17ویں سندھ گیمز کا رنگا رنگ تقریب میں اختتام

اسپورٹس رپورٹر  پير 23 اپريل 2018
کراچی ڈویژن نے مہمان خصوصی وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے وننگ ٹرافی وصول کرلی، حیدرآباد کی دوسری پوزیشن۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی ڈویژن نے مہمان خصوصی وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے وننگ ٹرافی وصول کرلی، حیدرآباد کی دوسری پوزیشن۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی: 17 ویں سندھ گیمز رنگا رنگ اختتامی تقریب کے ساتھ ختم ہوگئے جب کہ کراچی ڈویژن  نے واضح سبقت کے ساتھ مسلسل 17 ویں مرتبہ سندھ گیمز جیت لیے۔

گزشتہ روز اختتام پذیر ہونے والے 4 روزہ گیمز میں کراچی نے مجموعی طور پر 178 میڈلز حاصل کیے جن میں 126 گولڈ، 36 سلور اور 16برانز میڈلز شامل تھے، حیدرآباد نے 15گولڈ ، 61 سلور اور  46 برانز میڈلز کے ساتھ دوسری پوزیشن پائی، سکھر12گولڈ، 20 سلور اور51 برانز میڈلز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا، میرپور خاص نے 7 گولڈ، 18 سلور اور 43 برانز میڈل  جیت کر چوتھی، شہید بینظیر آباد  ڈویژن نے 6 گولڈ 11 سلور اور 39 برانز میڈلز اکھٹے کرکے پانچویں اور لاڑکانہ نے 4 گولڈ، 25 سلور اور 24 برانز میڈلز پاکر چھٹی پوزیشن حاصل کی۔

کراچی ڈویژن کے چیف ڈی مشن آصف عظیم نے مائی کلاچی کے نام سے منسوب گیمز کی وننگ ٹرافی وصول کی، پی ایس بی کوچنگ سینٹر پر اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی  وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ تھے، انھوں نے اگلے سندھ گیمز لاڑکانہ میں کرانے کا اعلان کیا، صوبائی وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر نے گیمز کے اختتام کا اعلان کیا، گیمزکے آرگنائزنگ سیکریٹری اور صوبائی سیکریٹری اسپورٹس ڈاکٹر نیاز علی عباسی نے استقبالیہ کلمات ادا کیے۔

آخر میں شاندار آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا، سندھ گیمز میں مردوں کے 30 اور خواتین کے 17 گیمز میں 3 ہزار سے زائد کھلاڑی اور آفیشلز شریک ہوئے۔ اختتامی تقریب میں اسکواش لیجنڈ جہانگیر خان، اولمپئین اصلاح الدین صدیقی، سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر انجینئر محفوظ الحق، سیکریٹری احمد علی راجپوت، وسیم ہاشمی، اسلم مہر، غلام محمد خان، اختر میر، آصف عظیم سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

افتتاحی دن گورنر سندھ محمد زبیر نے مشعل روشن کرکے 17 ویں سندھ گیمز کا افتتاح کا تھا، اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ میں کھیلوں کے  فروغ کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں، صوبائی حکومت نے کراچی میں پی ایس ایل تھری کے فائنل کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا، ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم 3 میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے کراچی آئی جبکہ اس سے قبل ہاکی کی ورلڈ الیون نے کراچی کا دورہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ ہم سندھ کے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بھر پور مواقع فراہم کریں گے، انھوں نے کہا 6 برس کے بعد سندھ گیمز کا انعقاد خوش آئند ہے، یہ گیمز ہم آہنگی میں اضافہ کا سبب بنیں گے، امید ہے کہ سندھ کے کھلاڑی قومی اور انٹرنیشنل مقابلوں میں زیادہ بہتر نتائج فراہم کریں گے۔

وزیر کھیل نے کہا کہ سندھ اولمپک ایسوسی ایشن اور سندھ کے محکمہ کھیل کے باہمی اشتراک سے گیمز کا انعقاد شاندار رہا، گیمز کو شفاف  انداز میں منعقد کرنے کی کوشش کی گئی، خامیوں اور غلطیوں کا تدارک کریں گے، اگلے سندھ گیمز کو زیادہ شان و شوکت کے ساتھ منعقد کرایا جائے گا۔

17 ویمنز کھیلوں میں کراچی سرفہرست

سندھ گیمز میں کراچی نے اپنی سبقت ثابت کرتے ہوئے مردوں کے 29 میں سے 22 کھیلوں کے مقابلے جیتے، سکھر نے 4 کھیلوں کوڈی کوڈی، ملھ، شوٹنگ بال اور ونجھ وٹی میں فتح پائی، لاڑکانہ ڈویژن 2 کھیلوں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ اور ویٹ لفٹنگ میں کامیاب رہا جبکہ حیدرآباد نے ریسلنگ میںکامیابی پائی،کراچی ڈویژن خواتین کے تمام17 کھیلوں کے مقابلوں کو اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا۔

ویمن والی بال، فائنل میں حیدرآباد کو کراچی نے شکست دے دی

سندھ گیمز میں ویمن والی بال فائنل میں کراچی نے حیدرآباد کو 3-0 سے ہرا کر گولڈ میڈل جیت لیا۔ حیدرآباد نے دوسری جبکہ بینظیر آباد نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ فائنل کے مہمان خصوصی سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے میڈلز اور ٹرافیاں تقسیم کیں، سندھ والی بال ایسوسی ایشن کے سیکریٹری شاہد مسعود نے مہمان خصوصی کو سندھی ٹوپی کا تحفہ پیش کیا۔

تقریب میں آتشبازی مہنگی پڑگئی

سندھ گیمز میں آتشبازی مہنگی پڑگئی، گیمز کی اختتامی تقریب کے موقع پر آتشبازی کا بندوبست کیا گیا تھا، آتش بازی کے دوران ایک پٹاخہ قریب جھاڑیوں میں جاگرا جس کے نتیجے میں آگ لگنے سے بھگدڑ مچ گئی اور کھلاڑیوں ودیگر افرار میں خوف و ہراس پھیل گیا، فائر بریگیڈ کے موجود نہ ہونے کے سبب گراؤنڈ میں موجود ایتھلیٹس نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔

حور فواد سب سے کمسن ایتھلیٹ قرار

سندھ گیمز میں سب سے کمسن ایتھلیٹ کراچی کی 9 سالہ حور فواد نے گولڈ میڈل بھی جیت لیا، مقامی اسکول میں چوتھی جماعت کی طالبہ حور فواد نے سندھ گیمز میں سب سے کم عمر ایتھلیٹ ہونے کا اعزاز حاصل کیا، وہ خواتین کا ٹیبل ٹینس ٹیم ایونٹ جیتنے والی کراچی کی ٹیم کا حصہ تھیں، سابق قومی چیمپئن اور انٹر نیشنل کوچ عارف خان سے تربیت پانے والی9  سالہ حور کا کہنا ہے کہ میں قومی ویمن ٹائٹل کے ساتھ انٹرنیشنل پلیئر بھی بننا چاہتی ہوں جس کے لیے بھر پور محنت کررہی ہوں۔

کراچی نے کراٹے میں بھی میدان مارلیا

17ویں سندھ گیمز میں کراچی نے کراٹے میں بھی میدان مار لیا اور مرد وخواتین کے مقابلوں میں اپنی برتری ثابت کی، کراٹے کے 2 روزہ مقابلے جمنازیم ہال ککری گراؤنڈ لیاری میں منعقد ہوئے جس کا افتتاح پاکستان کراٹے فیڈریشن کے صدر نسیم احمد قریشی نے کیا، افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر کھیل سردار محمد بخش خان مہر تھے۔

تقریب تقسیم انعامات میں صوبائی وزیر آبادی میر ممتاز حسین خان جاکھرانی، ارم خالد، سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کے نائب صدر وسیم ہاشمی اور ہما افضال صدر سندھ ویمن کراٹے ایسوسی ایشن نے جیتنے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز میں میڈلز، سرٹیفکیٹ اور شیلڈ تقسیم کیں، مردوں کے مقابلوں میں کراچی نے7 گولڈ  2سلوراور 2 برانز میڈلز جیت کر195 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی، شہید بینظیرآباد نے3 گولڈ، 2 سلور اور5 برانز میڈلز پاکر 100 پوائنٹس کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی، سکھر 3 سلور اور5 برانز میڈلز کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہا، خواتین کے مقابلوں میں بھی کراچی نے 7 گولڈ، 2 سلور میڈلز جیت کر175 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن  پائی، حیدرآباد 2 گولڈ،  4 سلوراور3 برانز میڈلز اپنے نام کر کے135 پوائنٹس کے ساتھ دوسری پوزیشن پر براجمان ہوا، سکھر نے3 سلور ،6 برانز میڈلز لیکر 80 پوائنٹس کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔

جوڈو مقابلے؛ اعصام، محمد علی رشید، شہروز رضی اور عرفان نے گولڈ میڈلز قبضے میں کرلیے

سندھ گیمز میں کراچی نے جوڈو مقابلوں میں بھی اپنی اجارہ داری قائم کی، کراچی نے مردوں کے مقابلوں میں 6 گولڈ اور ایک سلور میڈل جیت لیا، این ای ڈی یونیورسٹی کے جمنازیم میں ہونے والے ان مقابلوں میں کراچی کے محمد اعصام، محمد علی رشید، سید مصطفیٰ، محمد شہروز رضی، عرفان اللہ خان اور عبداللہ انفرادی ایونٹس میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوئے جبکہ اسرار نے کانسی کا تمغہ پایا، حیدرآباد کو ملنے والا واحد گولڈ میڈل محمد فراز کے نام رہا۔

جوڈو میں خواتین کے مقابلوں میں بھی کراچی کی کھلاڑی چھائی رہیں، وہ 4 گولڈ اور 2 سلور میڈلز پر قابض ہوئیں، انوشا، مریم، صبور اور اسما بروہی نے سونے پر قبضہ جمایا جبکہ ایمان یامین اورکائنات عارف نے چاندی کے تمغے پائے، تقریب تقسیم انعامات کے مہمان خصوصی  سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کے  سید وسیم ہاشمی  نے کامیاب کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے، ایونٹ کے نگران محمد علی اور محمد رفیق تھے۔

ٹگ آف وار نمائشی میچ میں وزیراعلیٰ کی ٹیم نے وزیراسپورٹس الیون کو ہرادیا

سندھ گیمز کی اختتامی تقریب میں ٹگ آف وار کا نمائشی میچ بھی شامل تھا، یہ میچ چیف منسٹر اور اسپورٹس منسٹر کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا جو چیف منسٹر کی ٹیم نے جیت لیا، چیف منسٹر الیون کے کپتان وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ تھے۔

کھلاڑیوں میں یاور عباس، محمد نعمان، محمد احمد خان، رضا احمد، شاہزیب عالم، ثنا اللہ، شہزاد، حمزہ احمد، ایم ندیم، اصغر اور عبدالماجد شامل تھے، خالدہ افتخار مینجر، اسسٹنٹ منیجر عامر صدیقی اور ضمیر جعفری کوچ  تھے، اسپورٹس منسٹر الیون کی قیادت وزیر کھیل محمد بخش مہر نے کی، ضیا اللہ خان، ایم سرفراز، اشعر قریشی، مدثر، حمزہ وحید، حیدر، اسد اللہ، وجاہت، حسن علی، ثمامہ طارق، اختر، امیر حمزہ ٹیم کے کھلاڑی  تھے، امبر نذیر منیجر اور عمر شاہین نے کوچ کی ذمہ داری ادا کی، ٹیکنیکل کمیٹی میں محسن علی خان چیئرمین، جاوید اقبال بیگ آرگنائزنگ سیکریٹری، فہمید ضمیر، انتصار حیدر ممبر، کمانڈر محفوظ الحق میچ ڈائریکٹر، عظمت پاشا، شمائلہ رضوان ، طارق خان اور جویریہ ممبر تھے۔

جوجسٹو؛ مینز اور ویمنز ایونٹس میں کراچی نے دھاک بٹھادی، پہلی پوزیشن حاصل کی

کراچی نے سندھ گیمز میں جوجسٹو کے مینز اور ویمنز ایونٹس میں بھی اپنی دھاک بٹھا دی، کراچی  نے مجموعی طور پر 9گولڈ ،ایک سلور اور ایک برانز میڈل جیتا، مردوں کے مقابلوں میں کراچی نے 5 گولڈ میڈلز جیت کر 50 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی، حیدرآباد نے ایک سلور اور تین برانز میڈلز کے ساتھ دوسری اور لاڑکانہ نے دو سلور اور ایک برانز میڈل جیت کر تیسری پوزیشن پائی، سکھر اور میر پورخاص 1،1 سلور میڈل پر قابض ہوکر مشترکہ طور پر چوتھے نمبر پر رہے۔

کراچی کی خواتین کے جوجسٹو مقابلوں میں 4 گولڈ، ایک سلور اور ایک برانز میڈل جیت کر 53 پوائنٹس کے ساتھ پہلی  ٹرافی اپنے نام کی، حیدرآباد دو گولڈ، تین سلور اور ایک برانز میڈل حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہا، سکھر نے ایک سلور اور تین برانز میڈلز جیت کر تیسری پوزیشن پائی جبکہ بے نظیر آباد کا ایک سلور اور ایک برانز میڈل کے ساتھ چوتھا نمبر رہا، طارق علی  این ای ڈی یونیورسٹی کے جمنازیم ہال میں ہونے والے ان مقابلوں کے آرگنائزر تھے۔

گدھاگاڑی ریس کا انعقاد

سندھ گیمز میں گدھا گاڑی ریس کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں ہرن کا بچہ نامی گدھا پہلی پوزیشن لے اڑا، منفرد ریس میں 15 گدھا گاڑیاں شریک ہوئیں، ریس کو  دیکھنے شائقین کی بڑی تعداد بھی پہنچی، ریس ریلوے اسٹیڈیم، آئی آئی چندریگر روڈ سے شروع ہوئی اور نیٹی جیٹی پل، سلطان آباد، شاہین کمپلیکس سے ہوتی ہوئی اسٹارٹنگ پوائنٹ پر ہی اختتام پذیر ہوئی، ریس میں حصہ لینے والے تمام گدھا گاڑی مالکان کا تعلق لیاری سے تھا۔

غیر معیاری گدے کے استعمال پر ایتھلیٹکس کوچ کو نوٹس جاری

سندھ گیمز میں ایتھلیٹکس مقابلوں  میں غیرمیعاری گدے استعمال کرنے پر صوبائی حکومت نے  سندھ اسپورٹس بورڈ کے ایتھلیٹکس کوچ  عبداللہ چانڈیو کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرکے 3 دن میں جواب طلب کرلیا۔

کراچی ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن  کے سیکریٹری کی بھی ذمے داری اداکرنے والے عبداللہ چانڈیو پر الزام ہے کہ انھوں نے پی ایس بی کوچنگ سینٹر پر ہائی جمپ کے مقابلوں کے دوران غیر معیاری گدے استعمال کیے جس کے سبب متعدد ایتھلیٹس زخمی بھی ہوئے  جبکہ میڈیا کی جانب سے ہونے والی تشہیر سے آرگنائزنگ کمیٹی کو بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑا، مذکورہ نوٹیفکیشن  محکمہ کھیل کے سیکشن افسر ایڈمن مرزا مشتاق بیگ نے جاری کیا ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔