وزیراعظم کا دورہ کراچی؛ صنعت کاروں نے پانی و بجلی بحران پر دھرنے کی دھمکی دے دی

بزنس رپورٹر  اتوار 22 اپريل 2018
فباٹی نے بھی 27 اپریل کو علامتی ہڑتال کرنے کااعلان کردیا،بحران حل نہ ہونے پر صنعتوں کی مستقل تالا بندی کا انتباہ۔ فوٹو:فائل

فباٹی نے بھی 27 اپریل کو علامتی ہڑتال کرنے کااعلان کردیا،بحران حل نہ ہونے پر صنعتوں کی مستقل تالا بندی کا انتباہ۔ فوٹو:فائل

کراچی: کراچی میں گرمی کا پارا چڑھتے ہی لوڈ شیڈنگ اور پانی کے بحران نے صنعت کاروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کراچی کے صنعت کاروں نے پیر 23 اپریل کو وزیر اعظم کی کراچی آمد پر کراچی پریس کلب کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کردیا ہے جبکہ ایف بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری نے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی کی عدم دستیابی کے خلاف 27اپریل کو علامتی ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے جنرل باڈی اجلاس میں صنعت کاروں نے اس ضمن اہم فیصلے کیے، صنعت کاروں نے پیر کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی کراچی آمد کے موقع پر نہ صرف احتجاج بلکہ دھرنے کی بھی دھمکی دے ڈالی۔

سائٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید بلوانی کا کہنا تھا کہ شہر کے صنعتی علاقوں میں 23 دنوں سے 8 تا10 گھنٹوں کی بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے، صنعتی علاقوں میں ایک ماہ سے پانی کی فراہمی معطل ہے۔

بزنس مین گروپ کے وائس چیئرمین زبیر موتی والا، کراچی چیمبر کے سابق صدر یونس ایم بشیر اورصنعت کاروں کی بڑی تعداد کے ہمراہ حکومت،کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ کوشدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کراچی کے صنعتی علاقوں میں گزشتہ ایک ماہ سے پانی کے بحران کی وجہ سے فی ٹینکر قیمت دگنی ہو گئی ہے۔ صنعت کاروں نے وفاقی اور سندھ حکومت سے استفسار کیا کہ وہ بتائیں کہ کراچی کی انڈسٹری چلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں یا نہیں۔

دریں اثناء فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری نے بھی ہفتہ کومنعقدہ اپنے اجلاس عام میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی کی عدم دستیابی کے خلاف27 اپریل کو علامتی ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایسوسی ایشن کے صدر بابرخان نے کہا کہ علامتی ہڑتال کے بعد بھی اگر حکومت نے صنعتی علاقوں کے لیے پانی اور بجلی کی ترسیل کانظام درست نہ کیا توصنعتوں کی مستقل تالا بندی سے گریز نہیں کیاجائے گا جس کے نتیجے نہ رکنے والی بے روزگاری کی ذمے دار حکومت ہوگی۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔