امریکی رپورٹ، ایک ویک اپ کال

ایڈیٹوریل  اتوار 22 اپريل 2018
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ چشم کشا ہے۔ فوٹو:فائل

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ چشم کشا ہے۔ فوٹو:فائل

ملک میں دہشت گردی کے مختلف مظاہر نے ملکی سیاست اور قوم کی سائیکی اور سماجی و معاشی مفادات پر جو ضرب کاری لگائی، اس کی داستان دراز بھی ہے اور دلگداز بھی۔

دہشت گردی کے نتیجہ میں ہزاروں شہری جاں بحق اور معیشت کو اربوں کا نقصان ہوا، تاہم بعد از خرابیٔ بسیار عسکری مقتدرہ، وفاقی حکومت اور سیاسی جماعتوں نے اس حقیقت کا ادراک کرلیا کہ دہشت گردی، انتہاپسندی میں ملوث القاعدہ اور طالبانائزیشن کا راستہ نہ روکا گیا تو ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جب موجودہ حکومت نے پختہ سیاسی ارادہ کیا، دہشت گردوں سے ہر قسم کے رومانس اور گڈ اور بیڈ طالبان سے بالاتر ہوکر بلاامتیاز کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔

چنانچہ آپریشن ضرب عضب اور اسی کے تسلسل میں آپریشن ردالفساد کے ذریعہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹی، پاک فوج نے جنوبی اور شمالی وزیرستان میں نام نہاد عقابوں کے نشیمن برباد کرڈالے اور ایسی غیر معمولی دہشت گردی مخالف کارروائیاں کیں کہ طالبان کے ماسٹر مائنڈز اور کمانڈرز فرار کی راہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے اور آج کل وہ برادر ہمسایہ ملک افغانستان میں روپوش ہیں اور وہیں سے وطن عزیز کے خلاف دہشت گردی کی اکا دکا کارروائیاں کرتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ ملکی اور عالمی سطح پر اس اعلان کے مجاز ٹھہرے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کا قلع قمع کردیا۔ مغربی ممالک نے بھی پاکستان کی استقامت کا اعتراف کیا۔

اس تناظر میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ چشم کشا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 2016 سے 2017 کے درمیان پاکستان میں دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں تقریباً 40 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی انسانی حقوق پر بنائی گئی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2017 کے اختتام تک پاکستان میں دہشت گردی سے ہونے والی اموات کی تعداد ایک ہزار 84 تھی جبکہ 2016 میں یہ تعداد ایک ہزار 803 تھی۔

ساؤتھ ایشیاء ٹیررازم پورٹل (ایس اے ٹی پی) کے جمع کردہ اعداد و شمار میں ان اموات کی شرح کو 39.878 فیصد کم بتایا گیا جبکہ اگر 2017 کے آخری کے دو ماہ کو بھی اس میں شامل کرلیا جاتا تو اس کی شرح میں مزید بہتری آسکتی تھی۔

امریکی رپورٹ کے مطابق غیر ریاستی عناصر کی جانب سے پرتشدد واقعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ملک میں انسانی حقوق کے مسائل کا سبب بنے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ فوج کی جانب سے عسکریت پسند اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی گئیں لیکن اس کے باجود ملکی اور غیر ملکی عسکریت پسند تنظیموں اور غیر ریاستی عناصر کا ملک کے مختلف حصوں میں تشدد، سماجی اور ثقافتی عدم برداشت، لاقانونیت کے فروغ میں اہم کردار رہا اور اس طرح کے زیادہ تر واقعات بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں ( فاٹا) میں دیکھے گئے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں پاکستان میں ہونے والی جبری گمشدگیوں کی نشاندہی کی گئی اور بتایا گیا کہ 2017 میں ملک کے تقریباً تمام علاقوں میں لوگوں کے اغوا اور جبری گمشدگیوں کے واقعات دیکھے گئے اور پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کچھ قیدیوں کو قید تنہائی میں رکھا گیا اور ان کی جگہ بتانے سے انکار کیا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) کے کارکنان اور اندرون سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں قوم پرستوں کی گمشدگیوں کے واقعات بھی رونما ہوئے۔کچھ علاقوں میں درجنوں سرگرم سیاسی کارکنان کو اغوا کیا گیا اور تشدد کے بعد انھیں قتل کردیا گیا۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے واضح کیا گیا کہ پاکستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے بنائے گئے کمیشن کو 4 ہزار 608 افراد کے کیسز موصول ہوئے، جس میں کمیشن نے دعویٰ کیا کہ 3 ہزار 76 کو نمٹا دیا گیا جبکہ 1532 زیر التوا ہیں۔

کمیشن کے اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ افراد خیبر پختونخوا میں لاپتہ ہوئے اور ان کی تعداد 751 تھی، اس کے بعد پنجاب سے 245، بلوچستان سے 98، سندھ سے 50، فاٹا سے 48، اسلام آباد سے 45، آزاد کشمیر سے 14 اور گلگت بلتستان سے 5 افراد لاپتہ ہوئے۔

رپورٹ میں انسانی حقوق کے مسائل میں جن چیزوں کی سب سے زیادہ نشاندہی کی گئی ان میں ماورائے عدالت قتل، ٹارگٹ کلنگ، گمشدگیاں، تشدد، لاقانونیت اور محدود احتساب کو شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں طویل مدتی ٹرائل، ماتحت عدالتوں کی خودمختاری میں کمی، حکومت کی جانب سے شہریوں کے ذاتی حقوق میں مداخلت، صحافیوں کو ہراساں کرنے اور میڈیا تنظیموں اور صحافیوں کے خلاف حملے اور دیگر معاملات کو بھی رپورٹ میں اضافی مسائل کے طور پر بتایا گیا۔

بلاشبہ امریکی رپورٹ میں ملکی ارباب اختیار کے لیے غور وفکر کا بدرجہا سامان موجود ہے، جرنلسٹ ڈینئیل براؤن نے 15 نومبر 2017 کو ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ دہشت گردی عالمی سطح پر بڑھ گئی ہے مگر دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

رپورٹ میں انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس انویل گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے حوالہ سے بتایا گیا کہ 2014 عالمی سطح پر دہشت گردی سے ہلاکتوں کے سیاق و سباق میں ہولناک سال تھا جس میں 32 ہزار 500 افراد لقمہ اجل بنے، اسی رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا بھر میں دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کی تعداد 3658 تھی۔ نائن الیون کی ہلاکتیں الگ تھیں۔

یہ رپورٹ ایک ویک اپ کال ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان فرنٹ لائن ملک ہے، اللہ کا شکر ہے کہ 2018 امن واستحکام کی طرف گرم سفر ہونے اور نئے انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے میڈیا میں زیر بحث ہے۔

ضروت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کی لہر تھمنے سے بے جا اعتماد اور سست روی حکمرانوں کی روش نہ بنے، ابھی جنگ جاری ہے، ملک کو دہشت گردی کے عفریت کے بعد اب داخلی خلفشار پر قابو پانا ہے، سیاسی موسم گرم ہے، الزامات کی سیاست جوبن پر ہے، سینٹ کے الیکشن پر سوالیہ نشان لگا ہے، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی شٹل ڈپلومیسی مناسب نہیں، دشمن گھات میں بیٹھا ہے، ملکی معیشت کو چیلنجز کا سامنا ہے، عدالتی فعالیت اور مقدمات کے فیصلے ابھی ہونے ہیں، جو دوررس بتائے جاتے ہیں، قیاس آرائیاں جاری ہیں، بے یقینی کی دھند صاف نہیں ہوئی ہے۔

ادھر ن لیگ اور شریف خاندان کی سیاسی بقا، سیاستدانوں کی پارٹیاں چھوڑنے اور نئی صف بندیوں کے لیے جوڑ توڑ عروج پر ہے، اس لیے صائب جمہوری روش یہی ہے کہ ملک جمہوری عمل کے تسلسل میں بریک تھرو کرے، جمہوری اسپرٹ برقرار رکھی جائے، الیکشن فیئر اور فری ہونے چاہئیں لیکن اس کے لیے پرامن اور کشیدگی سے پاک انتخابی فضا بھی ناگزیر ہے، کوئی مہم جوئی نہیں ہونی چاہیے، بہت سارا کولیٹرل ڈیمج قوم دیکھ چکی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ داخلی امن و استحکام کے لیے حکومت اور اپوزیشں میں خیر سگالی، جمہوری رواداری، تحمل اور دور اندیشی کے مظاہر کیا ہوں گے۔ قوم اسی بات کی منتظر ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔