خواتین پر تیزاب پھینکنے کے بڑھتے ہوئے واقعات

ایڈیٹوریل  اتوار 22 اپريل 2018
ہمارے روایتی معاشرے میں ایسی گھناؤنی وارداتیں انتہائی قابل افسوس ہیں اور ان کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ فوٹو: فائل

ہمارے روایتی معاشرے میں ایسی گھناؤنی وارداتیں انتہائی قابل افسوس ہیں اور ان کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس حوالے سے میڈیا میں تواتر سے خبریں آ رہی ہیں ۔ زیادہ تر واقعات شادی سے انکار کے نتیجے میں پیش آتے ہیں یا رشتہ داروں میں حسد کے جذبات پیدا ہونے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

ہمارے روایتی معاشرے میں ایسی گھناؤنی وارداتیں انتہائی قابل افسوس ہیں اور ان کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ قبائلی، جاگیردارانہ اور زمیندارانہ دیہی معاشرے میں عورتوں کو بھی مردوں کی جاگیر سمجھا جاتا ہے۔ ایسے معاشروں میں جدید تعلیمی ومعاشی رجحانات کی کمی ہوتی ہے اور ایسے معاشروں میں مرد حضرات عورت کے جسم کے ساتھ اس کی سوچ پر بھی اپنا مکمل اختیار چاہتے ہیں۔

اس سماجی رویے کی وجہ سے وہ عورت کی جانب سے کسی معاملے پر انکار کی صورت میں انتقامی کارروائی پر اتر آتے ہیں اور تیزاب پھینک کر انکار کرنے والی خاتون کا چہرہ مسخ کر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کی مجرمانہ حرکت کرنے والوں میں اکثر اوقات متاثرہ خاتون کے رشتہ دار ملوث ہوتے ہیں۔

گزشہ دنوں ایک ہولناک واقعہ رونما ہوا، جب گجرات یونیورسٹی کی تین طالبات کو بیک وقت تیزاب پھینکنے کی واردات کا افسوس ناک نشانہ بنایا گیا جو تیزاب پھینکنے کی وجہ سے شدید زخمی ہو گئیں۔ اس واقعہ کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ملزموں میں دو لڑکیوں کا سگا ماموں بھی شامل تھا جبکہ دو لڑکیاں سگی بہنیں تھیں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق ان طالبات پر انتقام کے طو رپر تیزاب پھینکا گیا جس سے وہ بری طرح جھلس گئیں اور ان کا چہرہ اور جسم کا کچھ حصہ مسخ ہو گیا۔ انھیں طبی امداد کے لیے اسپتال داخل کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کا فرض ہے کہ وہ تیزاب کی برسرعام فروخت پر قدغن عائد کرتے ہوئے اس خطرناک محلول کا حصول اس قدر مشکل بنا دے کہ اس کو مجرمانہ مقاصد کے لیے استعمال کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا جائے۔

علاوہ ازیں حکومت کو عورتوں کو مساوی حقوق دینے کی کوششوں کو بھی تیز کرنا چاہیے تا کہ معاشرے کے ذہن میں یہ احساس تقویت پکڑ لے کہ خواتین کی تکریم مردوں سے کم نہیں اور نہ ہی کسی بدخصلت کو ایسا سمجھنا چاہیے۔ تیزاب کے پھینکنے سے صرف خاتون کا چہرہ اور جسم ہی ناکارہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے نفسیاتی اور ذہنی طور پر بھی اس خاتون پر نہایت مضراثرات ہوتے ہیں جس وجہ سے وہ معاشرے سے تقریباً منقطع ہو کر رہ جاتی ہے۔

مزیدبرآں اس جرم کی سزا اتنی ہی سخت کر دی جانی چاہیے جتنی کہ قتل عمد کی سزا ہوتی ہے بلکہ کئی اعتبار سے یہ قتل عمد سے بھی کہیں زیادہ مہلک جرم ہے جس کی بھی کم سے کم سزا چودہ سال قید بامشقت ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ قبائلی، جاگیردارانہ اور زمیندارانہ سماجی واقتصادی نظام میں تبدیلیاں لانے کے عمل کو تیز کیا جائے۔ جدید تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جائیں، ایسی صورت میں ہی معاشرہ مہذب اقدار کا حامل ہو سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔