زندہ خلیات کو انسانی ہاتھ پر منتقل کرنے والی تھری ڈی مشین

ویب ڈیسک  جمعـء 27 اپريل 2018
یونیورسٹی آف منی سوٹا کے ماہرین نے انسانی ہاتھ پر خلیات اور سرکٹ بنانے والا پرنٹر تیار کرلیا۔ فوٹو: بشکریہ سائنس ڈیلی

یونیورسٹی آف منی سوٹا کے ماہرین نے انسانی ہاتھ پر خلیات اور سرکٹ بنانے والا پرنٹر تیار کرلیا۔ فوٹو: بشکریہ سائنس ڈیلی

منی سوٹا: امریکی ماہرین نے ایک اہم اختراع کے طور پر ایسی تھری ڈی مشین بنالی ہے جو انسانی خلیات اور الیکٹرونک سرکٹس براہِ راست انسانی جلد پر منتقل کرسکتی ہے۔ اس طرح جلد کے امراض کے علاج کی انقلابی راہیں ہموار ہوسکیں گی۔  

اس عمل کےلیے ماہرین نے ایک نیا طریقہ وضع کیا ہے۔ روایتی تھری ڈی پرنٹنگ میں ڈیجیٹل فائل سے سہ جہتی (تھری ڈی) ٹھوس شے بنائی جاتی ہے اور اس کےلیے کئی مٹیریل استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ منی سوٹا کے ماہرین نے ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس طریقے میں مشین کمپیوٹر کی مدد سے دیکھتی ہے اور فوری طور پر اپنی حرکات کو تبدیل کرتی رہتی ہے۔ اس طرح یہ کم خرچ پرنٹر شے اٹھاتا ہے اور اسے رکھتا رہتا ہے۔

دوسری جانب اکثر پرنٹر سے جو مٹیریل نکلتا ہے وہ بہت گرم ہوتا ہے جسے انسانی ہاتھ پر براہِ راست نہیں ڈالا جاسکتا۔ اسی بنا پر جو تھری ڈی روشنائی بنائی گئی ہے وہ چاندی کے ذرات سے بنی ہے جو کمرے کے درجہ حرارت پر کام کرتی ہے۔ اب اس کے ذریعے انسانی جلد پر کوئی الیکٹرونک سرکٹ اور زندہ خلیات دونوں ہی سموئے جاسکتے ہیں۔

اس کے استعمالات بھی بہت زیادہ ہیں۔ کسی جنگ میں مصروف سپاہی کی جلد پر کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں سے خبردار کرنے والا برقی سینسر وقتی طور پر چھاپا جاسکتا ہے جسے سپاہی کے جسم سے لگے سولر سیل سے چلایا جاسکتا ہے۔ جنگ کے بعد فوجی اس سرکٹ کو اپنے جسم سے بہ آسانی اتار سکتا ہے۔

دوسری جانب خراب جلد اور ناسور پر صحت مند خلیات ڈال کر ان کے زخموں کو علاج بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایجاد پروفیسر مائیکل مِک الپائن اور ان کے ساتھیوں کی کاوش ہے جسے ہر فن مولا پرنٹر کہا جارہا ہے تاہم ماہرین نے اس کے کام کرنے کی بہت کم تفصیلات جاری کی ہیں۔

پروفیسر مائیکل کے مطابق یہ ایجاد ایک جانب انجینئرنگ اور دوسری جانب طبی استعمال میں انقلاب برپا کرسکتی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔