خدمت ِخلق کی عظمت

پروفیسر رائے اعجاز کھرل  جمعـء 27 اپريل 2018
ملازم کا اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دینا بھی خدمت خلق میں شامل ہے۔ فوٹو: فائل

ملازم کا اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دینا بھی خدمت خلق میں شامل ہے۔ فوٹو: فائل

انسان اجتماعیت میں زندگی بسر کرنا پسند کرتا ہے اور تنہا زندگی گزارنا اْس کی فطرت کے خلاف ہے۔ اسی لیے اسلام رہبانیت کا مخالف ہے بل کہ وہ تمام انسانوں کو باہم مل جل کر زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔

معاشرتی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور اشتراک کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس طرح ہر انسان پر دوسروں کے کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں اور ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے کچھ حقوق بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ان حقوق و فرائض کی ادائی خدمت خلق کی شکل اختیار کرتی ہے۔

خدمت خلق کے معنی مخلوق کے کام آنا ہے لیکن اسلام میں اس سے مراد اللہ تعالٰی کی رضا و خوش نودی کے لیے بلا کسی اُجرت اور صلے کے خلق خدا کے کام آنا اور امانت پر کمر بستہ رہنا ہے۔ اگرچہ عام طور پر خدمت خلق سے مراد کسی اُجرت اور لالچ کے بغیر بنی نوع انسان کی خدمت کرنا ہے لیکن اگر کوئی شخص چاہے تو اپنے کاروبار اور ملازمت بل کہ زندگی کے ہر پہلو میں خدمت خلق کی روح کو شامل کرسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک کاروباری آدمی اپنے کاروبار میں اگر دھوکا دہی، جھوٹ اور چور بازاری سے کام نہیں لیتا بل کہ دیانت داری سے ناپ تول کرتا ہے اور گاہکوں سے خوش خلقی سے پیش آتا ہے تو وہ بھی خدمت خلق کا فرض سر انجام دیتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص اپنی ملازمت کے فرائض دیانت داری سے انجام دیتا ہے تو یہ بھی خدمت خلق میں شامل ہے۔

قرآن حکیم نے مختلف طریقوں سے خدمت خلق کی تلقین کی ہے۔ ایک مقام پر نیک لوگوں کا وصف خدمت خلق ٹھہرایا ہے۔ اور وہ اللہ کی محبت کے لیے مسکین یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم کام یاب رہو۔ پھر صحابۂ کرامؓ کا وصف بیان فرمایا کہ مومن باوجود ضرورت کے دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔ ایک دوسرے مقام پر خدمت کی ایک صورت انفاق فی سبیل اللہ کی یوں تلقین کی کہ اور کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے اور یہ اس کے لیے کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا اور اس کے لیے پسندیدہ اجر ہے۔ پھر راہ خدا میں مال خرچ کرنے والوں کو قرآن حکیم میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ایسی ہی ہے جیسے ایک دانے سے سات بالیاں اُگیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہتعالٰی جسے چاہتا ہے کئی گنا بڑھا کر دیتا ہے۔

اگر مسلمان کسی وقت آپس میں اُلجھ پڑیں تو پھر ان کے درمیان صلح کرانا بھی خدمت خلق ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالٰی ہے کہ اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ ہمارے رسول اکرم ﷺ نے خدمت خلق کا بہترین نمونہ دیا ہے۔ آپؐ ہمیشہ سب کی مدد کرتے تھے۔ دراصل آپؐ کی تو پوری زندگی ہی خدمت خلق ہے۔ آپؐ کا یہ سنہری فرمان ہے کہ اللہ اس بندے کی مدد کرتا ہے جو دوسروں کی مدد کرتا ہے۔

اگر ہم اس فرمان عالی شان کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں تو ہماری زندگی بہت خوش گوار اور آسان ہوجائے گی۔ ہر انسان دوسرے انسان کی مدد کے لیے تیار رہے گا۔ سب سے اچھا کام وہ ہے جو دوسروں کے لیے کیا جائے۔ ہم جہاں دن رات اپنے کاموں میں لگے رہتے ہیں اور ان میں محنت کرتے ہیں وہاں اگر دوسروں کے کاموں میں بھی تھوڑا سا وقت دیں اور تھوڑی سی محنت کریں تو کتنا اچھا ہوگا۔ شاید آپ کے دل میں یہ خیال آئے کہ دوسروں کے کام کرنے سے ہمیں خوشی کیسے ملے گی ؟ تو تجربہ کرکے دیکھ لیجیے۔ بعض اوقات تو اپنے کام سے زیادہ کسی دوسرے کے کام آنے سے خوشی ہوتی ہے۔ یہ خیال ہمیں لذت اور راحت بخشتا ہے کہ ہماری ذرا سی توجہ سے کسی کا کام ہوگیا اور اس کو آرام و سکون و راحت ملی۔

رسول اکرمؐ کی تمام زندگی خدمت خلق کا شاہ کار تھی۔ بنی نوع انسان کی ہم دردی و خیرخواہی آپؐ کی فطرت تھی۔ اپنے اور بیگانے کی خدمت آپؐ کا شعار تھا۔ آپؐ ہمیشہ دوسروں کی تکالیف دیکھ کر بے چین ہو جاتے تھے۔ بیماروں کی عیادت کرتے۔ محتاجوں اور غریبوں کی مدد کرتے، بھوکوں اور مسافروں کو کھانا کھلاتے، غلاموں کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کرتے اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت و نگہہ داشت کرتے۔ غرض یہ کہ آپؐ کہ زندگی کا ہر پہلو خدمت خلق کا مظہر ہے۔

آپ ﷺ کسی کو تکلیف میں دیکھتے تو فوراً اس کی مدد فرماتے اس کا ہاتھ بٹاتے اور اس کو تسلی دیتے۔ ہم بھی اگر اپنے آقا ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کریں اور ایک دوسرے کے کام آنے لگیں تو سب کے کام آسان ہو جائیں گے۔ ہمیں آپ ﷺ کا یہ فرمان ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص ضرورت کے وقت اپنے بھائی کے کام آئے گا اللہتعالٰی اس کی ضرورت کے وقت اس کی مدد کرے گا۔ مدینہ منورہ کی لونڈیاں آپ ﷺ کی خدمت میں آتیں اور کسی کام کے لیے درخواست کرتیں تو آپ ﷺ فوراً اُٹھ کھڑے ہوتے اور ان کا کام کر دیتے۔ آپ ﷺ نے خدمت خلق کی بڑی تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ کا ارشادہے کہ تم مخلوق خدا پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ آپؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ بھولے بھٹکے یا اندھے کو راستہ بتانا بھی کار ثواب ہے۔

آپؐ نے فرمایا کہ مخلوق، خدا کا کعبہ ہے۔ بہتر شخص مخلوق میں وہ ہے جو خود خدا کے کنبے کے ساتھ احسان کی روش اختیار کرے۔ آپؐ نے فرمایا کہ راستے سے کانٹا یا دوسری ایذارساں چیز کو ہٹا دینا بھی کار خیر ہے۔ جو کوئی اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے گا خداتعالیٰ اس کے بدلے قیامت میں اس کی تنگی دور فرمائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا اور جو کوئی کسی تنگ دست پر آسانی کرے گا تو اللہتعالٰی دنیا و آخرت میں اس سے آسانی کرے گا۔ خداتعالٰی اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک کہ وہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ حضور ﷺ نے خدمت کو صدقہ قرار دیا ہے اور فرمایا کہ تمہارا اپنے بھائی سے ملاقات کے وقت مسکرا دینا بھی صدقہ ہے، اچھی بات کہنا اور بُری بات سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ کسی بھٹکے کو راہ دکھانا بھی صدقہ ہے، اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول میں پانی انڈیلنا بھی صدقہ ہے۔

تاریخ اسلام کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ آنحضور ﷺ کے تمام صحابہ کرامؓ بالخصوص خلفائے راشدینؓ خدمت خلق کو جزو ایمان سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ خدمت خلق کا جذبہ اُن کی زندگی میں پوری آب و تاب سے جلوہ گر نظر آتا تھا۔ اسلام میں خدمت خلق کا دائرہ بہت وسیع ہے اس میں اپنے، بیگانے، مسلم، غیر مسلم حتیٰ کہ حیوانات سے حسن سلوک کرنا بھی خدمت خلق میں شامل ہے۔ زندگی کے وہ تمام معاملات جن سے انفرادی یا اجتماعی لحاظ سے قوم و ملک کی اخلاقی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی زندگی میں مدد مل سکے خدمت خلق میں شامل ہیں۔ خدمت خلق کا جذبہ جسم میں روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر روح نکل جائے تو جسم بے کار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح خدمت خلق سے عاری انسان چلتی پھرتی لاش ہے۔ اس لیے اسلام نے ایما ن کی معراج خدمت خلق کو ٹھہرایا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔