عمران اور شیخ رشید کا ’’انضمام‘‘

نصرت جاوید  جمعـء 10 اگست 2012
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

بدھ کو جیسے ہی عمران خان اور شیخ رشید کے درمیان اتحاد واتفاق کی خبر عام ہوئی میرے فیس بک اور ای میل اکائونٹس پر ایک پروگرام کی ویڈیو بار بار آنا شروع ہوگئی۔ ’’فرزند ِپاکستان‘‘ ان دنوں جنرل مشرف کے وزیر ہوا کرتے تھے اور عمران خان انقلاب کی راہ پر چلنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ دونوں کا اس پروگرام میں ٹاکرا ہوا۔ دونوں نے ایک دوسرے کے جی بھرکے لتے لیے۔ شیخ رشید نے عمران خان کو ایک سیٹ ’’مشکل سے جیتنے والی‘‘ جماعت کا سربراہ قرار دیا اور خود کو کامیاب سیاستدان ٹھہرایا۔ عمران خان نے فوراََ دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھا لیے اور خدا کی بارگاہ میں التماس کی کہ وہ انھیں کبھی شیخ رشید جیسا ’’کامیاب‘‘ سیاستدان نہ بنائے۔ مجھے یہ ویڈیو بھیجنے والے یہ سوال بھی کر رہے تھے کہ ایک دوسرے کو اتنی شدت سے بُرا بھلا کہنے والے بالآخر کیسے ایک دوسرے کے ساتھی اور خیر خواہ ہونے کے دعوے دار بن سکتے ہیں۔ ایسے جذباتی لوگوں کو سمجھانا میرے لیے بڑا مشکل ہے۔

چیکوسلواکیہ کبھی ایک ملک ہوا کرتا تھا۔ اب اس کے دو حصوں، چیک ریپبلک اور سلوواکیہ میں طلاق ہو چکی ہے۔ ان دونوں کا ایک ملک کے طور پر اکٹھا رہنا سوویت یونین کے تسلط کے سبب ممکن ہوا تھا۔ اس کا زوال ہوا تو دونوں کو ایک رکھنا مشکل ہو گیا۔ بجائے خون خرابے کے چیک جمہوریہ کے ڈرامہ نگار صدر نے Velvet Divorce کی اصطلاح ایجاد کرنے کے بعد باہمی مذاکرات کے ذریعے اپنے ملک کی دو آزاد مملکتوں میں تقسیم کا معاملہ بڑی خوش اسلوبی سے طے کرادیا۔ وہ یہ سب اس لیے کر سکا کہ سوویت یونین کی جانب سے مسلط کردہ نظام کے خلاف سب سے منظم اور طویل المدت جدوجہد اس کے ملک کے شاعروں اور ادیبوں نے کی تھی۔ لوگ ان کا بہت احترام کرتے تھے۔

مزاحمتی ادب کے ذریعے اپنے ملک کی آزادی کی لگن میں مبتلا چیک لکھاریوں میں سے ایک Milan Kundera بھی ہوا کرتے تھے۔ موصوف جدید ناول نگاری کے بڑے ناموں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے ایک پورے ناول کا نام ہی بھولنے اور معاف کرنے کے عمل کا ذ کر کرتا ہے اور کُندرا اس عمل کو (ART) یعنی فن کا نام بھی دیتا ہے۔ میلان کندرا بڑی سختی سے اس بات کو یاد دلاتا رہتا ہے کہ ہماری قسمتوں کے مالک بنے بیٹھے سیاستدان اپنی عام انسانوں والی خباثتوں کو چھپاکر دیوتائوں کا مقام اس لیے حاصل کر لیتے ہیں کہ عام انسانوں کی یادداشت بڑی کمزور ہوتی ہے۔ جنھیں چیزیں یاد بھی رہتی ہیں وہ معاف کر دیا کرتے ہیں۔ بھول جانے اور معاف کر دینے والی یہی بشری کمزوری اقتدار کے کھلاڑیوں کے بہت کام آتی ہے۔ جو سیاست دان بھی بھول جانے اور معاف کر دینے والی کمزوری کا بے دردانہ استعمال کرتا ہے، بالآخر اقتدار کے کھیل میں کامیاب وکامران ٹھہرتا ہے ۔

میلان کندرا کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اگر کوئی قوم اپنے جیسے انسانوں میں سے اُٹھے سیاستدانوں کو دیوتا بنا کر ان کی اندھی غلام نہیں بننا چاہتی تو اسے بھرپور ارادے کے ساتھ بھول جانے اور معاف کر دینے والی انسانی جبلت پر قابو پا کر اپنے ذہن اور روح سے باہر نکال پھینکنا ہو گا۔ یہ نہ ہوا تو تاریخ کے ہر دوسرے موڑ پر کوئی نہ کوئی ہٹلر نمودار ہو کر ’’مسیحائے قوم ‘‘ بنتا رہے گا۔ کمزور ملکوں پر طاقتور ملک قابض ہو کر ان کے عوام پر اپنی کٹھ پتلیاں مسلط کرتے رہیں گے۔

میں میلان کندرا کو جتنا سمجھا ہوں آپ کو سمجھانے کی بھی جرأت کی ہے اور یہ جرأت کرنے کے بعد یہ پوچھنے کا حق رکھتا ہوں کہ آیا بحیثیت ِقوم ہم بھی بھول جانے اور معاف کر دینے کی بیماری میں مبتلا نہیں؟ میرا ذاتی خیال تو یہ ہے کہ ہم شاید اس مرض میں ناقابلِ علاج حد تک مبتلا ہو چکے ہیں۔

شیخ رشید سے بخدا میرا کوئی ذاتی جھگڑا نہیں۔ میں ان کی ’’اگاڑی‘‘ اور’’پچھاڑی‘‘ دونوں سے حتی الوسیع دور رہنے کی کوشش میں مبتلا رہا ہوں۔ سیاست میں ان کی اٹھان کا اس وقت سے شناسا ہوں جب یہ صاحب راولپنڈی/اسلام آباد میں سب سے زیادہ بکنے والے اخبار کے صفحہ نمبر 2 پر اپنی سنگل کالمی خبر لگوانے کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہو جایا کرتے تھے۔ پھر آپ کونسلر ہوئے اور ضیاء الحق کے بنائے میئر کے خلاف باغیانہ قسم کے تھیٹر لگاتے رہے۔ 1985ء میں قومی اسمبلی کی سیٹ جیتنے کے بعد جن رپورٹروں کو انھوں نے خود فون کر کے اپنے کامیاب ہونے کی اطلاع دی تھی، میں بدنصیب بھی ان لوگوں میں شامل تھا۔

قومی اسمبلی میں آ کر یہ عابدہ حسین اور بعد ازاں فخر امام کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھ کر اپنے باغیانہ جلوے دکھاتے رہے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ میں ان کا تہہ دل سے مداح ہوا کرتا تھا۔ مجھے اچھا لگتا تھا کہ ایک عام سا بے وسیلہ شخص راولپنڈی کی گلیوں سے اُٹھ کر صرف اور صرف اپنی ذاتی کاوشوں کو بروئے کار لا کر اخبارات کی شہ سرخیاں بنانے کے قابل ہوا۔ لیکن پھر 1988ء ہوگیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں تو موصوف نے ان کے بارے میں جلسوں میں ایسی زبان استعمال کرنا شروع کر دی جو اخلاقی پستی کی انتہائوں کو چھو لیتی تھی۔

انھی دنوں موصوف نے ’’کشمیر کی آزادی‘‘ کا بیڑا بھی اُٹھایا۔ فتح جنگ کے قریب بہت سارا رقبہ لے کر اپنے تئیں کشمیری مجاہدین کے لیے ’’رہنے اور کھانے پینے‘‘ کا بندوبست کیا۔ ان کے اس ’’بندوست‘‘ کی خبر کچھ عالمی طاقتوں تک پہنچی۔ حکومت پاکستان کو ثبوتوں سمیت متنبہ کیا گیا۔ میرے تک اس کی سن گن پہنچی تو میں نے اس کی خبر بنا کر چھاپ دی۔ پھر انھیں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے بلوایا۔ موصوف نے ان کے سامنے توبہ تائب کی اور وہاں سے نکل کر صحافیوں کو اپنے ’’استغفار‘‘ کی داستانیں بھی سنائیں۔ میرا دل ٹوٹ گیا۔ مجھے سمجھ آ گئی کہ جلسوں میں شیروں کی طرح دھاڑنے والا یہ شخص حقیقت میں کتنا بڑا ’’مجاہد‘‘ ہے۔

پھر نواز شریف کی حکومت آئی۔ موصوف اس میں وزیر اطلاعات بنے۔ اپنی اس حیثیت میں وہ مجھ پر جتنا ’’کنٹرول‘‘ کر سکتے تھے حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مگر میں یہ سب بھول کر ان کی خاطر محترمہ بینظیر بھٹو اور چوہدری الطاف حسین مرحوم سے لڑتا رہا۔ احتجاج کرتا رہا کہ انھوں نے شیخ صاحب کو محترمہ کے دوسرے دور حکومت میں جیل میں کیوں ڈال رکھا ہے۔ پھر چوہدری صاحب نے مجھے اس کی حقیقی وجہ بتائی اور وہ خطوط بھی دکھائے جو موصوف جیل سے اس وقت محترمہ بینظیر بھٹو کی امریکا میں لگائی سفیر کو ’’معافی تلافی‘‘ کے حصول کے لیے لکھا کرتے تھے۔ شیخ صاحب کے اندر کا ’’ہیرو‘‘ میری نظر میں ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا۔

میاں صاحب دوبارہ وزیر اعظم بنے تو انھوں نے شیخ صاحب کو وزیر نہ بنایا۔ مجھے افسوس ہوا۔ میں ان کا ’’اصل‘‘ بھول کر دیانتداری سے سوچتا رہا کہ وزیر بننا ان کا حق ہے۔ پھر وہ مجھے راولپنڈی کے ایک سیاستدان کے گھر تنہائی میں ملے۔ یہ ’’خبر‘‘ دینے کہ کچھ ہی روز بعد نواز شریف کی چھٹی ہونے والی ہے۔ نواز شریف کی اس وقت تو چھٹی نہ ہوئی۔ مگر میری اس ملاقات کے چند روز بعد وہ ان کے وزیر بن گئے۔ ان کے وزیر بن جانے کے بعد ایک دن اچانک میاں صاحب نے قومی اسمبلی کی راہداریوں میں مجھے دیکھ کر پکارا۔ میں ان کے پاس گیا تو انھوں نے بڑے طنزسے جاننا چاہا کہ ’’اب‘‘ شیخ صاحب میری حکومت کو اور کتنے دن دے رہے ہیں۔ ‘‘ میں شرمندہ تو ہوا مگر ڈر بھی گیا۔ یہ سمجھنے کے بعد کہ میاں صاحب کی ’’انٹیلی جنس‘‘ کافی مضبوط ہے۔

تنہائی میں ہونے والی گفتگو بھی جان لیتی ہے۔ پھر نواز شریف بھی نہ رہے۔ جنرل مشرف آئے۔ اس کے بعد کی کہانی تو آپ سب کے لیے بہت تازہ ہے۔ کہنا مجھے صرف اتنا ہے کہ میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ پاکستان کی سیاست پاک صاف ہے یا نرا گند۔ ایک بات البتہ قطعیت سے کہہ سکتا ہوں کہ شیخ رشید احمد پاکستانی سیاست کی ایک ٹھوس پیداوار، کردار اور مثال ہیں۔ یہاں اس دھندے میں وہی کامیاب ہوتے ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ لوگ بھول جاتے اور معاف کر دیا کرتے ہیں۔ سیاستدان کو بس ڈھیٹ ہونا چاہیے اور مسلسل وہ کچھ بولتے رہنا چاہیے جو وہ ماضی اور مستقبل کے حوالوں کے بغیر عوام کی اکثریت ’’موجود‘‘ میں سننا چاہتی ہے۔ شیخ صاحب کو مبارک ہو۔ ’’تبدیلی کا نشان‘‘ بالآخر ان کی شرائط پر ان سے اتحاد وتعاون کے لیے تیار ہو کر شاہراہ انقلاب پر رواں دواں ہوگیا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔