محافظ کا تحفظ، آپ کی ذمہ داری ہے

غفران عباسی  جمعـء 6 اپريل 2018
چوکیدار ہوں یا سیکیورٹی گارڈ، چند روپوں کے عوض جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔ آپ ان کی خدمات تو خرید سکتے ہیں لیکن جان خریدنا کسی کے بس میں نہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

چوکیدار ہوں یا سیکیورٹی گارڈ، چند روپوں کے عوض جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔ آپ ان کی خدمات تو خرید سکتے ہیں لیکن جان خریدنا کسی کے بس میں نہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کہتے ہیں آنکھوں دیکھی مکھی نگلی نہیں جاتی۔ بس جناب کچھ ایسا ہی حال اپنا بھی ہے۔ مکھی دیکھ تو لی ہے لیکن نگلنے کی ہمت کہاں سے لائیں؟ دورِحاضر میں خاصے غور کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہوا ہوں کہ مکھیوں کو نگلنے کا سلسلہ بڑے شوق کے ساتھ جاری ہے۔ نگلنے والوں میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو فارم ہاؤس میں مکھیوں کی نگہداشت کرکے انہیں نگل رہے ہیں لیکن نگلنے والے حضرات مکھیاں تو کیا انسانوں کو بھی نگلنے کا مشغلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک عدد انسان تو ان کےلیے گویا کوئی بات ہی نہیں۔ اسی لیے مکھیوں کے بعد انسانوں کو نسل در نسل نگلنے کےلیے منڈی میں بولیاں لگتی ہیں اور یوں خرید و فروخت جاری رہتی ہے۔ شاید ان کی نظر میں انسان اور مکھی میں خاطر خواہ فرق نہ ہو یا پھر انسان مکھی سے زیادہ لذیذ (Tasty) ہو۔

واصف علی واصف نے کہا تھا کسی چیز کو چھوٹا سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اسے یا تو دور سے دیکھا جائے یا غرور سے دیکھا جائے۔ ایسا ہی ایک منظر جسے عوام دور سے یا غرور سے دیکھ رہی ہے اور یہ سلسلہ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا:

چند دن قبل کی بات ہے میں نے گاڑی سے اترتے ہی ڈرائیور کا شکریہ ادا کیا۔ اور کرنا بھی چاہیے تھا کیونکہ مجھے ڈراپ کرنے کا ذمہ دار نہ تھا۔ چند قدم پیدل چلنے کے بعد مجھے بڑھتی ہوئی گرمی کا احساس ہوا۔ سفر چند قدم کا تھا اسی وجہ سے یہ احساس بھی عارضی ثابت ہوا۔ ایلیویٹر بجلی سے چل رہا تھا لہذا میں نے آرام سے پہلا قدم رکھا اور سیڑھیاں ختم ہونے کا انتظار کیا۔ برقی سیڑھیاں ختم ہوتے ہی میں ایک خوش شکل نوجوان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔

نوجوان ایک نجی کمپنی میں سیکیورٹی کی خدمات سر انجام دے رہا تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا ’’اگر آپ برا نہ مانیں تو کیا میں آپ کا بیگ دیکھ سکتا ہوں؟‘‘ نوجوان نے گویا آبِ کوثر سے دھلی ہوئی زبان سے کہا۔ شائستگی کا معیار قابلِ ستائش تھا اور اسی شائستگی نے مجھے بیگ کھولنے پر مجبور کردیا۔ میں نے کہا ’’ارے یہ تو آپ کا حق ہے اور پھر یہ سب آپ ہماری حفاظت کےلیے ہی تو کررہے ہیں۔‘‘ نوجوان نے پُھرتی سے بیگ دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا ’’مجھے آپ پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہیں،‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ دل برداشتہ سی آواز میں بولا ’’صاحب! کچھ لوگ تو بہت ہی برا منا جاتے ہیں،‘‘ میں نے نوجوان کی ہمت اور حوصلے کی داد دی اور آگے نکل گیا۔

نوجوان کی آخری بات اب تک میرے ذہن پر ثبت ہے۔ اس کے شکوے نے مجھے سوچنے اور صفحہِ قرطاس پر چند سطور لکھنے پر مجبور کردیا۔ اسباب پر غور کرنا شروع کردیا۔ بھئی بات سیدھی سی ہے کہ محافظ کے ساتھ الجھنے کی منطق ہضم نہیں ہورہی۔ عرض یہ ہے کہ عوامی مقامات میں ایک شخص کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ سیکیورٹی کا خیال رکھنا ہے۔ اسی اثناء میں فرض نباہنے کے حوالے سے اشتہارات بنائے بھی جاتے ہیں اور چلائے بھی جاتے ہیں لیکن کیا اشتہار بنانا اور چلانا کافی ہے؟ یقیناً نہیں۔ ایک محافظ کو فرض نباہنے کےلیے اشتہار کی نہیں، تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔

میں نے متعدد مقامات پر سیکیورٹی گارڈز کو غیرمعمولی حالات میں ذمہ داریاں نباہتے دیکھا ہے۔ عوامی مقامات پر، سرکاری اداروں کے باہر، بینکوں، ریستورانوں اور یونیورسٹیوں حتی کہ مارکیٹوں میں بھی۔ اسی وجہ سے مختلف کمپنیاں بھی وجود میں آئی ہیں جو ریٹائرڈ فوجیوں کو ملازم رکھ کر مختلف مقامات پر تعینات کرتی ہیں۔ ان میں سے بعض کمپنیاں ایسی بھی ہیں جو فوجی یا سول، کسی بھی بندے کا انتخاب کرلیتی ہیں۔ ایسے حضرات کمپنی سے تنخواہ لیتے ہیں اور اس کے عوض مقرر کردہ مقامات پر ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔ میں نے بیشتر مقامات پر گرمی ہو یا سردی، بہار ہو یا خزاں، دن ہو یا رات، محافظوں کو فرض نباہتے ہوئے پایا ہے۔ تقریباً ایک سال قبل اسلام آباد میں ایک نجی بینک جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا اور گرمی اپنے عروج پر تھی۔ سخت گرمی کے اس موسم میں ایک بزرگ گارڈ ڈیوٹی پر نظر آئے۔ ’’آس پاس برسے، دلی پڑی ترسے‘‘ والامنظر دکھائی دیا۔

یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ جو بینک اربوں روپوں کا حساب کتاب اور لین دین کرتا ہے، جس بینک میں کام کرنے والے حضرات ایئر کنڈیشنر (AC) کی ٹھنڈک سے محظوظ ہو رہے ہوں وہاں ایک غریب انسان جو جان جوکھوں میں ڈال کر آپ کی حفاظت کررہا ہے، اس کےلیے اے سی تو درکنار پنکھے کا بھی بندوبست نہیں۔ ہتھیلی پر جان رکھے یہ لوگ چند روپوں کے عوض جان مارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جو ادارہ لاکھوں کے اخراجات سہ کر اندرونی عملے کےلیے ہر قسم کی سہولیات اور آ سائشیں مہیا کرتا ہے، وہ باہر کھڑے چوکیدار کےلیے پنکھے یا شیلٹر کا بندوبست کیوں نہیں کرسکتا؟

یہ وہی چوکیدار ہیں جو آئے دن آپ کو، آپ کے کاروبار، آپ کے مال کو بچانے کےلیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ آئے روز ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ سیکیورٹی گارڈ نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہو چوروں کا راستہ روکا، جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے عملے اور بینک کو بڑے نقصان سے بچایا، ڈاکو کی فائرنگ سے گارڈ شدید زخمی ہوگیا، حملہ آوروں سے مزاحمت کرتے ہوئے گارڈ جان کی بازی ہار گیا، گارڈ نے دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے چوروں کو جہنم واصل کیا وغیرہ۔

جناب! بات صرف چند روپوں کی ہے۔ چوکیدار ہوں یا سیکیورٹی گارڈ، چند روپوں کے عوض جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔ آپ ان کی خدمات تو خرید سکتے ہیں لیکن جان خریدنا کسی کے بس میں نہیں۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی تنخواہ ادارے کے اندر کام کرنے والوں کی نسبت سب سے کم ہوتی ہے؛ الاؤنس، بونس وغیرہ کا بھی کوئی خاص سلسلہ نہیں ہوتا۔ یہ طبقہ معاشرے کا اہم جزو ہے۔ خدانخواستہ چوکیدار کام چوری شروع کردے تو تمام ادارے چلنا محال ہوجائیں۔

موسم کی شدت برداشت کرتے ہوئے بسا اوقات سختی سے پیش بھی آتے لیکن آپ سے درخواست ہے کہ سختی ان کی ڈیوٹی کا حصہ ہے۔ سختی پر بر ا نہ منائیے۔ گارڈ سخت ہوگا تو لوگ قوانین کا خیال رکھیں گے۔ الغرض یہ طبقہ آپ کے تعاون کا طلب گار ہوتا ہے۔ ان سے مسکرا کر پیش آ ئیے۔ ان کی طرف سے کی جانے والی سختی کو ان کی نوکری کا حصہ سمجھئے نہ کہ شخصیت کا۔

ایک کہاوت ہے کہ جہاں ستیاناس وہاں سوا ستیاناس۔ جہاں اندرونی عملے کے ناز نخرے اٹھائے جاتے ہیں وہاں کوشش کرکے گارڈ کو شیلٹر اور پنکھے مہیا کردیجیے۔ ایک اور استدعا ہے کہ یہ لوگ آپ کی حوصلہ افزائی (Appreciation) کے منتظر ہوتے ہیں۔ ان کے حوصلوں اور جذبوں کو داد کی شکل میں بڑھائیے۔ المختصر، حرفِ آخر یہی ہے کہ حق کا حقدار تک پہنچنا بہت ضروری ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

غفران عباسی

غفران عباسی

بلاگر ایک نجی ادارے میں ملازم ہیں، لکھنے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف موضوعات پر زورِ قلم سے طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔