قدم قدم پر لوٹ مار، عوامی نمائندے کہاں؟

نوید اقبال انصاری  پير 23 اپريل 2018
apro_ku@yahoo.com

[email protected]

عوامی مسائل بے شمار ہیں، ان مسائل پر وقتاً فوقتاً متعدد بار کالم بھی تحریر کیے ہیں مگر مسائل ہیں کہ دن بہ دن ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ چھوٹے سے چھوٹے مسائل بھی عوام کے لیے اذیت کا باعث بن رہے ہیں، یہاں چند ایسے ہی مسائل کی طرف ایک بار پھر توجہ دلانے کی کوشش کی جارہی ہے، عام انتخاب قریب ہیں، شاید کوئی رہنما اس طرف توجہ دے کر عوام کے دل جیتنے کی کو شش کرے۔

ایک اہم چھوٹا مسئلہ طلبا اور بے روزگار افراد کا ہے۔ طلبا کو کہیں داخلہ لینا ہو تو اس کے لیے کاغذات کی درجنوں فوٹوں کاپیاں، تصاویر جمع کرانا ہوتی ہیں اور ساتھ ہی ان تمام کو کسی سترہ یا اس سے اوپر کے گریڈ کے سرکاری افسر سے اس کی تصدیق کرانا ہوتی ہے۔ اسی طرح انھیں پی آر سی اور ڈومیسائل بنوانے کے لیے بھی کچھ ایسا ہی کرنا پڑتا ہے۔ یہ بڑی تکلیف دہ صورتحال ہے کہ ایک جانب انھیں سیکڑوں روپے فوٹو کاپیوں میں برباد کرنا پڑتے ہیں اور پھر ان کاپیوں اور کاغذات کو تصدیق کرانے کے لیے کسی سرکاری افسر کو ڈھونڈنا پڑتا ہے اور مل جائے تو پھر منت سماجت کرنا پڑتی ہے کہ خدارا ان کاغذات کو تصدیق کردیں۔

کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ جہاں یہ کاغذات جمع کرانے ہوں وہاں ہی اصل کاغذات دیکھ کر واپس کردیے جائیں؟ اسی طرح کیریکٹر سرٹیفکیٹ جیسے درجنوں کاغذات کی بھلا کیا ضرورت؟ صرف ایک عدد فارم بھر کر اور شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی لگا کر دفتری کارروائی نہیں کی جاسکتی؟ اب تو شناختی کارڈ کی تصدیق بھی منٹوں اور سیکنڈوں کی بات ہے، اس کے لیے کیوں طلبا کو پریشان کیا جاتا ہے؟ یہ عمل نجی اور سرکاری دونوں قسم کے اداروں میں ہورہا ہے، جس سے طلبا کو سخت کوفت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور غریب طلبا پر مالی بوجھ الگ بڑھتا ہے۔

بالکل ایسا ہی عمل ملازمت کے حصول کے لیے درکار ہوتا ہے۔ ایک بے روزگار شخص درخواست تیار کرنے کے لیے ہزار، ہزار روپے کی فوٹو کاپیاں کراتا ہے اور اکثر پے آرڈر بھی بنواتا ہے، جس پر وہ پے آرڈر بنوانے کی فیس بھی ادا کرتا ہے۔ کس قدر ظلم ہے کہ بے روزگار فرد پر ہم ملازمت دینے کے نام پر مزید اخراجات کا بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ کچھ نجی ادارے انٹرویو کے لیے امیدوار کو براہ راست بلا لیتے ہیں، اصل کاغذات دیکھ کر اور انٹرویو لینے کے بعد ملازمت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں، یہ ایک اچھا عمل ہے، دیگر نجی اداروں اور خاص کر سرکاری اداروں کو ضرور یہ طریقہ اپنانا چاہیے۔ عمو ماً سرکاری ادارے ملازمت کے لیے درخواست کے ساتھ فیس کی مد میں کچھ رقم کا پے آرڈر بھی لیتے ہیں، یہ سراسر ظلم ہے، ہمارے عوامی نمائندوں کو اس کے خلاف ایوان میں باقاعدہ آواز بلند کرکے، بل پیش کرکے یہ سلسلہ بند کرانا چاہیے، یہ عمل بے روزگاروں سے کمائی کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

عوام کی جیب سے بلاوجہ زور زبردستی پیسہ نکلوانے کا یہ کلچر عام ہوتا جارہا ہے، یہ عوام پر ظلم ہے۔ پہلے کار پارکنگ مخصوص جگہوں پر ہوتی تھی، جہاں گاڑیاں پارک کرنے کا باقاعدہ نظام بھی ہوتا تھا، مگر اب فٹ پاتھ، سڑکوںاور اسپتالوں کے سامنے سب ہی جگہ پارکنگ کی فیس لینے کے لیے کوئی نہ کوئی سرکاری وردی یعنی جیکٹ پہن کر یا ویسے ہی موجود نظر آتا ہے۔ اس عمل سے سڑک پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے اور فٹ پاتھ جو عوام کے پیدل چلنے کی جگہ ہوتی ہے وہ بھی بند ہوجاتی ہے۔ اسپتال میں مریضوں کو لانے لے جانے والے لوگوں اور آنے والے تیمارداروں سے بھی یہ ’’بھتہ‘‘ پارکنگ کے نام پر وصول کیا جاتا ہے۔

کسی کو شرم نہیں کہ اسپتال میں تو ویسے ہی بہت خرچہ ہوجاتا ہے اور آنے والا ذہنی پریشانی میں ہوتا ہے اس کا اسپتال آنا جانا لگا رہتا ہے مگر ان سے بھی یہ رقم ہر چکر پر وصول کی جاتی ہے۔ اصولاً تو یہ ادارے کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی پارکنگ بھی قائم کرے اور عوام کو سہولت دے، مگر عام طور پر ادارے خود فٹ پاتھ پر بھی اپنا جنریٹر نصب کردیتے ہیں اور پارکنگ لب سڑک ہوتی ہے۔ ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے شہری حکومت کے ادارے الٹا عوام سے پیسہ بٹور رہے ہیں؟ ہمارے نمائندے کہاں ہیں؟ کیا وہ بھی اپنا حصہ وصول کرکے خاموش ہیں؟ اگر نہیں تو پھر اس کے خلاف ایکشن کب لیں گے؟

ایک اور اہم مسئلہ ایمبولینس سروس کا ہے، کہنے کو تو یہ سرکاری سے زیادہ نجی اداروں اور فلاحی اداروں کی ہیں اور عوام ہی کے پیسوں سے چل رہی ہیں، مگر یہاں بھی ظلم ہو رہا ہے۔ راقم نے ایک مرتبہ خود دیکھا کہ ایک شخص نے اپنی والدہ کو کارڈیو اسپتال سے جناح اسپتال منتقل کرنے کے لیے انتہائی ایمرجنسی کے عالم میں ایک فلاحی ادارے کی ایمبولینس والے سے رابطہ کیا تو اس نے چھ سو روپے مانگے اور رقم کم کرنے سے صاف انکار کردیا، اس کے بعد اس شخص نے اپنی والدہ کو جناح اسپتال لے جانے کے لیے ایک رکشے والے سے رابطہ کیا۔ یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ جتنی رقم یہ ایمبولینس والے مانگتے ہیں اس سے کہیں کم رقم میں آپ کو رکشہ یا ٹیکسی مل جاتی ہے۔ فلاحی اداروں کی جانب سے مجبور و بے کس اور غریب عوام کے ساتھ ایمرجنسی میں اس قدر مہنگے دام وصول کرنا سنگین جرم اور مذاق ہے۔ خیرات، صدقات وصول کرنے والے کھلے عام یہ کر رہے ہیں تو پس پردہ عوام کے ساتھ کیا کرتے ہوں گے؟

یہاں صرف چند ایک مسائل کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ بظاہر تو یہ چھوٹے اور معمولی مسئلے لگتے ہیں مگر عوام کی ان اکثریت کے لیے (جن کے لیے دو وقت کی روٹی حاصل کرنا بھی دشوار مرحلہ ہوتا ہے) انتہائی اہم اور بڑے مسائل ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ ان مسائل پر ہمارے میڈیا کی جانب سے بھی کوئی نمایاں آواز نہیں اٹھائی جاتی جب کہ ہمارے رہنماؤں کو شاید ان کی خبر ہی نہیں ہوتی اور خبر ہو بھی تو کیسے کہ جب اکثر کو تو ان سے واسطہ ہی نہیں پڑتا، کیونکہ بڑی گاڑیاں، گارڈ اور ڈرائیور ان کے آگے پیچھے ہوتے ہیں، اگر کبھی خود گاڑی پارک کریں اور ان کی جیب میں خریدار ی کے لیے پیسے بھی پورے نہ ہوں تو پھر شاید انھیں پارکنگ کی مد میں لی جانے والی رقم کی اہمیت کا احساس ہو یا کبھی ایمرجنسی میں وہ کسی ایمبولینس والے سے پوچھیں کہ کتنے پیسے لوگے؟ اور جب وہ چھ سو، سات سو روپے کا کہے اور ان کی جیب میں صرف چار سو روپے ہی ہوں اور اپنی والدہ کو کسی اسپتال میں پہنچانے کے لیے انھیں رکشے والے سے بات کرنا پڑے تو پھر شاید انھیں یہ مسئلے، واقعی عوام کے حقیقی مسئلے لگیں۔ آئیے کچھ دیر کو ٹھنڈے دل و ماغ سے غور کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔