفعہ گھر بھی لے کر گیا مگر ہمارا دل ہی نہیں لگتا تھا ابھی تم بھی پوچھتا ہے کہ ہم نے شادی کیوں نہیں کیا؟ ابھی تم کو بتادے گا اب تو بڈھا ہوگیا ہے ہم خبر نی وہ کدھر ہے اور ہم کدھر آگیا۔

ایسا ہوا تھا کہ گاؤں میں ہمارا ایک رشتہ دار کا بیٹی سے ہم نے وعدہ کیا کہ تم سے شادی کرے گا۔ اس نے بھی ہم سے پکا وعدہ کیا تھا ابھی ہم ایسے تو نہیں تھا، اس وقت ہم زبردست جوان تھا۔ ابھی کچھ نہیں رہا۔ تو سائیں جب وعدہ کیا تو خوش تھا۔ ایک دن ہمارے علائقے کا دوسرا جوان کا رشتہ اس کے گھر گیا۔ وہ بھی اچھا جوان تھا، کام کرتا تھا اس کا ماں باپ، بہن بھائی نے وہ اس کو دے دیا۔ اس نے بہت شور کیا۔ وہ بہت دلیر تھا۔ اس نے بولا اﷲ ڈینو سے شادی کرے گا۔ مگر سائیں ادھر عورت ذات کا کون سنتا ہے۔ اس کا بھی نہیں سنا اور پھر اس کا شادی ہوگیا۔ ہم ابھی تک وعدہ پر پکا ہے۔ ہم نے بولا اﷲ ڈینو مرد کا کام ہے وعدہ کرو تو جان دے دو، وعدہ نہ توڑو۔ تو سائیں اس لیے شادی نہیں کیا۔ تم بھی خبر نئی کیسا آدمی ہے؟ کیا کیا پوچھتا پڑا ہے؟ ابھی بھی اس کا یاد آتا ہے اس کو ہم نہیں بھول سکتا بابا، کبھی نہیں بھول سکتا۔ ابھی دعا کرتا ہے کہ وہ جدھر بھی ہووے خوش ہووے۔ اپنا کیا ہے؟ ابھی کچھ نہیں ہے۔ ہم جب گاؤں سے نکلا تو ایک جوگی سے دوستی ہوگیا، ہم اس کا ساتھ گھومنا شروع کیا۔

وہ تماشا دکھاتا تھا ہم ساتھ ہوتا تھا۔ پھر اس نے بولا یار اﷲ ڈینو! تم کب تک ہمارا ساتھ رہے گا، تم بھی یہ کام سیکھو، ہم نے بولا ٹھیک ہے سکھاؤ اس نے ہم کو سب کچھ سکھایا۔ کیسے سکھایا یہ ہم کیسے بتاوے؟ وہ جنگل میں رہتا تھا اس کا ہم چیلا بن گیا۔ پھر دوست جوگی نے ہمارے کو سب کچھ سکھایا سانپ پکڑنا، جڑی بوٹی، فال نامہ۔ ابھی سائیں ہمارے پاس ہر مرض کا دوا ہے۔ ہم ہر فن مولا ہے۔ تم یہ نہیں سمجھو کہ ہم کوئی معمولی آدمی ہے۔ ہم قسمت کا حال جانتا ہے، ستارے کا چال جانتا ہے۔ تیرے من میں جو ہے وہ جانتا ہے۔ فقیر کو خوش کرے گا تو دنیا تیرا ہے، طاقت کا دوائی ہے، ہر دکھ سکھ ہے، ہر تکلیف کا علاج ہے، سائیں ہم دیکھنے میں معمولی آدمی لگتا ہے پر معمولی ہے نہیں۔ ہم سارا زندگی یہی کیا ہے۔ خدمت، انسان کا خدمت۔ ابھی تم بولتا ہے کہ جب ہم اتنا کچھ جانتا ہے، ہر فن مولا ہے تو بھیک کیوں مانگتا ہے۔ اڑے بابا تم اس کا بھید نہیں جانتا ہے۔

فقیر کا بھید فقیر ہی جانتا ہے۔ ہمارا استاد سائیں نے ہمارے کو بولا اﷲ ڈینو تم انسان کا خدمت کرو، سارا انسان تم سے فائدہ اٹھائے گا۔ لیکن تم کسی سے فائدہ نہیں اٹھانا۔ ابھی جو ہم مانگ کر پیٹ بھرتا ہے وہ ہمارا ریاضت ہے۔ ابھی تم پوچھے گا ریاضت کیا ہے؟ تو بابا ریاضت بولتا ہے اپنے من کو مارنا۔ جو دل کرے، نہیں کرنا ہے۔ ہمارے پاس سب کچھ ہے، ہم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔ یہ استاد سائیں کا حکم ہے، ابھی تم پوچھتا ہے آدمی کیسے مل جاتا ہے، دیکھو بابا! ہم جیسا آدمی، ویسا بات کرتا ہے۔ بچہ لوگ ہو تو سانپ نیولے کا لڑائی دکھاتا ہے۔ جوان ہو تو اس کا محبوب کا حال بتاتا ہے، گلی محلے میں گھوم پھر کر عورت لوگ کو فال نامہ بتاتا ہے، اس کو جو تکلیف ہو اس کا جڑی بوٹی بتاتا ہے۔ اکثر عورت لوگ اپنے گھر والے کا پوچھتا ہے تو ہم بتاتا ہے۔ ابھی کیا بتاتا ہے یہ تو عورت پر ہے کہ وہ کیا پوچھتا ہے۔ ہمارا کام ہے جیسا دیس ویسا بھیس۔ جیسا آدمی ویسا بات۔

بے روزگار لوگ گھومتا پھرتا پڑتا ہے، بے کار گھومتا ہے ہم اس کو پہچان لیتا ہے اور پھر اس کو بتاتا ہے کہ فال نامے میں لکھا ہے اس کا قسمت بدل جائے گا۔ اگر خوش حال کو دیکھے تو بتاتا ہے کہ ستارے کا چال اس کے موافق نہیں ہے۔ اس کو صحیح کردیتا ہے ابھی تم بولتا ہے یہ دھوکا ہے۔ اڑے بابا تم یہ کیسے بات کرتا ہے یہ دھوکا کدھر سے آگیا ہم اس کو بتاتا ہے تو پیسہ ملتا ہے۔ ابھی جس آدمی کو بتاتا ہے کیا وہ روٹی نہیں کھاتا ہے، اس کا آنکھ نہیں ہے، وہ سب کچھ دیکھتا ہے، سنتا ہے، پھر پیسہ دیتا ہے۔ ایسے تو پیسہ نہیں دیتا ہے۔ بابا یہ بھی ایک فن کاری ہے۔ ادھر ہر آدمی فن کار ہے۔ سب ایک دوسرے کو دھوکا دیتا ہے۔ ہم تو نہیں دیتا۔ اگر ہم زبردستی کرے گا پھر دھوکا ہوگا۔ ہم تو اس سے بات کرتا ہے۔ وہ بھی خوش، ہم بھی خوش، ہم تو بابا خدمت کرتا ہے، ہم کیا کرے گا پیسہ جمع کرکے۔ اپنا کون ہے جس کو دے گا۔

بس اپنا دانہ پانی اس کام میں لکھا ہے، ہم کو ملتا ہے ہمارا گھر نہیں ہے، یہ اﷲ سائیں کا سارا زمین ہمارا گھر ہے۔ ہر روڈ، ہر فٹ پاتھ، ہر شہر، ہر گاؤں ہمارا گھر ہے۔ جدھر رات ہوگیا کھانا کھاکر سوگیا، ابھی کھانے کا پوچھتا ہے تو ہم ہوٹل میں کھانا کھاتا ہے، جو دل کرتا ہے ہم کھاتا ہے۔ بعض عورت لوگ بھی کھانا کھلا دیتا ہے۔ ہم فقیر ہے ناں سائیں، کھانا کھاکر دعا کرتا ہے۔ ابھی شہر اور گاؤں میں کوئی بھی فرق نہیں ہے۔ جو شہر میں ملتا ہے وہ گاؤں میں ملتا ہے ہم نشہ نہیں کرتا، ہم اس کو غلط آدمی سمجھتا ہے جو نشہ کرتا ہے اور نشہ بیچتا ہے۔ ہمارا جیسا لوگ ہی بیچتا ہے۔ ہم نہیں بیچتا۔ ہمارا پاس بیچنے کو اور بہت چیز ہے۔ ہم دوا بیچتا ہے، ہم منکا بیچتا ہے، جڑ ی بوٹی، گیدڑسنگھی، طاقت کا دوائی، آنکھ کا سرمہ بیچتا ہے۔

ابھی تم خبر نئی کیسا آدمی ہے۔ بولتا ہے گیدڑسنگھی سے کیا ہوتا ہے؟ ابھی تم کو خبر نہیں کہ گیدڑسنگھی قسمت بدل دیتا ہے۔ تم بولتا ہے اﷲ بدلتا ہے قسمت، تو سائیں ہم بھی بولتا ہے کہ اﷲ سائیں ہی قسمت بدلتا ہے۔ پر یہ گیدڑسنگھی وسیلہ ہے۔ تمہارا طرح تو سب لوگ نہیں ہے۔ ہم لوگوں کو بولتا ہے اﷲ تمہارا قسمت بدلے گا دعا کرو، تو وہ خود بولتا ہے کہ نہیں ہمارے کو گیدڑسنگھی دیو۔ اس سے ہمارا قسمت بدلے گا۔ پھر ہم اس کو دے دیتا ہے۔ ہر کسی کو نہیں دیتا۔ کتنے کا دیتا ہے؟ بس جیسا آدمی کا جیب، اتنا اس کا قیمت کسی کو دس روپے کا کسی کو سو روپے کا کسی کو اور بھی منہگا ہم بڑا علاقے میں نہیں جاتا۔ چھوٹے علاقے میں جاتا ہے۔ ادھر اگر بڑا علاقہ ہو تو سانپ نیولے کا کھیل دکھاتا ہے اور چھوٹے علاقے میں جڑی بوٹی بیچتا ہے۔ تم بولتا ہے سانپ نیولے کی لڑائی تو ظلم ہے ۔ واہ سائیں واہ تم کو یہ بہت برا لگتا ہے۔

تم کو یہ سانپ نیولے کا لڑائی ظلم لگتا ہے تو بابا ہم نے تو نیولے کو نہیں بولا ہے کہ سانپ کو مارو۔ ابھی تم سانپ دیکھے گا تو نہیں مارے گا کیا؟ تم پہلا آدمی ملا ہے جو بولتا ہے یہ ظلم ہے۔ تم کو اور ظلم دکھائی نہیں پڑتا ہے! ادھر لوگ ایک دوسرے کو گولی مارتا ہے، لوٹتا ہے، غلط کام کرتا ہے، وہ تم کو دکھائی نہیں پڑتا! ہمارے غریب کا کمائی دھندا تم کو دھوکا بھی لگتا ہے، ظلم بھی لگتا ہے۔ واہ سائیں واہ یہ تمہارا انصاف ہے۔ ابھی تم بولتا ہے جس کا علاج کرتا ہے وہ ٹھیک ہوجاتا ہے؟ تو ہم کو کیا خبر وہ ٹھیک ہوتا ہے یا نہیں۔ ٹھیک تو اﷲ سائیں کرتا ہے۔ آدمی تو حیلہ کرتا ہے، وسیلہ کرتا ہے باقی کام تو اﷲ سائیں کرتا ہے تم بولتا ہے اگر ہم خود بیمار ہوجاوے تو کیا کرتا ہے؟

تو سائیں اگر ہم خود بیمار ہوجاوے تو اپنا علاج کرتا ہے۔ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے، حکیم لوگ کو دکھاتا ہے۔ تم یہ کیسا بات کرتا ہے کہ ا پنا علاج خود کرو۔ اڑے بابا تم نے کبھی دیکھا ہے اگر ڈاکٹر کا آپریشن کرنا ہو تو کیا وہ ڈاکٹر اپنا آپریشن خود کرتا ہے؟ ہر ڈاکٹر، حکیم لوگ اپنا علاج دوسرے سے کراتا ہے۔ ابھی تم بولتا ہے یہ کام چھوڑ کر دوسرا کام کرو، تو تم آج میرے کو بتاؤ کون سا کام کرے؟ ادھر کدھر ہے کام جو کرے۔ تم بولتا ہے کہ یہ کام چھوڑو۔ اگر یہ کام چھوڑ دیوے تو بھوکا مرے گا۔ تم اچھا سجن بیلی ہے جو بولتا ہے دوسرا کام کرو۔ ادھر جوان آدمی کو کام نہیں ملتا پڑا ہے ہمارے جیسے بڈھے کو کون کام دے گا۔ تم ٹھیک بولتا ہے یہ کام غلط ہے۔ پر ہم کو یہ کام غلط نہیں لگتا ابھی یہی کام کرے گا، ابھی اور کتنا زندگی ہے کیا معلوم؟ چار دن کا زندگی ہے پھر اندھیری رات ہے۔ یہی کرے گا یہی اچھا ہے، اپنا ہاتھ کا مزدوری ہے کسی کا غلام نہیں ہے یہی کرے گا۔‘‘

اور جب میں نے اس سے دریافت کیا کہ ابھی آپ کہہ رہے تھے کہ نہ جانے میری کتنی زندگی ہے؟ تو آپ ستارے سے حساب کرکے معلوم کرلیں، تو وہ مسکرا دیا اور پھر کہنے لگا: ’’سائیں ہے تم بہت چالاک، ایسا پوچھتا ہے جیسے ہم سچّی کا علم جانتا ہے۔‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔