گوانتانا مو جیل میں قیدیوں کی بھوک ہڑتال، گارڈز سے جھڑپیں، ایک زخمی

بی بی سی / اے ایف پی  پير 15 اپريل 2013
قیدی معمولی زخمی ہے،43بھوک ہڑتال پرہیں،12 کو زبردستی کھانا کھلایا جارہا ہے،پنٹاگان: قیدیوں کے وکلاکی فائرنگ کی مذمت. فوٹو: رائٹرز

قیدی معمولی زخمی ہے،43بھوک ہڑتال پرہیں،12 کو زبردستی کھانا کھلایا جارہا ہے،پنٹاگان: قیدیوں کے وکلاکی فائرنگ کی مذمت. فوٹو: رائٹرز

ہوانا / واشنگٹن: کیوبا میں قائم امریکی جیل گوانتاناموبے میں بعض قیدیوں کومشترکہ کمروں سے نکال کر دوسرے کمروں میں منتقل کرنے کے مسئلے پر قیدیوں اور محافظوںکے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس سے ایک قیدی زخمی ہوگیا، ان قیدیوںمیں بعض قیدی بھوک ہڑتال پرتھے۔

امریکی فوج کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام اس وقت کیاگیاجب قیدیوں نے نگرانی کے کیمرے اور کھڑکیوںکوڈھانپ دیاتھا، بعض قیدیوں نے جیل میں ملنے والی چیزوں سے ہتھیاربنارکھے تھے،جھڑپ کے دوران محافظوں نے قیدیوں پرچارغیرمہلک گولیاں چلائیں۔ پینٹاگان کے مطابق 43 قیدی بھوک ہڑتال پرتھے تاہم قیدیوں کے وکیلوں نے بتایاکہ ہڑتالی قیدیوں کی تعداداس سے زیادہ ہے۔

فوجی حکام کے مطابق ایک درجن قیدیوں کوزبردستی کھانا کھلایا جا رہا ہے۔امریکی فوج کے ایک اورترجمان کرنل گریگ جولین نے امریکی خبر ایجنسی اے پی کوبتایا کہ ایک قیدی کوگولی لگی ہے تاہم وہ معمولی زخمی ہے۔ قیدیوں کے بعض وکیلوں نے جیل حکام کے اقدامات کی مذمت کی ہے تاہم گوانتاناموکے حکام نے اس بات کی تردیدکی کہ ہڑتال بعض قیدیوںکے کمروں میں تلاشی کے دوران قرآن کی بے حرمتی کی وجہ سے شروع ہوئی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔