آئی پی ایل نے سفید پوشوں کو بھی جواری بنادیا

اسپورٹس ڈیسک  منگل 16 اپريل 2013
بھارتی بکیز اپنے مالی معاملات پرتگال کے دارالحکومت لزبن سے چلانے لگے، ذرائع  فوٹو: فائل

بھارتی بکیز اپنے مالی معاملات پرتگال کے دارالحکومت لزبن سے چلانے لگے، ذرائع فوٹو: فائل

احمد آباد:  آئی پی ایل نے سفید پوشوں کو بھی جواری بنا دیا، ملازمت پیشہ افراد لیگ پر اپنی تنخواہیں لٹانے لگے، رواں سیزن میں 40 ہزار کروڑروپے کا جوا کھیلے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق انڈین پریمیئر لیگ نے ملازمت پیشہ سفید پوش طبقے کو بھی جوے کی لت لگا دی، عام نوجوانوں نے مذاق مذاق میں جواری بنتے ہوئے اپنی تنخواہیں لٹانا شروع کردی ہیں۔ بکیز کا کہنا ہے کہ اس بار آئی پی ایل ٹورنامنٹ میں 40 ہزار کروڑ روپے کا جوا کھیلے جانے کا امکان ہے، یہ گذشتہ سیزن سے 25 فیصد جبکہ 2012 میں گجرات اسمبلی کے انتخابات پر جوئے سے5 ہزار کروڑ روپے زائد ہے۔

بینک میں کام کرنے والے ایک نئے جواری نے بتایا کہ پہلے میں دوستوں کے ساتھ شرطیں لگاتا تھا مگر اب آئی پی ایل میچز پر منظم انداز میں داؤ کھیلنا شروع کردیے ہیں، گذشتہ روز میں نے ایک میچ کے نتیجے پر ایک ہزار روپے لگائے بدلے میں مجھے کامیابی پر2 ہزار ملے۔

بکیز کا کہنا ہے کہ اس وقت چھوٹے داؤ کھیلنے والوں کی تعداد کافی بڑھ چکی ہے،بکیز کم سے کم ایک ہزار روپے کا داؤ قبول کرتے ہیں جو ملازمت پیشہ افراد کو لبھانے کیلیے کافی ہے، اب بھی بڑے داؤ عادی جواریوں کی جانب سے کھیلے جاتے ہیں، ان کیلیے لاکھوں روپے جوئے میں جھونک دینا عام سی بات ہے مگر اس بار ٹرن آؤٹ میں اضافہ ملازمت پیشہ سفید پوش طبقے کی وجہ سے ہورہا ہے۔ سٹے بازوں سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق آئی پی ایل کے پہلے سیزن میں 6 ہزار کروڑ روپے کا جوا کھیلا گیا جو اس بار 40 ہزار کروڑ تک پہنچنے والا ہے۔

اس وقت حیدرآباد دکن ایک طرح سے جواریوں کا دارالحکومت بنا ہوا ہے، کھیل پر 20 فیصد جوا اسی شہر میں ہوتا ہے، اس کے بعد احمد آباد اور جے پور کا نمبر آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی پی ایل پر ہونے والے جوئے کا مرکز پرتگال ہے،زیادہ تر بھارتی بکیز اپنے مالی معاملات اس کے دارالحکومت لزبن سے چلاتے اور آئی پی ایل بیٹنگ بھی وہیںسے کنٹرول کی جاتی ہے۔

دوسری جانب پولیس کے مطابق اس کا اختیار صرف اپنے ملک تک محدود ہے، جبکہ بکیز کی جانب سے ہر وقت الگ موبائل استعمال کرنے سے بھی ان کو پکڑنا کافی مشکل ہے، ایک چھوٹا سا بکی بھی 15 موبائل فونز استعمال کرتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔